98

اللہ کو چن لیں

بزرگوں سے اک واقعہ سنا ۔کوئی اللہ کے سچے دوست تھے ان کے بہت سے چاہنے والے بھی تھے ایک مرید خدمت حاضر ہوئے اور عرض کیا
” میرے ساتھ میرا بیٹا ہے اک عرصہ سے بیمار ہے سفا نہیں مل سکی آپ دعا فر مائیں ِ”
بزرگوں نے دعا کے لیئے ہاتھ اٹھا دیئے ۔
اگلے ہی روزبیٹا شفایاب ہو گیا بالکل تند رست ہو گیا مزید سیا نا تھا واپس بزرگوں کے پاس دوڑا دوڑا آیا اور پھر عرض کیا
”آپ کو میں دیکھ رہاہوں کہ سالہا سال سے بیمار ہیں آپ اپنے لیئے دعا کیوں نہیں کرتے ؟ ،،
بزرگ فرمانے لگے
” ہاں دعا تو میں نے کی تھی جواب یہ ملا کہ پہلے یہ فیصلہ کر لو ۔ یہ وجود تمہار ا ہے یا ہمارا ہے اس نگرانی تمہیں کرنی یا ہمیں کرنی ہے اس بات کو چن لو اور حتمی فیصلہ کرلو تومیں دل ہی دل میں اپنے اللہ سے کہا ہم بھی آپ کے دل بھی آپ کا یہ جسم بھی آپ یہ روح بھی آپ کی جب آپ کو چن لیا تو پھر سارے اختیار بھی آپ کے ہی ہیں ”
جب مالک کا انتخاب آپ نے کر لیا تو پھرنہ سوال ہو نہ طویل ہو نہ پوچھ تاچھ ہو نہ ہی مداخلت جیسے وہ چاہیں وہ کریں سب کچھ ہے جو انہی کا ہے یہ ایک بڑا ہی خفیہ پرائیویٹ اور کسی کو نہ بتلانے والا تعلق ہے ا یسا تعلق جس کا آپ کے قریبی احباب یا گھر والوں کو بھی ہو سکتاپتہ نہ ہو اللہ کو چن لینے والا آرٹ اک ایسا فن ہے جو نہ ہی ہر کسی کو آتا ہے اور نہ ہی یہ ہر کسی کو عطا ہوتا ہے اک بار اس فن کی باریکیاں کسی پر کھل گئی تو یوں سمجھیں دنیا اور اس کے اند ر موجود ساری دولتوں کے خزانوں سے کہیں زیادہ مل گیا۔
ٰٰٰٰٰیہ اک ایسا حیرت انگیز اور سحر انگیز تعلق ہے کہ اس کی دنیا اس کا جہان ہی کوئی اور ہے ان دیکھا مگر دیکھا بھالا نہ سمجھ میں آنے والا مگر بالکل عیاں سب سے کمزور مگر سب سے مضبوط بھی ۔ کمزور اس لیئے کہ مجھ جیسوں کا ایمان تو چار آنے پر بک جاتاہے اوراصلی ایمان ہی اس کی بنیاد ہے مضبوط بھی یہی سب سے زیادہ ہے کہ بندہ سب کچھ اس پر قربان کرنے کو تیار ، صدیقین صالحین اور شہدا ء گردن کٹانے کو خوشی خوشی تیار یعنی سب سے مہنگابھی یہی اور بندے کی ناسمجھی کی وجہ سے معاذاللہ ارزاں بھی یہی ۔
اگر دروازہ پتھر کا ہو تو دستک ریاضت ہے لیکن دروزے کے پیچھے پتھر ہو تو دستک ہماقت دنیا دارمیں تو جیسے میں نے عرض کیا دروازے دستک اور سوالی کا ہی تعلق ہے مگر اللہ کیسا کریم ہے کہ جس کا دروازہ نہ ہی پتھر ہے اور نہ وہ کبھی بند ہوتا ہے کچھ ضرورتیں بھی عزت نفس رکھتی ہیں ان کے لیے بار بار ہاتھ نہیں پھیلائے جاتے محبت انسان کی ازلی اور ابدی ضرورت ہے اور ضرورت بھی ایسی کے جس کے بغیر نہ ہی گزارا نہ ہی کوئی چارہ نہ چارہ گر تو پھر محبت کیوں نہ ایسے مالک سے کریں جو ہاتھ پھیلانے کی نوبت ہی نہ آنے دے جو بن مانگے عطا کرے ۔ اس سے قبل کے سوال دل میں پیدا ہو وہ محبوب حقیقی سوال پور ا کرے ۔ طوفان میں کشتیاں اور گھمنڈ میں ہستیاں ڈوب جاتی ہے مگر جب اللہ جو چن لیا تو سارے گھمنڈ محبت کی لہر میں خسو خاشاک کی طرح بہہ گئے ۔یہ بڑی بڑی ہستیاں کشتیاں جلا کر آتی ہیں محبوب حقیقی کے پیار کو پانے کے بعد کس کا جی چاہے گاکہ وہ دنیا کے خود غرض تعلقات کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے کہ ایسا سوچنا بھی معاذا للہ عشق حقیقی کی توہین ہے ۔
زندگی میں انسو بھی ہیں التجائیں بھی ہیں دعائیں بھی بے فکریاں بھی ہیں بے راہ رویاں بھی ہیں تو کیوں نہ مالک کی یاد میں بہنے والے آنسو ہی چن لیں عمررواں میں آسائیش بھی ہیں تکلیف بھی ہیں ہم اپنے دوستوں کے لیئے آسانیاں پیدا کیوں نہیں کر سکتے احباب کے لیئے رشتہ داروں کے لیئے جنت دینے دلانے پر تو فورا آ جاتے ہیں مگر مال کی ایسی محبت دل میں ہے کہ اسے غریب رشتہ داروں پر خرچ نہیں کرتے یہ کیسی جنت ہے جسے قربانیوں کے بغیر حاصل کرنے کے لیئے ہر روز تیار رہتے ہیں مال کو چن لیتے ہیں محبت کو رحمت کو فضل کو درگرز کو دعا کو اور التجا کو عطا کو کیوں نہیں چنتے ؟ جب اللہ کا انتخاب کر لیا تو دو باتیں ہو ں گی ۔
*تسلیم ملے
*طاقت ملے
اگر تسلیم ملے تو بندہ بندگی پر آئے گا اپنا سب کچھ اللہ پر وار دے گا محبت کرے گا محبوب حقیقی کو پانے اور پا لینے کی جستجو کرے گا کہ وہ جان لیتا ہے کہ جستجو کو کبھی شکست نہیں ہوا کرتی ۔ اگر طاقت کو چن لیا تو پھر وہ نمورد والی ہامان والی شداد والی اور فرعون والی خوصوصیات کا حامل بنے گا ۔اب چن لینا اپنا اپنا اختیار ہے دونوں صورتوں میں مہلت موجود ہے مگر موت کے بعد نا ختم ہونے والی حقیقی اور اصلی زندگی میں نتائج بہت مختلف ہوں گے تسلیم والا کیا کرے گا معا ف کرنے کو چن لے گا حالانکہ یہ سچ ہے کہ کیسی کا دل توڑ کر معافی مانگنا بہت آسان ہے لیکن اپنا دل ٹوٹنے پر کسی کو معاف کرنے بہت ہی مشکل ہوتا ہے ۔جو معاف کرے گا اور اس پر اللہ کی رضا والی نیت کرے گا تو یوں سمجھ لیجیے کہ اس نے اللہ کو چن لیا ۔اور جس کی خوشی کے لیئے اس نے معاف کیا وہ یہ بات خوب جانتا ہے ۔بندہ آخر کیا چاہتا ہے ۔
*اللہ کا قرب مل جائے
*چلیئے دنیا دار ہو تو خوشیوں کا مرانیوں اور کامیابیوں ہی کا طالب ہو گا ۔
*آپ قلب کی صفائی چاہتے ہیں خواہش ہے کہ دل سے دنیا کا گند نکل جائے ۔
*احسان کرنے والے بن کر جینا چاہتے ہیں ؟
*اللہ ہی کے لیئے دوستی اللہ ہی کے لیئے دشمنی چاہتے ہیں ۔
*عحب اور کبر سے بچنا چاہتے ہیں
*سچی تونہ کرنا چاہتے ہیں
*لمبی لمبی آرزئوں سے بچنا چاہتے ہیں ؟
*توکل چاہتے ہیں ؟
*اللہ کی صفات جاننا چاہتے ہیں
*دیدار خداوندی کے طالب ہیں
*زندگی میں مال میں صحت میں ایمان میں برکت کے خواہش مند ہیں ۔
*گناہ کو کفر کا پیش خیمہ سمجھتے ہوئے اس سے بچنا چاہتے ہیں
*اپنے خالق سے مانوس ہونے کو جی چاہتا ہے ؟
*کیا عارف بااللہ بننا مقصود ہے
*نفس کی سرکشی سے بچنا چاہتے ہیں ۔
تو پھر اپنے اللہ کو چن لیں ہر خواہش اس کی مرضی کے تابع ہو جائے ۔ ہر دم ہر آن ہر گھڑی اللہ کو یاد کریں اسی کے نام کی مالا جپتے رہیں اور یہاں اک بات بہت ہی ضروری ہے کہ اللہ کو جب بہت یاد کیا ۔ راتوں کے پچھلے پہر بھی بڑی محبت سے یاد کیا دل ہی دل میں پیار بھری باتیں بھی کر لیں تو کبھی بھی اسے ان یادوں کا احسان نہ جتلانا۔
اگر کسی روز بندہ غم دوراں غم ہجراں اور غم دنیا سے گھبرا کر یا یونہی کسی خوشی نصیبی کی وجہ سے اللہ جل شانہ کا انتخاب کرنا چاہیں (اور یہ کیسا دلکش دلکشا اور دل نشیں انتخاب ہو گا) تو کچھ عرصہ بعد تو ہی تو والی کیفیت طاری ہو سکتی ہے میں ناہیں سب توی والا معاملہ قسمت سے ہوتا ہے نصیبوں سے ملتا ہے دراصل اس جہاں پر اگر تھوڑا سا بھی غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر کثرت وحدت کی طرف جا رہی ہے ایک پودا اگتا ہے اس پر بالیا اگتی ہیں ایک ایک بالی میں کئی کئی دانے ہوتے ہیں ۔انہی میں سے دانہ دانہ کسان پھر زمین کے حوالے کرکے آ جاتا ہے ۔
میں اپنی تسبیح روزو شب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ اب کسان کی ڈور اللہ پر ہے پھر اس سے کئی سودانے وجود میں آ جاتے ہیں اس دنیا کے پہاڑوں مر عزاروں اور کہساروں کی کثرت اللہ کے کن کی بدولت ہے مگر یہ سب نظاریایک سی کی طرف اک روز لوٹ جائیں گے تو ہر کثرت وحدت کی طرف مراصعبت اختیار کرتی ہے اور اس کائنات ٍہر چیز میں اللہ جل شانہ کی وحدت چھپی ہوئی ہے اور آشکار بھی ہے تو بہت سی سمتوں بہت سی جہتوں اور بہت سی راہوں کی بجائے اسی وحدت ہی کو کیوں نہ چن لیں ایک ہو کر جو بے شمار ہو ایک ہو کر بھی جس کی گنتی نہ ہو سکے کیوں نہ اسکا ہی انتخاب کر لیں ۔
ایسا کرنے سے کیا ہو گا ؟ اگر فرد ایسا کرے گا تو اس کی زندگی میں سکون آئے گا اطمینان دل میں ڈیرا بسائے گا حاصل یہی بندہ جو واویلا کرتا تھ مطمین اور مسرور رہے گا اور فلاح پائے گا اگر معاشرہ ایسا کرے گا تواس کی بہترین مثال معیثت کے وقت والے مگر معظمہ کی ہے غیر مسلم دانش ور بھی اس بات پر حیران ہیں کہ اک انتہائی بگڑے ہوئے معاشرے میں جب چنے ہوئے لوگ پیداہوئے جنہوں نے واحدنیت کو چن لیا اور تین سو پینسٹھ بتوں کو رد کر دیا تو یہی معاشرہ پوری دنیا کو زندہ رہنے کے زریں اصول بتلانے والا بن گیا کہ انہوں نے ایک اکیلے تن تنہا اللہ کو چن لیا اور سینکڑوں بتوں کو اپنی زندگی سے نکال باہر کیا ۔
انتخاب مکہ میں رہنے والے ایمان لانے والوں کا تھا ۔ رحمتہ اللعالمین کو بھیجنا اللہ کا کام تھا اللہ تو وہی ہے آج بھی اگر ہمارا معاشرہ اس کو چن لے اس ایک کو منتخب کر لے تو اقوام عالم میں ہمارا قد کاٹھ سب سے اونچا ہو سکتا ہے پھر کیا ہو گا ؟ پھر یہی بحران جو ہر روز در پے آزار رہتے ہیں معاشی سیاسی سماجی مسائل پیدا کرتے ہیں یہی بحران نئے نئے مواقع پیدا کریں گے یہ مشکلات یو دن رات گھیرے میں لیے رہتی ہیں انہی کے درمیان سے کامیابی کی طرف جانے والاے نکلیں گے مگر جب انتخاب ہی غلط ہو جب چیزوں کو انتخاب کیا جائے جب دنیاوی خواہشات اور لمبی لمبی آرزئوں کی کوئی حد ہی نہ ہو اور کوئی سرحد ہی نہ ہو تو اللہ کیسے ملے ؟
صیح اور سچل انتخاب ہی روکاوٹوں والی دیوار میں آپکے لیئے اک دروازہ کھولتا ہے تعلق بن جائے اور پھر مضبوط ہوتا رہے تو اس دروازے کے کواڑبند نہیں ہوتے محبتیں ہی یہ کواڑ کھولتی ہیں اور ان کی کمی کی وجہ ہی سے یہ بند ہوتے ہیں خواہشات زندگی کی جڑ ہے خواہش ہو گی تو چن لینا آسان ہو گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں