30

فوج ،پاکستان اور جمہوری تماشہ

خالد بلوچ

جمہور کے معنی ہیں عوام غالباً یہ لفظ یونانی زبان کا ہے۔ اور جمہور کی طاقت اور جمہور کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے جمہوری آزادی رائے جمہوری حقوق مطلب جمہور کے تمام حقوق کے علاوہ جمہور کے چواسی سے ایک پارلیمنٹ کا انتخاب اور جمہور کی نمائندگی شامل!! گویا دنیا میں زیادہ ترممالک نے جمہوریت جیسے نظام کو پسند کیا۔ اور اپنے ممالک میں نافذ کیا۔ آج دنیا میںاگر بہترین جمہوریت ،جمہوری نظام قائم ہے تووہ برطانیہ میں ہے۔ جہاں آج بھی کچی پنسل سے آپ اپنے امیدوار کو بیلٹ پیپر پر نشان لگاتے ہیں۔اور نیچے کونسلر ز باروز سے لیکر پارلیمنٹ تک پورے جمہوری اصول و ضوابط سے یہ نظام جاری و ساری ہے۔ پاکستان کو معرض وجود میں آئے تقریباً 75سال کو عرصہ ہو چکا ہے۔ اور یہاں بھی جمہوری نظام اور فوجی تقریباً ساتھ ساتھ چلتے آرہے ہیں۔ یوں تو پاکستان میں بے شمار سیاسی جماعتیں ہیں اور بظاہر وہ بھی جمہور کا نعرہ ہی لگاتی ہیں۔ پاکستان میں یوں تو ں آدھا وقت فوجی مارشل لاء ز کی زد میں رہا اور اس کے نتیجہ میں مشرقی پاکستان کا ایک بڑا حصہ گنوا دیا ۔ اور آج بھی فوجی جنرنیل ہی پاکستان کی تقدیر کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی ،جمعیت علماء اسلام ، پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان تحریک انصاف بڑی سیاسی جماعتیں ہیں۔ اور اس کے علاوہ پاکستان آرمی ایک مضبوط طاقتور اور انتہائی تنظیم جماعت ہے جو کبھی خودمارشل لاء کی شکل میں پاکستان کا اقتدار چھین لیتی ہے اور کبھی ان جماعتوں جو کہ خود کو سیاسی جماعتیں کہلاتی ہیں۔ ان کی شکل میںپاکستان کے آرمی جرنیل ہی پاکستان پر حکومت کرتے ہیں ۔اور پاکستان کے جمہوری نظام میں پاکستان کے تمام ادارے بشمول عدلیہ، انتظامیہ ، الیکشن کمیشن سبھی ہاتھ باندھے غلام ہیں!!
الیکشن کمیشن پاکستان نے سیاسی جماعتوں کیلئے کچھ ضابطے بنا رکھے ہیں۔ جن پر کبھی بھی عمل نہیں ہوا۔پارٹی الیکشن بھی اُن میں شامل ہے۔ جس پرکبھی بھی کسی بھی سیاسی پارٹی نے عمل نہیں کیا ۔اور ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ہی پارٹی کے الیکشن ہو جا تے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جمہوری سیاسی پارٹیاں جتنی بھی ہیں ۔وہ انتہائی غیر جمہوری ہیں اور پاکستان کی جمہوریت اور بادشاہی نظام میں انتہائی مشابہت ہے جس کی مثال جمعیت علماء اسلام کے مولانا مفتی محمود لیڈر تھے اور آج اُن کا لیڈ ر مولانا فضل الرحمان جو کہ اُن کے بیٹے ہیں۔ اور ان کی وفات کے بعد ان کا بیٹا اسد محمود لیڈر بن جائیگا ۔پاکستان مسلم لیگ (ن)کا لیڈر میاں نواز شریف جو کہ تین بار پاکستان کے وزیراعظم اس لئے رہا کہ وہ خود ساختہ پارٹی کا ہیڈ تھا۔اور اُن پر اربوں کی کرپشن ثابت ہوگئی اور جیل جانا پڑا لیکن سول حکومت کے ہیڈ جنرل باجوہ اور دیگر فوجی ٹولے نے
عدلیہ نے ان کو لندن بھجواد یا۔ اور آج وہ لندن میں بھگوڑہ ہو تے ہوئے پاکستان کی حکومت کو کنٹرول کر رہا ہے۔ جبکہ اُن کا بھائی اور ن لیگ کے صدر شہباز جن پر 210ارب روپوں کی منی لانڈرنگ کا کیس چل رہا ہے اور اُن کا بیٹا بھی ان کے ساتھ شامل ہے ۔وہ وزیراعظم اور اُن کا بیٹا وزیراعلیٰ پنجاب ہے۔ پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو شہید اس کے سربراہ تھے اُن کے بعد اُن کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید چیئر پرسن ہوئیں اُن کی شہادت کے بعد اُن کے خاوند آصف علی زرداری پارٹی کے ہیڈ بن گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم بنے اور فوجی جرنیل کے ہتھے چڑھ گئے۔ اور ان کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔محترمہ بے نظیر بھٹو شہید دوبار پاکستان کی وزیراعظم بنیں اور بالآخر اُن کو روالپنڈی کے لیاقت باغ میں شہید کر دیا گیا۔ اس طرح آصف علی زرداری پاکستان کے صدر اور پیپلز پارٹی کے وزیراعظم بنائے گئے۔ بالآخر پاکستان تحریک انصاف جس کے چیئر مین عمران خان ہیں اور یہ تنظیم گذشتہ 24برس سے معرض وجود میں آئی اور آج بھی اس کے چیئرمین عمران خان ہی ہیں۔ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے اور دو خاندانوں سے جمہوریت آزاد ہوئی اورتحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ۔ پاکستان سے چالیس سال کے بعد دو خاندانوں کی بادشاہت کا خاتمہ ہوگیا۔
عمران خان پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ پاکستان پر گذشتہ چالیس برس تک حکمرانی یا بادشاہت کرنے والی پارٹیاں جو کہ خود فوجی جرنیلوں کے ایمان پر دھونس دھاندلی سے اقتدار میں آتی رہیں تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ فوجی آقا عمران سے مل گئے ہیںاور ہمیں نکال باہر کیا ہے۔اس لیے انہوں نے ایک تحریک چلائی جس میں پاکستان کی تمام جماعتیں سوائے جماعت اسلامی کے PDMکے پلیٹ فارم پر اکھٹی ہوگئیں۔ اور پاکستان کے فوجی جرنیلون اور عمران خان پر سیاسی وار کرتے رہے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ ہمیشہ خود فوجی بوٹوں کی پالش سے آتے ہیں ۔ان دونوں جماعتوں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے پاکستان کو گویا دونوں ہاتھوں سے اتنا لوٹا کہ پاکستان غریب ترہوتا چلا گیا۔ لوڈ شیڈنگ ،بھوک ، بیماری ، بے روزگاری ،تنگدستی ،پاکستان کا مقدر بن گئی ۔چائنہ ہم سے بعد میں آزاد ہوااور آج چائنہ دنیا کا امیر ترین ملک بن گیا ہے۔ اور پاکستان کی آج حالت اتنی خراب ہو چکی ہے کہ ڈیفالٹ ہونے کا شدید خطرہ ہے”۔آج پاکستان انتہائی
مہنگائی کشیدگی اور تباہ حال معیشت کی طرف اپنی پوری رفتار سے گامزن ہے۔ زندگی میں جمہوری مارشل لاء اور فوجی مارشل لاء تو دیکھے تھے۔ لیکن پاکستان اور اس کے بائیس کروڑ عوام کیساتھ پاکستان کے مسٹر قمر جاوید باجوہ چیف آف آرمی سٹاف پاکستان آئی ایس آئی کے ڈی جی اور چند دیگر جرنیلز پاکستان کا میڈیا ، پاکستان کی عدلیہ ،پاکستان کا الیکشن کمیشن پی ڈی ایم کی گیارہ جماعتیں اور چند اتحادی جماعتوں جن میں پاکستان کی ایک مذہبی جماعت جس کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی شامل ہیں۔ کو امریکہ نے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا ۔اور عدم اعتماد کے ذریعے تحریک انصاف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا ،اور پاکستان کی یا پھر شاید پوری دنیا کی تاریخ میں پہلی بارکریمینل قیدی جو ضمانتوں پہ ہیں اور انتہائی کرپٹ ارکان پر حکومت قائم کردی گئی۔ یوں گذشتہ 8/9ہفتوں میں پاکستان سیاسی ،معاشی ،طور پر پوری طرح غیر مستحکم ہو چکا ہے اور امریکن رجیم چینج کے پس پردہ کیا عزائم ہے ۔جو کہ ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جن میں ایک غیر مستحکم پاکستان ،امریکن اورآئی ایم ایف کی غلامی ،اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا ،ہندوستان کے تابع رہنا اور پاکستان کو ڈیفالٹ کر کے اس کے جوہری ثاثوں تک رسائی حاصل کرنا شامل ہے۔ اور اسطرح کے کچھ اور عزائم ۔
بات ہو رہی ہے جمہوریت اور جمہوری تماشہ کی ۔ یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ پاکستان میں روز اول سے لیکر آج تک جمہوریت کا لبادہ پہن کر کسی نہ کسی شکل میں پاکستان کے طاقتور جرنیل ہی قابض ہیں۔ اور انہوں نے پاکستان کے اداروں ،عوام اورنظام کو دبوچا ہوا ہے۔ پاکستان میں کسی طرح بھی جمہوریت یا جمہوری نظام نہیں ہے اور پاکستان میں فوجی جمہوریت ہے۔اگر فوجی مداخلت اور سیاسی پارٹیوں پر موروثی سیاست پر پابندی اور حقیقی جمہوریت کانظام نہ لایا گیا جو کہ ممکنات میں نہیں ہے ۔ تو پاکستان کے وجود کو خطرہ ہے ۔اور بھوک ،بیماری ،تنگدستی ،بے روزگاری ،خودکشیاں عوام کا مقدر بن جائیں گی ۔پاکستان کی جمہوریت آدھا بٹیر کا مترادف ہے۔
پاکستان کی سیاسی جماعتیں سنجیدگی سے سوچیں اور جمہوریت کو فوج کے جنگل سے آزاد کروائیں ۔ کیا دنیا کی جمہوری حکومتوں میں 25مئی جیسی عوام پر جو ظلم و جبر ڈھایا جار ہا تھا۔ آنسو گیس کی شیلنگ کی جارہی تھی۔ چادر اور چار دیواری کا تقد س پامال کیا جا رہا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں کارکنوں کی پکڑ دھکڑ ، پھر ریٹائرڈ فوجی افسران اور اُن کی فیملیوں کے ساتھ پریس کلب میں جو سلوک ہوا۔عمران خان کو قتل کروانے کیلئے منصوبہ بندیاں اور اُن کی سیکیورٹی کو ختم کرنا ،پورا ملک بند کر دیا ۔کیا ایسا کسی جمہوری ملک میں ہوتا ہے۔ یقینا ایسا فوجی جمہوری ادوار میں ہی ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں