119

مغربی کنارے میں کشیدگی، 28 اسرائیلی آباد کاروں پر فرانس میں داخلے پر پابندی

پیرس: فرانس نے  مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطین کے شہریوں کے خلاف ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب 28 اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیوں کا اعلان کردیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فرانس کی وزارت برائے یورپ اور خارجہ امور نے بتایا کہ 28 اسرائیلی آباد کاروں پر فرانس میں داخلے پر پابندی ہوگی۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ پابندیاں حالیہ مہینوں میں فلسطینیوں پر مغربی کنارے میں ظالمانہ کارروائیوں میں اضافے کے پیش نظر عائد کی گئی ہیں اور فرانس اس طرح کے ناقابل قبول مظالم کی مذمت کا اعادہ کرتا ہے۔

اس سے قبل فرانس، پولینڈ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر مظالم ناقابل قبول ہیں اور اس پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

فرانس کا کہنا ہے کہ وہ یورپی سطح پر بھی پابندیاں عائد کرنے پر غور کررہا ہے، عالمی قانون کے مطابق نوآبادیات غیرقانونی ہے اور اس کو روکنا چاہیے۔

وزارت خارجہ امور نے بتایا کہ فرانس آزاد فلسطینی ریاست کی تخلیق کا حامی ہے جو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کا واحد حل ہے اور اسی طرح دونوں فریق امن اور سلامتی کے ساتھ شانہ بشانہ رہ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ فرانس کی جانب سے یہ اعلان امریکا اور برطانیہ کی جانب سے بھی اسی طرح کی پابندیوں کے بعد کیا گیا ہے، جس میں آباد کاروں کی جانب سے کیے جانے والے ظالمانہ اقدامات اور فلسطینیوں پر حملوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس سے قبل برطانیہ کے وزیرخارجہ ڈیوڈ کیمرون نے پیر کو اسرائیل کے شہریوں پر مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ انتہاپسند اسرائیلی آباد کار فلسطینیوں کے لیے خطرہ ہیں، جو گن پوائنٹ پر فلسطینیوں کو اپنی زمین سے دستبردار ہونے پر مجبور کر رہے ہیں جبکہ وہ فلسطینیوں کا جائز حق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ رویہ غیرقانونی اور ناقابل قبول ہے، اسرائیل کو ان انتہاپسند آباد کاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے، اس سلسلے میں ہمیں وعدے اور یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق مغربی کنارے میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے 516 حملے کیے گئے ہیں۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان 7 اکتوبر کو لڑائی کا آغاز ہوا تھا جب حماس نے حملے کیے تھے اور اس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر وحشیانہ کارروائیوں کا آغاز کردیا تھا۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں میں اب تک 28 ہزار 473 افراد شہید ہوگئے ہیں اور مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں اور انتہاپسند آباد کاروں کے حملوں میں اس دوران اضافہ ہوگیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں