43

4اگست….. یوم شہدائے پولیس!

سید بدر سعید


ملک بھر میں یوم شہدائے پولیس پورے جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے۔ یہ دن قوم کے ان غیور بہادروں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے اپنا آج قوم کے کل پر قربان کیا۔ یہ خراج تحسین ہے ہمارے ان ہیروز کے لئے جن کی قربانیوں نے ہمیں تحفظ کا احساس دلایا۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ملک بھر میں امن و امان کے قیام میں پولیس نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ پنجاب پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی بے پناہ قربانیاں دیں اور اپنی جانوں پر کھیل کر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ پولیس اہلکار ہر روز موت کے منہ میں کھڑے ہو کر اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں لیکن فرض کی راہ سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ جب کسی پولیس اہلکار کی کسی ناکے یا چیک پوسٹ پر ڈیوٹی لگتی ہے تو اسے نہیں علم ہوتا کہ کب کون اسے اسی جگہ گولی مار دے گا۔ اس کے باوجود پولیس اہلکار مستعدی سے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔
اب تک پنجاب پولیس کے 1573 افسران و اہلکار جام شہادت نوش کر چکے ہیں جن میں سے 320 کا تعلق لاہور پولیس، 112 راولپنڈی، فیصل آباد پولیس کے 105 جبکہ گوجرانوالہ پولیس کے 99 شہدا بھی شامل ہیں۔ پنجاب کے تمام اضلاع میں پولیس افسران و اہلکاروں نے شہادتیں پیش کی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کی شہادت انہی چیک پوسٹوں اور ناکوں پر ہوئی جن پر روکنے کی صورت میں بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ ساڑھے 15 سو سے زائد شہدا کی قربانیاں یہی پیغام دے رہی ہیں کہ اگر پولیس شناخت کے لئے روکے تو پولیس سے تعاون کریں کیونکہ یہ عوام کے تحفظ کے لئے ہے۔
جرائم پیشہ عناصر شہریوں کے روپ میں ہی چیک پوسٹ سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں اس لئے پولیس کو بہت محتاط رہنا ہوتا ہے۔ اکثر چیک پوسٹ پر پنجاب پولیس نے خود کش حملہ آوروں کو آبادی تک پہنچنے سے روکااور خود خود کش دھماکے کا نشانہ بنے۔ یہ اہلکار اپنی جان بچا سکتے تھے لیکن حب الوطنی اور فرض شناسی کے جذبے کے تحت انہوں نے اپنی جان قربان کر کے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا
ہر سال 4 اگست پورے ملک میں یوم شہدائے پولیس کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یوم شہدائے پولیس کے موقع پر صوبہ بھر میں پولیس افسران اپنے شہید ساتھیوں کے گھروں میں جاتے ہیں اور ان کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ پولیس شہدا کی قبور پر پھول چڑھاتے اور فاتحہ پڑھتے ہیں۔ یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ پولیس فورس اپنے شہدا کو کبھی نہیں بھلا سکتی اور محکمہ پولیس ہی نہیں بلکہ پوری قوم ان بہادر بیٹوں کی قربانیوں کا احترام کرتی ہے۔
فرض کی خاطر اپنی زندگیاں قربان کرنے والے یہ شہید ہی قوم کے اصل ہیرو ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو شہریوں کے تحفظ کی پہلی فرنٹ لائن پولیس ہی ہے۔ پنجاب پولیس کے اہلکار نہ صرف شاہراہوں پر گشت کرتے ہیں بلکہ شہروں اور اضلاع کے داخلی راستوں پر بھی دن رات فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ انہیں ان دیکھے دشمن کا سامنا رہتا ہے۔ یہ نہیں جانتے کب کس ناکے پر کسی کو روکنے کی صورت میں ان پر گولیاں برسا دی جائیں۔ کب کسی چیک پوسٹ پر انہیں ٹارگٹ بنا دیا جائے۔
کب کس ٓپریشن میں یہ کسی ڈاکو کی گولیوں کا نشانہ بن جائیں۔ سٹریٹ کرائم کے خلاف یہی پولیس اہلکار مجرموں کی گولیاں کا نشانہ بنتے ہیں یا پھر انہیں گرفتار کر کے سزا دلواتے ہیں۔ زندگی اور موت کی یہ آنکھ مچولی ہر روز کھیلی جاتی ہے۔ یہی اہلکار سخت گرمی میں تپتی دھوپ میں ہمیں فرائض سر انجام دیتے نظر آتے ہیں اور یہی اہلکار جاڑے کی رات اس وقت بھی سڑکوں پر ہوتے ہیں جب ہم گرم لحاف میں آرام کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ وہ جوان ہیں جو ہر روز کفن سر پر باندھ کر ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں ۔ پنجاب پولیس کی ڈیوٹی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پولیس اہلکار عید، شبرات، رمضان اور محرم سمیت کوئی بھی تہوار اپنی فیملیز کے ساتھ نہیں گزارتے بلکہ ان تمام مواقعوں پر قوم کی حفاظت کے مشن پر ہوتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ عید کے روز ان میں سے کسی کا جنازہ اٹھایا جا رہا ہوتا ہے۔ یہ اپنے بچوں کے لئے عید پر نئے کپڑوں اور چوڑیوں کی بجائے اپنی شہادت کا تحفہ لیجاتے ہیں لیکن قوم کے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنا جاتے ہیں۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عوام کے تحفظ کی خاطر سماج دشمن عناصر کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی پنجاب پولیس ملک دشمن عناصر کے نشانے پر رہتی ہے۔ جرائم پیشہ عناصر اور گروہ جانتے ہیں کہ پنجاب پولیس ان کے ہر منصوبے کو خاک میں ملانے کے لئے متحرک رہے گی اس لئے وہ خاص طور پر بھی پنجاب پولیس کو نشانہ بناتے ہیں۔
پنجاب پولیس صرف مقامی سطح کے بدمعاشوں کا ہی مقابلہ نہیں کر رہی بلکہ ملک دشمن عناصر کی بدترین دہشت گردی کے خلاف بھی سینہ سپر ہے۔ ایسے ہی ایک واقعہ میں جنوری 2008 میں وکلا کی ریلی کی حفاظت کے لیے گھروں سے نکلنے والے پولیس اہلکار لاہورہائیکورٹ کے جنرل پوسٹ آفس گیٹ پرخودکش بمبار کا نشانہ بنے۔
یہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے موقع پر ہی26 پولیس اہلکار وں سمیت متعدد افراد شہید اور زخمی ہوگئے تھے۔ شہید ہونے والے پولیس ملازمین میں سے 3 کا تعلق صوبائی دارالحکومت لاہور سے تھا جبکہ باقی صوبے کے دیگر اضلاع سے شہریوں کی حفاظت کیلئے اپنی خدمات انجام دینے آئے تھے لیکن ان کی گھر واپسی تابوت میں ہوئی۔ یہ دھماکا جس جگہ پرہوا تھا وہاں پر پولیس کی غازی کمپنی کی ریزروپلاٹون تعینات تھی جن کی مجموعی تعداد60کے قریب تھی۔ انہی میں سے ایک کانسٹیبل نعیم الرحمن کی کچھ عرصہ بعد شادی طے تھی لیکن وہ شادی سے قبل جام شہادت نوش کر گئے۔ اسی طرح تین مارچ 2009 کی صبح سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے شہر لاہور میں تھی۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کا تیسرا دن شروع ہونا تھا جس کے لئے ٹیم ہوٹل سے اسٹیڈیم جا رہی تھی لیکن صبح نو بجے 12 دہشت گردوں نے مہمان کرکٹ ٹیم پر حملہ کر دیا تھا۔ اس وقت بھی موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے خودکار رائفلز، گرنیڈ اور راکٹ لانچرز سمیت جدید اسلحہ سے لیس ان حملہ آوروں کا راستہ روکا۔اس واقعے میں حفاظت پر مامور چھ پولیس اہلکار اور ایک ڈرائیور شہید ہو گئے تھے۔
پولیس کے خلاف متحرک دہشت گردوں نے براہ راست بھی پولیس کو ٹارگٹ کیا ہے۔ ایسا ہی ایک حملہ مناواں پولیس ٹریننگ سنٹر پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے 9 پولیس اہلکاروں کو شہید اور 93 کو زخمی کردیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، تین دہشت گردوں کو زندہ گرفتار کیا گیا ۔ لاہور میں ہی ایک اور واقعہ میں سکیورٹی تھریٹ کی وجہ سے احتجاج کرنے والے چند افراد کو سمجھانے کے دوران پولیس افسران و اہلکار شہید ہوئے۔
13 فروری 2017 کی شام چئیرنگ کراس، مال روڈ لاہور پر خود کش دھماکے میں ڈی آئی جی کیپٹن (ر) سید احمد مبین شہید، ایس ایس پی زاہد محمود گوندل اور پانچ اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ شہداء میں وائرلیس آپریٹراور ایلیٹ فورس کے چار جوان شامل ہیں۔ ایسے متعدد واقعات تاریخ میں رقم ہو چکے ہیں جن میں پنجاب پولیس کے افسران و اہلکاروں نے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کر کے فرض شناسی کی اعلی مثالیں قائم کیں۔ یہ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ صوبہ میں امن و امان کے قیام کے لئے پنجاب پولیس کے اقدامات کی وجہ سے دہشت گردوں کا راستہ رکا ہوا ہے اس لئے وہ پولیس کو براہ راست نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ حقیقیت پولیس کا ہر جوان جانتا ہے لیکن وطن سے محبت اور فرض کی ادائیگی کا جذبہ ہر روز ان افسران و اہلکاروں کو متحرک رکھے ہوئے ہے۔
آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے اپنے عہدے کا چارج لیتے ہی شہید پولیس اہلکار کی قبر پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی جو اس بات کا اعلان ہے کہ پنجاب پولیس کے سربراہ نہ صرف یہ کہ پولیس شہدا کو اپنا ہیرو مانتے ہیں بلکہ ان کے اہل خانہ کے لئے بھی فکر مند رہتے ہیں۔پنجاب پولیس کے سربراہ نے تمام افسران و اہلکاروں کو بھی ہدایت دی ہے کہ اپنے اپنے ریجنز اور اضلاع میں موجود شہدا کی فیملیز کا خاص خیال رکھا جائے اور ان کے مسائل کوترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ شہید افسر یا اہلکار کے بچوں کی گارڈین پولیس ہے اس لئے ان کے بچوں کو ہر لمحہ اپنی سرپرستی اور شفقت کا احساس دلاتے رہیں۔ پنجاب پولیس کی ایک خوبصورت روایت یہ بھی ہے کہ جب کسی شہید افسر یا اہلکار کی بیٹی کی شادی ہو تو سینئر آفیسرز خود جا کر بطور سرپرست برات کا استقبال کرتے ہیں اور بیٹی کو ایک باپ کی طرح رخصت کرتے ہیں۔ اس موقع پر دلہا دلہن کو تحائف دیئے جاتے ہیں اور پولیس کی جانب سے جہیز کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔
پنجاب پولیس کے 1573 شہدا کی فیملیز ہمارے ارد گرد انہی گلی محلوں میں رہتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ پولیس کے علاوہ عوامی سطح پر بھی انہیں وہ حق دیا جائے جو قوم کے محسن کی فیملی کا ہوتا ہے۔ ان کو عزت و احترام دیں، ان کے چھوٹے چھوٹے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اپنی گلی کو شہید کے نام سے منسوب کر دیں۔
ان کے اہل خانہ کے اعزاز میں تقریبات کا اہتمام کریں اور ان ہیروز کی بہادری اور قربانیوں کا کھلے دل سے اعتراف کریں۔ ان کے یتیم بچوں کی سرپرستی کریں، ان کی تعلی اور دیگر معاملات میں مدد کریں۔ ان کے بوڑھے والدین کا سہارا بنیں۔ یہ شہدا پر ہمارا احسان نہیں بلکہ ان کا حق ہے۔
یوم شہدائے پولیس قوم کے ان بہادروں کی قربانیوں کے اعتراف کا دن ہے، ہمیں یہ اعتراف کھلے دل سے کرنا چاہئیاور دنیا کو بتانا چاہئے کہ ہم اپنے ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے میں بخل کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ ہم زندہ قوم ہیں جو ہمیشہ کی زندگی پا نے والے شہدا کو کبھی نہیں بھولیں گے۔
شہدائے پولیس کے اہل خانہ کی کفالت کے لئے محکمانہ اقدامات(باکس میں لگا دیں) یہ درست ہے کہ کسی بھی انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا اور قربانیوں کو دولت میں نہیں تولا جا سکتا۔ کسی بھی عظیم مقصد کے لئے اپنی جان قربان کرنے والوں کے نام تاریخ میں سنہری حروف میں لکھے جاتے ہیں۔
یہی لوگ قوم کے اصل ہیرو ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ بھی سچ ہے کہ گھر کے واحد کفیل کی شہادت کے بعد اس خاندان کے لئے ضروریات زندگی کے وسائل کم ہو جاتے ہیں۔ شہید کی فیملی کو بھی رہائش، کھانا، بچوں کے تعلیمی اخراجات سمیت متعدد مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ اس لئے پنجاب پولیس شہدا کی فیملی کی مکمل دیکھ بھال کرتی ہے اور ان سے مسلسل رابطہ رکھتی ہے۔
پنجاب پولیس کے سربراہ شہدا کے خاندان کو اپنے خاندان کی طرح سمجھتے ہیں۔ شہید افسریا اہلکار کو زندہ تصور کرتے ہوئے اہل خانہ کو شہید کی ساٹھ سال عمر ہونے تک مکمل تنخواہ اور الاونس دیے جاتے ہیں اور 60 سال کے بعد پینشن جاری کی جاتی ہے۔ شہید کے بچوں کے مکمل تعلیمی اخراجات اٹھائے جاتے ہیں۔ شہید کے اہل خانہ کو اس کی ریٹائرمنٹ کی عمر تک سرکاری گھر کی سہولت میسر رہتی ہے۔ شہدا کوٹے پر خاندان کے ایک فرد کو پولیس فورس میں بھرتی کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ پنجاب پولیس کی کاوشوں سے حکومت نے شہدا پیکج بھی منظور کروایا ہوا ہے جس میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہید کی فیملی کے لئے فوری طور پرمالی مسائل کے حل اور رہائش کا مناسب انتظام کیا جاتا ہے اس سلسلے میں شہید کی فیملی اپنی پسند کا گھر لے سکتی ہے جس کی ادائیگی محکمہ کی جانب سے کی جاتی ہے۔
اسی طرح فیملی کو ٹرانسپورٹ بھی مہیا کی جاتی ہے تاکہ انہیں شہید کے جانے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ پنجاب پولیس اور حکومت کی جانب سے شہدا کی فیملیز کی مکمل کفالت کی جاتی ہے اور اسے احسان نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ ذمہ داری ایک فرض کے طور پر ادا کی جاتی ہے۔
سنٹرل پولیس آفس میں ڈی آئی جی سطح کے آفیسر شہدا کے خاندانوں اور معذور ہو جانے والے غازیوں کی ویلفیئر کے لئے تعینات ہیں جبکہ آئی جی پنجاب خود بھی ان کی ویلفیئر کے معاملات کی مانیٹرنگ کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں