26

عورت کے حقوق

اللہ تعالی نے جو بھی حقوق مرد و عورت کو عطا کیے ہیں، ان میں کہیں بھی competition یا مقابلہ بازی نہیں ہے بلکہ دونوں کے الگ مدار ہیں جن کے اندر رہ کر انکو اہنا اپنا کام کرنا ہے۔عورت اور مرد کا role allocationایک jigsaw puzzle کی طرح ہے، اگر ہر ٹکڑے کو اپنی جگہ پہ درست طریقے سے رکھ دیا جائے تو کہیں پر بھی بدامنی نہ ہو اور نہ گھر کا سکون خراب ہو۔ قدرتی ساخت کے اعتبار سے بھی مرد و عورت ایک جیسے نہیں اور نہ ایک جیسا میٹابولزم یا انرجی لیول رکھتے ہیںاس لیے انکے حقوق بھی ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔اسلام نے عورت کو حد سے زیادہ حقوق و آذادی عطا کی ہے۔ہمارے مسائل اسی لیے کم نہیں ہوتے کیونکہ ہم نے وہ قوانین لاگو نہیں کیے جس سے مرد و عورت کے حقوق کا درست تعین ہوسکے۔عورت کو درپیش بنیادی مسائلوراثت میں حصہ نہ ملنا،ہرزہ ارزانی (harassment)کے ایشواگر ورکنگ خواتین ہیں تو انکے لباس کا modest ہوناگھریلو تشدد(domestic violence) بچے کی ماں یا گھر کی بہو پر ضرورت سے زائد کاموں کا بوجھ ڈالنا ولی کا misguide ہونااس میں ماں کا کردار سب سے نمایاں ہے کیونکہ وہی اپنے بیٹے کی صحیح تربیت کریگی تب ہی وہ اپنی بیوی، بہن اور بیٹی کو معاشرے میں صحیح مقام دلا سکے گا۔ہمارے کرنے کے کامعلم و آگہی حاصل کرنا عورت کی بے جا آذادی نہیں بلکہ آذادی کے بارے میںاللہ تعالی کے احکامات کو سمجھ کر عمل درآمد( facilitate) کرنا ہماری تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب تک ہمارے معاملات قرآن وسنت کے مطابق حل نہ ہوئے، ہمارے مسائل ختم نہ ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں