23

چوہدری برادران کا مستقبل

جاوید ملک

کاش اس قدر لاچار،بیبس اور ٹوٹے ہوئے چوہدری شجاعت کو میں نے نہ دیکھا ہوتا ،جو ہوا اچھا یا برا اس کا فیصلہ وقت پر چھوڑ کر چوہدری شجاعت اپنے مخصوص جملے مٹی پا کے ساتھ آگے بڑھ جاتے تو کتنے بھرم ٹوٹنے سے بچ سکتے تھے وہ ساری تلخیاں مونس الہی کا ہاتھ جوڑ کر رشتہ بچانے کی استدعا اور چوہدری سالک کا رشتہ بچا کب ہے کا طعنہ سب سمٹ سکتے تھے مگر پھر شاید طارق بشیر چیمہ کو اس دراڑ ڈالنے کی منہ مانگی قیمت مسلم لیگ نون سے نہ مل پاتی اس لئیے یہ تماشہ شاید ان کیلئے ضروری تھا بہت ضروری۔چوہدری شجاعت حسین سے پہلی بار میں دو ہزار ایک نظامت کے انتخابات کے دوران اٹک میجر طاہر صادق کی رہائش گاہ پر ملا تھا بعدازاں مسلم لیگ ق کے دور حکومت میں ان سے ملاقاتوں کا تسلسل رہا وہ بہت محبت کرنے والے وضع دار انسان ہیں نہ جانے چیمہ نامی وائرس نے ان کو کیسے اتنا مجبور کر دیا کہ سب کو جوڑنے والے چوہدری شجاعت اپنے خاندان کو ہی تنکوں کی طرح بانٹ بیٹھے۔لیکن اس بے بسی کی عمر ہفتہ دس دن ہر گز نہیں ہے مجھے یاد ہے کہ جب دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے بعد وفاق میں تحریک انصاف نے حکومت تشکیل دی تو وزارت ہاسنگ کا قلمدان طارق بشیر چیمہ کو ملا صحافیوں سے ان کی پرانی رنجش ہے اور اقتدار میں آتے ہی کینہ پرور شخص کتنا خطرناک ہو جاتا ہے مجھے مشاہدہ ہوا انہوں نے فوری طور پر ان صحافیوں کی ناک میں دم کردیا جنہوں نے سرکاری رہائشیں الاٹ کرا رکھی تھیں صحافیوں نے اس پر اجتجاج کیا مجھے وہ دن نہیں بھولتا جب نعیم الحق مرحوم جن کے
کینسر کا علاج چل رہا تھا ہسپتال سے سیدھا اس اجتجاج میں پہنچ گئے وہ سخت نڈھال تھے سب کو فون کئے گئے وزیر اعظم ہاس سے صحافیوں کو فوری بے گھر نہ کرنے کا پروانہ جاری ہوا لیکن طارق بشیر چیمہ کی انا سب سے بڑی تھی اور اس کو اس وقت تک تسکین میسر نہیں آنی تھی جب تک صحافیوں کا سامان اٹھا کر باہر نہ پھینک دیا جاتا اجتجاج کے دوسرے روز میں نے چوہدری شجاعت حسین کو کال کی اور حالات
سے آگاہ کیا لیکن اس وقت بھی میں نے انہیں مجبور پایا پھر چشم فلک نے دیکھا کہ بہاولپور کے اس سیاستدان نے بہ زور طاقت شاہد میتلا،صدیق انظر اور دیگر کئی صحافیوں کے گھروں سے سامان اٹھوا کر باہر پھینک دیا ہاسنگ منسٹری کے غنڈوں نے پرویز شوکت جیسے سینئر صحافی راہنما کو جو متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آئے تھے اس بے دردی سے گھسیٹا کہ دیکھنے والوں کا کلیجہ حلق میں آ گیا اس روز میں نے دکھ سے کہا تھا کہ آج اس شخص نے چوہدری برادران کی وضح داری،رکھ رکھا اور محبت کی سیاست کو مٹی میں ملا دیا ہے اور یہ مستقبل میں چوہدریوں کیلئے مزید نقصانات کا مجب بنے گا مگر وہ نقصان اتنا بڑا ہوگا میں اس وقت تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔گزشتہ
روز ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں جب طارق بشیر چیمہ اور چوہدری وجاہت حسین کے درمیان ٹاکرا ہوا تو چوہدری وجاہت نے جھنجلا ہٹ کے ساتھ آخر کار کہہ ہی دیا کہ طارق بشیر چیمہ تم ہمارے خاندان کی جان چھوڑ دو میں جانتا ہوں گلے شکووں کی یہ دیوار زیادہ دیر تک چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز کو دور نہیں رکھ سکے گی اور وقت یہ ثابت کرے گا کہ مونس الہی کا فیصلہ درست تھا کیونکہ جماعتیں جب سمٹتے سمٹتے ایک چار دیواری کی اندر سمٹ کر رہ جائیں تو پھر کچھ انقلابی اقدامات اٹھانا پڑتے ہیں مسلم لیگ ق میں آج بھی بہت جان ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اسے عوامی جماعت بنانے کی طرف کبھی قدم بڑھایا ہی نہیں گیا پنجاب کے چار سے پانچ اضلاع تو ایسے ہیں جہاں تھوڑی سی محنت حیران کن نتائج برآمد کر سکتی ہے چوہدری مونس الہی کی انگلیاں بدلتی سیاست کی نبض پر ہیں اور وہ جماعت کو ڈرائنگ روم کی سیاست سے باہر نکالنا چاہتے ہیں ان کے موجودہ فیصلے میں بھی یہ ہی پہلو نمایاں تھا اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہونگے لیکن اس کیلئے ضروری یہ ہے کہ دونوں چوہدریوں کے درمیان برف پگھل جائے اگر ایسا نہ ہوا تو دونوں تنہا چوہدری بڑی جماعتوں کے ریلے میں کہیں کھو جائیں گے کیونکہ طاقت کا توازن بگڑتے ہی چوہدری پرویز الہی پنجاب کے برائے نام وزیر اعلی رہ جائیں گے اور آنے والے انتخابات میں یہ خاندان اپنی سیاسی چال بھی نہیں بنا پائے گا اس وقت مٹی پھر معاملات پر نہیں سروں پر ڈالنی پڑے گی اس لئیے جتنی جلدی دونوں چوہدری گلے مل لیں اتنا ہی اس خاندان اور جماعت کے مفاد میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں