anwar sajdi 18

نواز شریف کا حلف اور خونی انتخابات

انور ساجدی

طالبان نے ملک کی تمام خواتین کو حکم دیا ہے کہ وہ مکمل برقعہ یعنی شٹل کاک پہنیں، اس کے بغیر گھروں سے باہر نہ نکلیں، شروع میں انہوں نے لڑکیوں کو اسکول کالج اور یونیورسٹی جانے سے روک دیا تھا، کابل جو کہ نام نہاد مجاہدین کی خانہ جنگی کے باعث موہن جو ڈرو بن گیا تھا۔ طالبان کی اقتدار سے معزولی کے بعد دو عشروں میں خطے کاسب سے جدید اور شاندار شہر کا روپ دھار چکا ہے۔ اس شہر کی ترقی کے لئے مغرب اوربھارت نے مل کر کوشش کی لیکن طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد یہ شہر اپنا سحر آہستہ آہستہ کھو رہا ہے۔ ظلم یہ ہے کہ طالبان دوہرے معیار کا شکار ہیں، طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے غیرملکی صحافی کے سوال کے جواب میں اعتراف کیا کہ ان کی دو صاحبزادیاں باہر تعلیم حاصل کررہی ہیں مگر وہ مکمل حجاب میں ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب افغانستان کی بچیاں نقاب میں ہوتی ہیں تو ان پر شٹل کاک پہننے کی پابندی کیوں۔ بھارتی صحافی پراوین سوامی کے مطابق سہیل شاہین کی دو بیٹیاں اور تین بیٹے قطر کے دارالحکومت دوحہ کے انگریزی درسگاہوں میں زیر تعلیم ہیں۔ ان کی ایک بچی اسکول کی فٹبال کی ٹیم میں بھی شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا فٹبال میچ حجاب پہن کر کھیلتی ہے، اسی طرح افغانستان کے ڈپٹی وزیر خارجہ مشیر عباس سٹنکزئیکی بیٹی دوحہ میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کررہی ہے اور حجاب نہیں پہنتی۔ افغانستان کے وزیر صحت قلندر عباد کی بیٹی اسلام آباد میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرچکی ہیں اور وہاں پر جاب کررہی ہیں۔ طالبان کے متعدد رہنماؤں کی صاحبزادیاں یورپ اور امریکہ میں تعلیم حاصل کررہی ہیں اور پردے سے مکمل طور پر آزاد ہیں۔
طالبان آج ایک بڑی قوت ہیں اور ان کے کریڈٹ پر ہے کہ انہوں نے افغانستان میں دنیا کے سب سے بڑی سپرپاور امریکہ کو شکست سے دوچار کیا۔ طالبان کی حکومت کو ابھی تک دنیا کے کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا جس کی وجہ سے افغانستان ایک بدترین معاشی صورتحال سے دوچار ہے ا ور لوگ وسیع پیمانے پر افلاس، بھوک اور فاقوں کا شکار ہیں۔ صحت کی سہولتیں ناپید، درسگاہیں بند اور خواتین کی زندگی اجیرن ہے۔ طالبان اگرچہ دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کی تشکیل کا بنیادی خیال پاکستان کے ایک انتہائی بنیاد پرست جرنیل اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل نے پیش کیا تھا۔ جنرل حمید گل اور جنرل اختر عبدالرحمن جب افغانستان میں مجاہدین تخلیق کررہے تھے تو پاکستان میں ان کی صاحبزادیاں جدید انگریزی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ حمید گل کی صاحبزادی عظمی گل نے بعد ازاں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی بھی کھولی تھی۔ ان دونوں اصحاب نے اپنے نظریاتی گرو ضیا الحق کے زیر سایہ امریکہ کا ترتیب کردہ جہاد لڑا جس کے نتیجے میں افغانستان کے لاکھوں لوگ ہلاک اور اپاہج ہوگئے۔ مجاہدین کی تخلیق کے بعد انہوں نے افغانستان کو دائمی طور پر تباہ و برباد کرنے کی خاطر طالبان بنائے، طالبان بنانے کا خیال انہیں اقبال لاہوری کے اشعار سے آیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ:
افغان باقی کہسار باقی
الحکم اللہ الملک اللہ
لیکن پاکستان کے عقابی جرنیلوں نے جن کا تعلق چکوال، جہلم اور جالندھر سے تھا انہوں نے اپنے ہاں علامہ اقبال کے اشعار کی تعبیر تلاش نہیں کی بلکہ ان کی مہم جوئی کا مرکز ہندوکش کے اس پار تھا۔ کون نہیں جانتا کہ جنرل اختر عبدالرحمن نے تلاش بسیار کے بعد دو درجن اسلامی ممالک کے مجاہدین پاکستان بلائے لیکن یہاں انہیں صرف ٹریننگ دی گئی، ان کا بازوئے شمشیر افغانستان میں آزمایا گیا، پورے فاٹا کو تربیتی کیمپ بنایا گیا اور انسٹرکٹروں کے جتھے تیار کرکے بھیجتے گئے۔ ان مین سے ایک مرد مجاہد کرنل امام کے نام سے مشہور ہوا بعد میں ڈبل ایجنٹ ثابت ہوا اور وزیرستان میں مارا گیا۔ ناصرف
یہ بلکہ ضیا الحق نے اخوان سے تعلق رکھنے والے ایمن الظواہری کو بھی جہاد کے لئے بلایا جس نے جنگ افغانستان کے بعد القاعدہ کی بنیاد رکھی، اس تنظیم نے افغانستان پر بیٹھ کر امریکہ پر حملوں کا منصوبہ بنایا جس کی وجہ سے نائن الیون کا تباہ کن سانحہ پیش آیا جس نے پوری دنیا بدل کر رکھ دیا اور تو او رضیا الحق نے سب سے بڑے مجاہد اسامہ بن لادن کو بھی بلایا جس نے اپنی اربوں ڈالر کی دولت افغانستان کی تاراجی پر لگا دی اور امریکہ پر حملے کرنے والے نوجوانوں کا خرچہ اٹھایا۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمہ کے بعد موصوف کسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور ایبٹ آباد کے حساس شہر میں کاکول کے پہلو میں چھپ گئے، امریکہ نے 2 مئی 2011 کو رات کی تاریکی میں ایک خفیہ مگر کامیاب آپریشن کے ذریعے اسامہ کا خاتمہ کردیا۔ پاکستانی حکمرانوں کو اگلے دن پتہ چلا کہ امریکہ آپریشن کرکے واپس چلا گیا ہے۔ اس واقعہ پر خفت مٹانے کے لئے جاوید اقبال المعروف نیب والا کی سربراہی میں ایک کمیشن بھی بنایا گیا جس کی رپورٹ بذات خود ایک شاہکار ہے جس میں یہ سمجھ نہیں آیا کہ انہوں نے واقعہ کی ذمہ داری کس پر ڈالی ہے اور سفارشات کیا کی ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد ان پر دھن اور دولت کے دروازے کھل گئے اور آخری اطلاعات تک وہ چیئرمین نیب کے عہدے پر جلوہ افروز ہیں۔ طالبان نے اپنے پچھلے دور میں افغانستان کے معصوم عوام کے ساتھ جو بھی کیا تھا اس وقت بین الاقوامی معاہدوں کے پابند نہیں تھے لیکن دوحہ معاہدہ کے بعد وہ اس بات کے پابند ہیں کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ کریں لیکن وہ باز آنے والے نہیں وہ افغانستان کو قرون وسطی کے دور میں لے جارہے ہیں اور ڈالر لوٹ کر اپنی بچیوں کو دنیا کی انگریزی درسگاہوں میں تعلیم دلا رہے ہیں۔ آثار بتا رہے ہیں کہ اگر طالبان نے مظالم جاری رکھے تو افغان عوام انکے خلاف بغاوت کردیں گے اورافغانستان ایک بار پھر خون کا ایک بدترین منظر دیکھے گا۔ افسوس کا مقام ہے کہ ضیا الحق کی قیادت میں جن ہستیوں نے پلان بنایا کہ وہ پاکستان کو بھی ایک بنیاد پرست اور قرون وسطی کی ریاست بنائیں گے دوغلے پن کے باوجود وہ کامیاب رہے۔ اگرچہ پاکستان کا اوپن سماج جو شروع سے سادہ اور روشن خیال تھا تیزی کے ساتھ اس کی لپیٹ میں آرہا ہے لیکن عوام کی اکثریت فتنہ پرور انتہا پسندوں کے مکمل نرغے میں نہیں آئی۔ امریکہ نے افغان جہاد کے دوران سعودی عرب کو مدارس کے قیام کے لئے جو اربوں ڈالر دیئے تھے اس کی بدولت لاکھوں نوجوانوں پرمشتمل ایک نسل تیار ہوگئی ہے مگر اسی دوران راولپنڈی اور اس مخلوق کے درمیان اقتدار کی جنگ شروع ہوگئی حالانکہ یہ راولپنڈی کے ذہنی اختراع کا نتیجہ ہیں۔
ضیا الحق کو چھوڑیئے ان کے اس وقت کے جانشین نواز شریف کو چھوڑئیے جو اپنے پرانے نظریہ سے تائب ہوچکے ہیں اور ان کی بیٹی مریم بی بی حجاب کے بغیر لاکھوں کے مجمع سے خطاب کرتی ہیں۔ اب عمران خان کو لیجئے ان پر ایچ ای سن اور آکسفورڈ کی درسگاہوں نے کوئی اثر نہیں ڈالا۔ وہ افغانستان کا حشر دیکھنے کے باوجود اورمجاہدین کی باقیات اور پاکستان میں بدترین دہشت گردی کے باوجود چلے ہیں قرون وسطی کا نظام قائم کرنے، انہوں نے حصول اقتدار کی خاطر دین کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے او راپنے سیاسی مقاصد کی خاطر ریاست مدینہ کے قیام کا نعرہ بلند کررہے ہیں۔ کوئی مانے نہ مانے عمران جنرل حمید گل کے نظریات پر قائم ہیں جو عمر کے آخری حصے میں ان کے اتالیق بن گئے تھے۔ طالبان رہنماؤں کی طرح عمران خان بھی دوہرے معیار کا شکار ہیں وہ اپنے جلسوں میں ماڈرن خواتین کو ضرو ربلاتے ہیں لیکن افغانستان والا نظام لانا چاہتے ہیں ان کے اپنے بچے لندن میں مقیم ہیں اور انہیں اردو یا ان کے والد کی زبان سرائیکی کا ایک لفظ بھی نہیں آتا لیکن وہ دوسروں پر الزام لگاتے ہیں کہ ان کے بچے ولایت میں مقیم ہیں۔ ہو نہ ہو عمران خان کی سیاسی مہم جوئی کے پیچھے جنرل ضیا الحق، جنرل اختر عبدالرحمن او رجنرل حمید گل کی باقیات موجود ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جسے 1973 کا آئین اور پارلیمانی نظام ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ یہ جتھا آمریت کے قیام پر یقین رکھتا ہے اور اپنے مقاصد صدارتی نظام اور یک جماعتی سسٹم میں دیکھتا ہے۔ اقتدار سے حالیہ معزولی کے بعد یہ لوگ عمران خان کو افراتفری، انارکی اور خانہ جنگی پیدا کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے اسے بے شمار ملکی و غیر ملکی وسائل بھی تلاش کرکے دے رہے ہیں۔ عمران خان کی ضد ہے کہ جلد الیکشن کراکے اقتدار ان کے حوالے کیا جائے ورنہ وہ خونی مارچ کرکے پاکستان کو خون میں رنگ دیں گے۔ اسی لئے تو بلاول نے کہا ہے کہ اگر تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابا ت کے بارے میں اتفاق نہیں ہوا تو یہ انتخابات خونی ہوں گے۔ خونی تو ضرور ہوں گے لیکن اس کی زد میں سب سے زیادہ پیپلز پارٹی اور اے این پی آئے گی۔انہیں چاہئے کہ وہ اپنی خیر منا لیں جہاں تک ضیا الحق کی باقیات کا تعلق ہے تو انہیں اس بات پر اطمینان ہے کہ ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کا تعلق اس کے پیروکاروں پر مشتمل ہے۔ روشن خیال، ترقی پسند اور لبرل جماعتوں کے پاس عوامی طاقت نہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اقتدار کی یہ جنگ بہت بھاری پڑے گی۔ یہ سیاسی اور غیر سیاسی رہنما اپنے ملک کو تیزی کے ساتھ حوادث کی طرف لے کر جارہے ہیں۔ کسی کو سمجھ نہیں آرہی کہ حالات کہاں جائیں گے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ن لیگ حکومت لینے کے بعد گھبرا گئی ہے بجائے اس کے وہ حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرے وہ ڈر گئی ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو آئندہ انتخابات میں عمران خان کی کامیابی یقینی ہے۔ اس لئے ن لیگ کی قیادت نے خفیہ فیصلہ کیا ہے کہ اسمبلیاں فوری طور پر تحلیل کرکے معیشت اور انتخابات کامعاملہ ایک عبوری حکومت کے حوالے کیا جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی سمیت اتحادی اس فیصلہ کوماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ نواز شریف کو آج کل فیصلوں کو چھپانے کے لئے حلف لینے کی عادت پڑ چکی ہے۔ انہوں نے پہلی مرتبہ جب جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کا فیصلہ کیا تھا تو لندن میں موجود ن لیگی رہنماؤں سے حلف لیا تھا کہ وہ ووٹ دینے سے پہلے یہ راز افشا نہ کریں۔ اب دوسری بارانہوں نے پارٹی اور رہنماؤں کو حلف دیا ہے کہ وہ حالیہ فیصلے کے بارے میں وقت سے پہلے لب کشائی نہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں