paksitan civil Aviation 34

سپریم کورٹ کا کراچی میں سول ایوی ایشن کلب ختم کرنے کا حکم

 کراچی: سپریم کورٹ نے شہر میں سول ایوی ایشن کلب کو ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے جگہ کو میس کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سول ایوی ایشن اراضی پر کلب اور شادی ہال بنانے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے ڈی جی سول ایوی ایشن سے کہا کہ آپ کیسے کاموں میں لگ گئے، شادی کے کھانے اور شادیاں کرانے پر پورا دن لگ جاتا ہوگا، کل جہاز اڑانے کی جگہ پر بھی کلب بنا دیں گے آپ لوگ، یہ سب کب سے کرنے لگے آپ لوگ؟۔

ڈی جی سول ایوی ایشن نے بتایا کہ یہ نوے کی دہائی سے شروع ہوا، یہ آفیسرز کے لیے کلب بنایا گیا ہے، پرائیوٹ لوگوں کو بھی ممبر شپ دے رکھی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مطلب پرائیوٹ لوگ بھی سول ایوی ایشن سہولیات انجوائے کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عام ملازمین کے لیے یہ سہولت کیوں نہیں؟۔

عدالت نے سول ایوی ایشن کو کلب ختم کرنے کا بڑا حکم دے دیا جبکہ کلب کی جگہ کو میس کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی، تاہم اس میس کو نجی افراد کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں