Inter result 23

انٹر کے نتائج مشکوک ہوگئے، 22 ہزار میں سے صرف ایک امیدوار نے نقل کی

کراچی:اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی جانب سے جاری کیے جانے والے انٹرمیڈیٹ سال 2021 کے نتائج نے تعلیمی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑدی ہے۔

نتائج کے گزٹ میں نقل یا means unfair کے کیسز کے جو اعداد و شمار پیش کیے جارہے ہیں اس کے مطابق انٹر سال دوئم پری میڈیکل کے امتحانات میں شریک ہونے والے 22 ہزار طلبا میں سے صرف ایک امیدوار نقل کرتے ہوئے پایا گیا ہے جس پر ان فیئر مینز کا کیس بنایا گیا ہے۔

بورڈ کے گزٹ میں موجود اس تفصیل کو دیکھنے کے بعد تعلیمی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ کیا کووڈ وبا کے بعد پہلی بار منعقدہ امتحانات میں انٹر کی سطح پر امیدواروں نے نقل ترک کردی ہے اور کورونا وبا میں گھر بیٹھے امیدواروں نے مکمل طور پر اپنی ذہانت کا امتحان دیا ہے یا بورڈ کی ویجلنس ٹیمیں نقل کرنے یا دیگر ناجائز ذرائع سے پرچے حل کرنے والے امیدواروں کو پکڑنے میں ناکام رہی ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پڑی انجینئرنگ کے جاری کیے گئے نتائج میں ان فیئر مینز کے صرف 9 کیس گزٹ میں ظاہر کیے گئے تھے تاہم اب 21950 میں سے ان فیئر مینز کے محض ایک کیس نے سب ہی کو حیران کردیا ہے اور تعلیمی حلقے انٹر بورڈ کراچی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے حوالے سے شکوک کا اظہار کررہے ہیں۔

بعض اساتذہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر بورڈ کے جاری اعداد و شمار کو درست مان لیا جائے تو انٹر بورڈ کا پورا ویجلنس کا نظام ہی مشکوک ہو جائے گا اور اس کی بحث کا آغاز ہوگا کہ کیا لاکھوں روپے کی اجرت کے عوض ویجلنس کا کام کرنے والی ان ٹیموں کے دوران امتحانات اپنی آنکھیں بند کی ہوئی تھی کہ وہ نقل سمیت دیگر ناجائز ذرائع سے پرچے حل کرنیوالے امیدواروں کو نہیں پکڑ سکیں جبکہ ان ٹیموں کو ویجلنس کے معاوضے کی ادائیگی دور دراز امتحانی مراکز میں جانے پر کلومیٹر کے حساب سے کی جاتی ہے۔

ایک کالج پرنسپل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب واٹس ایپ پر پرچے آؤٹ ہونے کی خبریں گردش کررہی ہوں ایسے میں اس فعل میں ملوث امیدوار کیا کمرہ امتحان میں اپنی ذہانت سے پرچے حل کریں گے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ انٹر بورڈ کراچی نے پری میڈیکل گروپ کا جو گزٹ سوشل میڈیا پر جاری کیا ہے اس میں اس صفحے کو ہی غائب کردیا ہے جس میں مذکورہ اعداد وشمار موجود ہیں اور اسے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔

اس صورتحال پر بورڈ کا موقف جاننے کیلیے ایکسپریس نے جب نتائج جاری کرنیوالے نائب ناظم امتحانات اسلم چوہان سے رابطہ کرکے ان سے معاملے کہ وجہ جاننے کی کوشش کی تو حسب سابق ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ سائنس پری میڈیکل کے امتحانات میں 22 ہزار 219 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی تھی اور21 ہزار 950 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے جبکہ 20ہزار 637 امیدوار کامیاب قرار پائے اور کامیابی کا تناسب 94.02 فیصد بتایا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں