5

قوم کی جند جان افواج پاکستان

ڈاکٹر جاوید ملک

یہ تقریباً 30 سال پہلے کا واقعہ ہے، میرے ایک دوست محکمہ انہار میں انجینئر تھے، ان کا ایک بیٹا پاگل تھا جس کو وہ اکثر باندھ کر رکھتے تھے، وہ گھر کی اشیاء توڑ پھوڑ دیتا تھا۔ ایک روز نوکر کی بے توجہی کی وجہ سے لڑکا ڈرائنگ روم میں گھس گیا اور ہزاروں روپے کا نقصان کر ڈالا۔ وہ دوست اس لڑکے کو پکڑ کر میرے پاس لائے اور تقریباً روتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب اس کا کچھ کریں، اس نے ہمارے ناک میں دم کر رکھا ہے ورنہ میں اس کا گلا گھونٹ دوں گا۔ میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ میاں، اللہ سے ڈرو، ایسی بات مت کرو ورنہ قیامت کے روز یہ بات تمہارے لئے سزا کا باعث بن جائے گی۔ بات ختم ہو گئی۔ چند دنوں کے بعد میرے وہ دوست ڈیرہ غازی خان کینال (جو تونسہ بیراج سے نکالی جا رہی تھی اور اس کی کھدائی کا کام مکمل ہو چکا تھا) کے معائنے کے لئے گئے، وہاں پہنچنے پر دیکھا کہ مزدور ایک جگہ جمع ہیں اور شور مچا ہوا ہے۔ انجینئر صاحب کو دیکھ کر مزدور ان کے پاس آئے اور بتایا کہ نہر کی تہہ میں ایک سوراخ سے انسانی جسم کا ایک حصہ نظر آ رہا ہے۔ انجینئر صاحب نے خود جا کر دیکھا اور اوپر سے مٹی ہٹانے کو کہا جب مٹی ہٹائی گئی تو نیچے سے پوری انسانی نعش نظر آ رہی تھی۔ اس نعش میں دو
باتیں حیران کن تھیں ایک تو اس کے کپڑے خون آلود تھے جس سے اندازہ ہوا کہ یہ کسی شہید کی نعش ہے، دوسرے اس کے منہ کے اوپر ایک پھل نما چیز رکھی ہوئی تھی جس سے وقفہ وقفہ کے بعد کچھ قطرے نعش کے منہ میں گر رہے تھے۔ نہر کی گہرائی تقریباً 20 فٹ تھی اور یہ نعش اس سے بھی نیچے مٹی میں محفوظ تھی جس سے اندازہ ہوا کہ اس آدمی کو دنیا سے کوچ کئے صدیاں گزر چکی ہیں۔ اس شام کو انجینئر صاحب گھر آئے اور سارا واقعہ سنا کر کہنے لگے، قرآن پاک میں جو کہا گیا ہے کہ ’’شہیدوں کو مردہ مت کہو بلکہ یہ زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے مگر تمہیں اس کا شعور نہیں۔‘‘ اس آیت کی میں زندہ مثال آج دیکھ کر آیا ہوں، مجھے یقین آ گیا کہ مرنے کے بعد شہید کا کیا مقام ہے۔ میں اپنے مرحوم پروفیسر آف میڈیسن جناب پروفیسر ڈاکٹر نور احمد نور کی بیان کی گئی اس بات کو جب بھی پڑھتا ہوں تو ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ جی ہاں ستاروں کی مانند صحابہ کرامؓ بار بار شہید ہونے کو کیوں ترجیح دیتے، اپنی خواہش کا اظہار فرماتے تھے اس لئے کہ وہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے شہید کا رتبہ جان چکے تھے۔ مجھے یقین کامل ہے کہ آج بھی ہم اگر اپنے شہید فوجیوں کے جسم اطہر کو دیکھیں تو خدا کی قسم، وہ تازہ ہی ہوں گے، ان کے جسموں سے خون اسی طرح بہہ رہا ہو گا اور منہ میں اللہ پاک کی طرف سے رزق عظیم دیا جا رہا ہو گا۔
مجھے اپنے سینئر کی وہ بات کہ کیسے وطن عزیز کے سپاہیوں نے دن رات ایک کر کے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، ابھی تک یاد ہے کہ خوشاب کے قریب ایک بنیادی مرکز صحت میں صبح کے وقت جب وہ ڈیوٹی سرانجام دینے کے لئے پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہر طرف فوج ہی فوج ہے۔ ڈیوٹی پر موجود میجر صاحب نے مؤدبانہ لہجے میں میرے سینئر ڈاکٹر نصراللہ خان آف سرگودھا سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ جناب ہم دو تین دن تک کے لئے آپ کے مہمان ہیں، ہمیں دو کمرے درکار ہیں، ہم اپنا مشن مکمل کر کے چلے جائیں گے۔ مشن دراصل یہ تھا کہ 28 مئی 1998ء کے ایٹمی دھماکے کرنے سے قبل ہمارے ازلی دشمن اسرائیل اور انڈیا کے گٹھ جوڑ کی بناء پر سرینگر میں 50 ایف سولہ حملہ کرنے کے لئے تیار کھڑے تھے اور میرے ملک کے جانباز سپوتوں نے ہندو بنیے کے چودہ طبق روشن کرتے ہوئے اسے للکارا کہ اگر تمہارے باپ صہیونیوں نے کسی بھی قسم کی حرکت کی تو تمہارے تمام ایٹمی گھر فنا کر دیئے جائیں گے اور تمہیں پل بھر کی خبر بھی نہ ہو گی۔
ہم سے زیادہ قرآن پاک کا مطالعہ کر کے اس پر ریسرچ کرنے والے یہودی مسلمان کی شان اور شہادت کے بارے میں خوب جانتے ہیں۔ ہندو بنیا اور یہودی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ انڈیا جانے والے پاکستانی شاہین اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہندوستانی سرزمین پر دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کے بعد ان کی وطن واپسی نہ ہو، وہ اپنا مشن مکمل کر کے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے جام شہادت نوش کر کے ہی دم لیں گے… پھر دنیا نے دیکھا کہ 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے 5 ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہو جائیں گی۔ حضرت حسینؓ کی طرح اپنا سر تو کٹا دیں گے لیکن کفر کے سامنے جھکیں گے نہیں، یہی زندہ قوموں کی میراث ہے۔ ہمیں اپنی قوم کے ان بہادر جوانوں پر ناز ہے کہ جو دن رات سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ہم آرام کی میٹھی نیند سوتے ہیں۔ یہی نہیں، زلزلہ ہو یا سیلاب، بدامنی ہو یا جنگ، ہماری قوم کے دکھوں کا مداوا کون بنتا ہے، یہ کسے معلوم نہیں۔
بڑا دل دکھتا ہے جب ہمارے لنڈے کے چند دانشور بات بات پر افواج پاکستان پر انگلیاں اٹھاتے ہیں اور بدقسمتی سے آج کل یہ سلسلہ عروج پر ہے۔ کاش پیٹ کے پچاری، اپنے ہی گھر کو جلانے والے ہمارے نقلی لیڈران قوم کی جند جان افواج پاکستان پر کیچڑ اچھالنے کے بجائے امت کو جوڑنے کی بات کریں کیونکہ مصنوعی سانس کی مشین پر آخری سانسیں لیتی ہماری معیشت سب کی ہوا نکال دے گی، اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں