260

سمندروں کی سطح میں اضافے سے دنیا کو ناقابل تصور خطرات کا سامنا ہے، اقوام متحدہ

سمندروں کی سطح میں تیزی سے اضافے کے نتیجے میں دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو ناقابل تصور خطرات کا سامنا ہے۔

یہ انتباہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے کیا۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ موسمیاتی بحران کے نتیجے میں سمندروں کی سطح میں اضافے کی شرح میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سمندری سطح میں اضافہ جاری رہا تو آئندہ چند دہائیوں میں کچھ ممالک ڈوب کر کرہ ارض سے غائب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سمندری سطح میں اضافے کے باعث ہم مستقبل قریب میں ایک ارب افراد کی نقل مکانی کو دیکھیں گے جبکہ تازہ پانی، زمین اور دیگر ذرائع کے حصول کے لیے مسابقت بڑھ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق 1900 سے اب تک دنیا بھر میں سمندروں کی سطح میں جس تیزی سے اضافہ ہوا، اس کی گزشتہ 3 ہزار سال میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اگر کسی معجزے سے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کر دیا جائے تو بھی سمندروں کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی مسائل کی روک تھام نہ ہونے پر جس تباہی کا سامنا ہو سکتا ہے وہ ناقابل تصور ہے۔

انہوں نے انتباہ کیا کہ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث دنیا کے ہر براعظم کے بڑے شہروں کو سنگین اثرات کا سامنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سمندری سطح میں اضافے سے نشیبی علاقوں کے 90 کروڑوں افراد کو خطرہ لاحق ہوگا اور اب بھی دنیا کے متعدد علاقوں میں تباہی واضح طور پر نظر آرہی ہے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ سمندری سطح میں اضافے کی بنیادی وجہ یعنی موسمیاتی بحران پر قابو پانا ہوگا، اس کے لیے زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی کے ساتھ ساتھ دیگر اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں