12

پنجابی یونین کے زیر اہتمام ”وساکھی میلہ 2022 ”

وساکھی ہمارا مشترکہ تہوار ہے جو پنجاب کی ثقافت اور ہماری کشادہ دلی کی عکاسی کرتا ہے ، چیئرمین پنجابی میڈیا گروپ، پنجاب ہائوس قائم کر کے دنیا بھر کے پنجابیوں کو اِکٹھا ہونے کا موقع دینے پر مدثر اقبال بٹ کے مشکور ہیں، ہرجِندر سنگھ دلگیر
ہر سکھ کا دل پنجاب کے لئے دھڑکتا ہے دنیا میں سکھوں کو سب سے زیادہ عزت پاکستان میں ملتی ہے، جسبیر سنگھ بوپارائے، میرے اندر پنجابی میں لکھنے کا جذبہ موجود تھا اسے فروغ مدثراقبال بٹ نے بخشا ہے، نعیم مسعود
لاہور(سٹاف رپورٹر)پنجابی یونین کے زیر اہتمام گزشتہ روز پنجاب ہاؤس میں پنجاب کی دھرتی کے تاریخی وثقافتی تہوار” وساکھی میلہ 2022ء ”کے عنوان سے ایک پر وقار تقریب منعقد کی گئی پنجاب سے تعلق رکھنے والی ملکی و غیر ملکی نامور شخصیات سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ میزبانی پنجابی یونین کے چیئرمین مدثر اقبال بٹ اور وائس چیئرمین بلال مدثر بٹ نے کی۔ تقریب کی صدارت ورلڈ پنجابی کانفرنس کینیڈا کے صدر جسبیر سنگھ بوپا رائے نے کی۔ مہمانان خصوصی میں پنجابی رہنما الیاس گھمن ،جان کشمیری وائس چانسلر بابا گورونانک یونیورسٹی محمد افضل ،طاہرہ سرا، پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمان ،پنجابی کے معروف شاعر بابا نجمی،پرفیسر ڈاکٹر ہرجندر سنگھ دلگیر اور حمید اللہ بھٹی شامل تھے۔ پنجابی یونین کے چیئرمین مدثر اقبال بٹ نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض نبھاتے ہوئے پنجاب ہاؤس کے بارے میں بتایا کہ پنجاب ہاؤس کا مقصد پنجاب میں ایک ایسا ادارہ بنانا تھا جہاں پر پنجابی کی مختلف جہتوں پر کھل کر کام ہو یہاں پر پنجابی سے متعلق مختلف منصوبوں پر کام ہو رہا ہے جن کے لئے کسی سے کوئی مالی مدد نہیں لی جاتی سب کچھ اپنی مدد آپ کے تحت کیا جاتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ وساکھی ہمارا مشترکہ تہوار ہے جو پنجاب کی ثقافت اور ہماری کشادہ دلی کی عکاسی کرتا ہے ۔ہم سب کو مل کر اپنی ثقافت اور پنجابی کے فروغ کے لئے کام کرنا چاہیے ۔پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے حافظ ممتاز ملک نے کیا، ندیم اقبال باہو، تیمور افغانی اور عنایت عابد نے عارفانہ کلام کا پڑھا۔ بات چیت کا آغاز پروفیسر ڈاکٹر ہرجِندر ونگھ دلگیر سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہم مدثر اقبال بٹ کے مشکور ہیں کہ انہوں نے پنجاب ہائوس قائم کیا اور دنیا بھر کے پنجابیوں کو ایک جگہ اکٹھے ہو کے اپنے دن منانے کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ گو کہ پنجابی کیلنڈر پہلی چیت سے شروع ہوتا ہے لیکن اس کا اصل آغاز پہلی بیساکھ کو ہی ہوتا ہے کیوں کہ تب کسان کے گھر دانے آتے ہیں تو اسی سے پورے سماج کو کھانے کے لیے اناج ملتا ہے۔زاہد حسن نے کہا کہ وساکھی پنجاب میں بسنے والے سبھی لوگوں کا مشترکہ تہوار ہے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اس دنیا میں ہمیں وساکھی کے ساتھ ساتھ ماحولیات کا بھی خیال رکھنا ہے یہ کام حکومتیں کرتی ہیں لیکن ہماری حکومت کی اس جانب توجہ نہیں ہے یہ کام بھی ہمیں ہی کرنا پڑے گا ۔پنجابی کے معروف شاعر بابا نجمی نے اس موقع پر وساکھی کے حوالے سے اپنی نظم ،عیداں ورگی کیوں نہ لگے سانوں یار وساکھی ۔۔ذاتاں پاتاں پِچھے کر کے ونڈے پیار وساکھی ،سنا کر محفل میں سماع باندھ دیا۔اصغر پہلوان نے جگ جگ جیوے شالا ساڈا سوہنا دیس پنجاب سنا ئی جس پر حاضرین محفل نے دل کھول کر داد دی ۔اس موقع پر طاہرہ سرا نے مختصر سے خطاب میں بولیاں سنائیں ،تیرے آون تے میلہ پھبنا۔۔وے منڈیا کنک رنگیا،ساڈا عمراں دا لتھیا تھکیواں ،تیرے نال گل کر کے۔حکیم آصف گجر نے کہا کہ بیساکھی پنجابیوں کا قدم تہوار ہے اس دن سے خوشیوں کا آغاز ہوتا ہے اور دنیا بھر کے پنجابی بلا تفریق مذہب اس دن کو پرجوش اندازمیں مناتے ہیں۔وائس چانسلر بابا گورونانک یونیورسٹی محمد افضل نے کہا پنجاب ہاؤس میں آکر جو خوشی ملتی ہے وہ کہیں اور نہیں ملتی اپنائیت کا احساس جس قدر پنجاب کے لوگوں میں ہے دنیا کے کسی خطے کے لوگوں میں نہیں ہے بابا گورونانک یونیورسٹی بابا گورونانک کا پیغام پھیلانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔پنجابی رہنما الیاس گھمن نے کہا کہ وساکھی پنجاب کا وہ تہوار ہے جس کے آثار ہڑپہ کی تاریخ میں بھی ملتے ہیں لیکن اس تہوار میں اصل رنگ سکھوں نے بھرا ہے ہم سب کو مل کر بھر پور انداز میں وساکھی کا تہوارمنانا چاہیے ۔ تیمور افغانی نے ترنم کے ساتھ ہیر وارث شاہ سنائی اور حاضرین کو محظوظ کیا۔پروفیسر نبیلہ رحمان نے تقریب میںایک موقع پر میزبان پنجابی یونین کے چیئرمین مدثر اقبال کی ایک بات کے جواب میں کہا کہ بیشک آپ جیسے بھائی ہی بہنوں کا مان رکھتے ہیں اسی لئے پنجاب کی بہنیں بھائیوں کی ہی قسم کھاتی ہیں انہوں نے کہا وساکھی پنجاب کا وہ مشترکہ تہوار جسے ہم مل کر مناتے ہیں ہمیں اس تہوار کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم نہیں کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ درشن سنگھ نے پنجابی میں لکھنے والوں کو اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے انہوںنے کہا اردومیں شاعری کرنے والے ایسے شاعروں کی ایک لمبی فہرست موجود ہے جنہوں نے پنجابی ہونے کی وجہ سے پنجابی میں بھی کچھ نہ کچھ لکھا ہے ۔پنجابی اعلیٰ اخلاقیات اور اعلیٰ ثقافتی روایات کے امین ہیں پنجابیوں کی کشادہ دلی نے کئی مواقع پر انہیں نقصان بھی پہنچایا ہے۔پروفیسر ڈاکٹرکلیان سنگھ کلیان نے کہا کہ قلم فاؤنڈیشن اور پنجابی یونین کے درمیان تعلقات میں اضافہ ہورہا ہے درشن سنگھ پاکستان آئے تھے ان کا یہاں آنے کا تجربہ کچھ اچھا نہیں رہا لہذاء وہ واپس چلے گئے تھے لیکن انہوں نے اپنا مشن جاری رکھا ۔ جنگ کے کالم نگار نعیم مسعود نے کہا کہ میرے اندر پنجابی میں لکھنے کا جذبہ موجود تھا اسے فروغ مدثراقبال بٹ نے بخشا ہے ۔پنجابی میڈیا گروپ کے صدر ندیم رضا نے کہا کہ مدثر بٹ نے پنجاب ہاؤس بنا کر پنجابی کے تحفظ اور فروغ کی راہیں کھول دی ہیں میرے لئے فخر کی بات ہے کہ میں ان کے مشن کا حصہ ہوں انہوںنے تقریب میں شرکت پر سب حاضرین کا شکریہ ادا کیا جسبیر سنگھ بوپا رائے نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ پنجاب گورئوں کے نام پر بسا دیش ہے اور جو جگہ گورئوںکے نام سے آباد ہو وہ کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔گوروگوبند سنگھ نے 1699ء میں خالصہ کی بنیاد رکھدی تھی ۔پنجاب ہماری جنم بھومی ہے ہر سکھ کا دل اس کے لئے دھڑکتا ہے دنیا میں سکھوں کو سب سے زیادہ عزت پاکستان میں ملتی ہے ۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لیے پر تکلف افطار ڈِنر کا اہتمام بھی کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں