Muhammad Muhstaq 24

مذہب سے واقفیت

انٹرنیٹ پر دستیاب ذرائع کے محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ہماری دنیا تقریباً 7 ارب اور 90 کروڑ انسانوں سے رنگی ہوئی ہے۔ اسی دنیا میں 1960 میں تقریباً 3 ارب سے کچھ زائد لوگ بستے تھے اور زندگی اور موت کی موجودہ شرح کے حساب سے 2055 میں تقریباً 10 ارب انسان اس دنیا کو اپنی حاضری سے مزین کیے بیٹھے ہوں گے اور اسی طرح یہ سلسلہ خالق کائنات کی عین منشا کے مطابق قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔

انسانوں کی اتنی بڑی تعداد اس روئے زمین کے مختلف خطوں میں پھیلی ہوئی ہے جن کی لوکیشن کو سمجھنے کےلیے کبھی براعظم کا حوالہ دیا جاتا ہے پھر ان کے ملک کا حوالہ دیا جاتا ہے اور اب تو گوگل میپ اور گوگل ارتھ نے ہر ایک جگہ اور پوائنٹ کو اس کے جی پی ایس کوآرڈی نیٹس کے ذریعے ایک ایسی فکس پن لوکیشن دے دی ہے جس کے ہوتے ہوئے کسی سے راستہ پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور کوئی بھی آدمی کسی بھی جی پی ایس ایڈریس پر بہت آسانی سے پہنچ جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک حیرت انگیز کام ہے جس سے سب لوگوں کو بہت آسانی ہوئی ہے۔ اسی طرح جب اتنے سارے لوگ دنیا کے مختلف کونوں میں بستے ہیں ان کی سوچ، ان کی معاشرت اور لباس بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں، ان کے ہیرو، ان کے ولن، ان کے ساتھی اور ان کے مخالف بھی الگ الگ ہیں۔

اس سارے نظام زندگی میں لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں جہاں دیگر عناصر (جیسے ان کی رشتے داریاں، زبان، علاقہ اور ثقافت) شامل ہیں، وہیں پر لوگوں کے مذہب کا بھی اس میں بہت بڑا کردار ہے۔ ایک ہی مذہب سے وابستہ لوگ دنیا کے کسی بھی مقام پر موجود ہوں وہ اپنے آپ کو ایک ہی برادری تصور کرتے ہیں اور ان کے مذہب سے وابستہ کمیونٹی کو جہاں کہیں بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو وہ اپنے ممالک میں ان کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں تاکہ ان کی اپنی حکومت پر دباؤ کے ذریعے عالمی سطح پر اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کیا جاسکے۔ اس بات کا مطلب یہ کہ مذہب کا رشتہ بہت مضبوط رشتہ ہے کیوں کہ اس میں رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی ترجیحات پیچھے رہ جاتی ہیں اور مذہب کا رشتہ سب سے پہلے آجاتا ہے۔

اس دنیا میں ایک محتاط اندازے کے مطاق تقریباً چار ہزار سے زائد مذاہب یا افکار موجود ہیں، جن کے مطابق لوگ زندگیاں گزار رہے ہیں۔ ان میں سے پھر تقریباً بارہ مذاہب کے زیادہ فالوورز ہیں اور ان بارہ میں سے بھی تین مذاہب ایسے ہیں جن کے ساتھ آبادی کی اکثریت منسلک ہے۔ ان میں سب سے زیادہ فالورز عیسائیت کے ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 31 فیصد سے زائد ہیں، اس کے بعد اسلام کا نمبر آتا ہے جس کے ساتھ وابستہ آبادی کی تعداد تقریباً 25 فیصد کے قریب ہے، تیسرے نمبر بھی ہندو مذہب ہے جس کے ماننے والوں کی تعداد تقریباً 15 فیصد سے زائد ہے۔ یہ تین بڑے مذاہب دنیا کی مجموعی آبادی (جو کہ تقریباً آٹھ ارب کے قریب پہنچنے والی ہے) کا تقربیاً 70 سے 72 فیصد بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کی آبادی کا تقریباً 15 فیصد سے کچھ زائد حصہ ایسا ہے جو کسی بھی مذہب سے باقاعدہ وابستہ نہیں ہے، جن کو چاہے سیکولر کہیں، لادین کہیں یا کچھ بھی وہ کسی مذہب، افکار اور خیال کو ماننے والے نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر گنتی کے مذاہب میں بدھ ازم، جین ازم، تاؤ ازم، کنفیوشزم وغیرہ جن کے ساتھ مختلف علاقوں کی کچھ آبادی منسلک ہے۔

الحمدللہ! ہم مسلمان ہیں اور اللہ نے ہم پر احسان عظیم فرمایا کہ اس آٹھ ارب کی آبادی، جس میں 7 براعظم، 200 کے لگ بھگ ممالک اور 4 ہزار کے قریب مذاہب ہیں، ہمیں اپنے چنے ہوئے پسندیدہ مذہب اسلام اور اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک پاکستان میں اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا۔

اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ مکمل دین ہے اور کامیاب زندگی گزارنے کا سب سے آسان اور سیدھا راستہ ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں جس پر چل کر دونوں جہانوں میں کامیابی سمیٹی جاسکے۔ اس حوالے سے جو کام ہمارے بس میں نہیں تھا وہ یہ تھا کہ ہم نے پیدا کہاں پر ہونا ہے، تو سب سے مشکل مرحلہ ہمارے اللہ نے ہی ہمارے لیے حل کردیا اور ہم کو اسلام کے پیروکاروں کے گھر میں پیدا فرمادیا اور دونوں راستے ہم پر اپنے پیغمیروں کے ذریعے کھول کر رکھ دیے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ نے دین کا پورا نمونہ ہمیں اپنی عملی زندگی میں دکھا دیا۔ اس لیے اب یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہمارے ذمے جو کام لگائے گئے وہ ممکن نہیں ہیں۔ اس حوالے سے بات یہ ہے کہ اگر ہم نے کوئی کام کرنا ہے تو ظاہر ہے پہلے اس سے واقفیت اور آگاہی ضروری ہے کیوں کہ اس کے بغیر تو وہ کام ہو ہی نہیں سکتا۔

ہمارا مذہب اسلام ہماری دنیا کو دین سے الگ نہیں کرتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ ہم نے دنیا دین کی تعلیمات کے مطابق گزارنی ہے۔ جو دنیاوی کام ہم دین کے مطابق یعنی حضورؐ کی سنت کے مطابق کریں گے وہ کام بھی ہو جائے گا اور ہمیں ثواب بھی ملے گا، ورنہ ہم ثواب سے محروم رہ جائیں گے۔

مذہب ایک وسیع معاملہ ہے جس کی بنیادی اور اہم دو شاخیں ہیں، ایک عبادات اور دوسری معاملات۔ پہلی شاخ کا تعلق بندے اور اس کے رب سے ہے، یعنی اس کی عبادت کرنی ہے اور عبادات کی تعداد اور اوقات ہمیں پہلے سے فکس بتا دیے گیے ہیں جن میں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ۔ ان میں خشوع و خضوع اور اخلاص جتنا زیادہ ہوگا عبادات کی قبولیت اتنی زیادہ ہوگی۔ مذہب کی دوسری شاخ ہمارے معاملات کو دیکھتی ہے اور اس حوالے سے ہمارا مذہب جو تعلیمات ہمیں دیتا ہے اگر اسی کے مطابق ہم معاملات کو دیکھیں گے تو یہ معاشرہ ایک پرامن معاشرہ ہوگا، انس و محبت کے دھارے بہتے رہیں گے اور اخلاق کے اعلیٰ درجے پر ہم فائز ہوں گے۔ بصورت دیگر معاشرے میں افراتفری کا دور دورہ ہوگا، جس کا مشاہدہ ہماری گناہ گار آنکھیں آج کل کر رہی ہیں۔

ہم نے معاملات کو دین سے نکال کر اپنی مرضی اور منشا کا لباس پہنا دیا ہے، اس لیے آج ہر انسان کو صرف اپنی فکر ہے، دوسرے کے حقوق سے اسے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی بھی سب سے بڑی وجہ ہماری اپنے مذہب سے دوری اور ناواقفیت ہے۔ جب ہمیں ان تعلیمات کا پتہ ہی نہیں ہوگا تو ہم اس پر عمل کیسے کریں گے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے مذہب سے کم از کم اس حد تو واقفیت حاصل کریں کہ اپنی فرض عبادات اور معاملات کو اس کے مطابق ادا کرسکیں۔ اس حوالے سے والدین، اساتذہ اور علمائے کرام کا کردار بہت بنیادی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ آج ہمارے بچے اور نوجوان نسل اس حوالے سے بہت سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور دنیاوی تعلیم اور ملازمت کے چکر میں ہی خود کو پھنسا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔

آج ہمارے معاشرے میں جو افراتفری پھیلی ہوئی ہے، بہتان تراشی کا جو بازار گرم ہے، کرپشن جو معاشرے میں رچ بس چکی ہے، بڑے چھوٹے کی تمیز ختم ہوچکی ہے، سودی نظام نے جو ہمارے معاشرے کو جکڑ رکھا ہے اور اپنے حقوق بزور بازو چھیننے اور دوسرے کے بھی حقوق غصب کرنے کی جو روایات معاشرے میں پنپ چکی ہیں، وراثت سے عورتوں کو حصہ نہ دینے کے قاعدے قانون جو یہاں رواج پا چکے ہیں۔ لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دینے کے خیالات جو ہمارے ذہنوں میں گھر کرچکے ہیں، مخالف رائے رکھنے والے کو غدار، چور، ڈاکو بنا دینے کا جو سلسلہ چل نکلا ہے، میڈیا پر اسلامی تعلیمات کے منافی جو پروگرام دھڑا دھڑ چل رہے ہیں، یہ جو ہر کوئی اپنے مخالف کو کچل دینے کے درپے ہو چلا ہے، اس سب کے پیچھے ہماری اپنے سچے اور لافانی دین سے ناواقفیت ہے اور جو تھوڑا بہت واقف بھی ہیں اس پر عمل پیرا ہونے کو تیار نہیں۔ لیکن یاد رکھیے راستہ ایک ہی ہے، دوسرا کوئی نہیں اور وہ ہے قرآن اور سنت۔ اس کے علاوہ صرف بدامنی، بے سکونی اور آخر میں ناکامی ہے۔ آئیے اس راستے کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ والدین، اساتذہ اور علما اپنا کردار ادا کریں اور اپنی نسلوں کا حال اور مستقبل کامیاب بنائیں۔ ہماری کوشش تو پورا کا پورا دین سمجھنے کی ہونی چاہیے لیکن کم از کم اس حد تک تو بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی کامیابی کے راستے پر ڈال سکیں اور جو احسان اللہ نے ہم پر فرمایا ہے اس کا کچھ تو حق ادا کرسکیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہماری سیاست بھی ٹھیک ہوجائے گی، ہماری معیشت بھی سدھر جائے گی، ہمارا بلڈ پریشر اور شوگر بھی کنٹرول ہوجائے گا اور ہمیں ہر دوسرا انسان اپنے سے زیادہ بہتر محسوس ہونے لگے گا۔ اور وہی دن ہوگا جب ہماری ریاست بھی ٹھیک ہوجائے گی اور اس کے باشندے بھی سدھر جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں