46

محرم الحرام معیشت میں ترقی کااہم سبب

شبیر احمد شگری

اللہ کا ذکر زنگ آلود دلوں کی صفائی کے لئے آب رحمت ہے، ذکرِ اللہ بے چین دلوں کا چین ہے، جس طرح کسی مسافر کو اپنے وطن میں آکر سکون حاسل ہوتا ہے اسی طرح اللہ کے ذکر سے دل و روح کو اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح ہر مصیبت و تکلیف میں رب کو یاد کرنے کا حکم ہے۔
بعض روایتوں کے مطابق افضل ذکر” تسبیح فاطمہ(س)’ اللہ اکبر، الحمدللہ اور سبحان اللہ ہے، جو کہ جگر گوشہ بتول ، زوجہ حضرت علی ، مادرِ امام حسن و امام حسین سے منسوب ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے محبوب ترین ہستی حضرت محمد ۖاور ان کی آل پاک کا ذکر بھی نہ صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا سبب ہے بلکہ ہمارے روح کی غذا ،اندھیروں میں روشنی ہے بلکہ ہمارے اعمال خیر اوررزق میں اضافے کے علاوہ آخرت میں نجات کا بھی ضامن ہے۔ محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی ذکر و محافل کا سلسلہ شروع ہے۔کثرت سے لو گ اللہ کے محبوب ترین ہستیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی یاد محرم کے مہینے کے شروع ہوتے ہی تجدید عہد کے ساتھ دوبارہ تازہ کر لیتے ہیں اگرچہ یہ یاد ان کے دلوں میں سدا زندہ رہتی ہے۔ جسے وہ پورا سال فراموش نہیں کرسکتے۔ حتیٰ کہ گور کے دامن میں جا سوتے ہیں لیکن اس زندہ یاد، محبت ،ذکر اور توشہ کے ساتھ محشور کئے جائیں گے۔جہاں انھیں اس ذکر کا اصل صلہ ملنے والا ہے۔
عام سوچ کے برعکس یہ ذکر اور مجالس کی محفلیں صرف چند افراد سے تعلق نہیں رکھتی ہیںبلکہ بالواسطہ یا بلاواسطہ اس کا تعلق پورے معاشرے پورے ملک سے ہے۔ جو کہ معیشت پر ایک بہت گہرا اثر بھی رکھتی ہیں۔اور اس کی ترقی میں ایک اہم کردار صدیوں سے ادا کر رہی ہیں۔
کم ازکم اعداد و شمار کے مطابق جو میں آگے بیان کروں گا اس ملک کے بجٹ کا ایک چوتھائی حصہ محرم الحرام کا مرہون منت ہے۔ کسی بھی موقع پر جب کاروبار بند ہوتا ہے تو ملک کی معیشت کو شدید دھچکا لگتا ہے ۔ لیکن محرم الحرام کے دوران جب کاروبار بند رہتا ہے تو معجزانہ طور پر معیشت نہ صرف چلتی رہتی ہے بلکہ اس میںمزید اضافہ بھی ہوتا ہے ۔
اور یہ کس طرح ہوتا ہے یہ جاننے کے لئے محرم الحرام میں ہونے والے اخراجات پر نظر ڈالتے ہیں یاد رہے کہ ان اعداد و شمار میں کم سے کم اندازہ شمار کیا گیا ہے ۔در حقیقت محرم الحرام میں ہونے والے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہیں جس کے اندازے کی کوئی حد نہیں ہے۔
تبرکات کے لئے ملک میں اربوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں ۔کچھ افراد تعزیوں پر سالانہ لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں، تعزیہ سازی ایک بہت بڑی صنعت ہے۔دنیا میں بہت سی اقسام کے اور چھوٹے بڑے تعزیے خوبصورت شکلوں میں تیار کئے جاتے ہیں۔
تعزیہ سازی کا ذکرآیا ہے تو ایک بات آپ سے مثال کے طور پر شئیر کرتا چلوں جس سے آپ کو مومنین کی آئمہ طاہرین علیھم السلام اور واقعہ کربلا سے عقیدت اور وابستگی کا اندازہ ہوجائے گا۔ گذشتہ سال مجھے معلوم ہوا کہ لاہور سے کچھ لوگ تعزیہ بنوانے کے لئے کراچی گئے جن کے پاس گئے وہ نسل در نسل تازیہ سازی کا کام مہارت سے کر رہے ہیں۔ لیکن مجھے یہ جان کر حیرانگی ہوئی کہ اس پارٹی کو انھوں نے 70سال بعد کا ٹائم دیا یعنی ان کا آرڈر کیا ہوا تعذیہ انھیں 70 سال بعد ملے گا۔کیوں کہ باری کے حساب سے ان کا ٹائم یہی بنتا ہے ۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا ضمانت ہے کہ 70 سال بعد آپ موجود ہوں گے ۔تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم نسل در نسل یہی کام انجام دے رہے ہیں اگر ہم نہیں تو ہماری اولاد آپ کو یہ تعذیہ دے دے گی۔ ایک ضمانت یہ بھی تھی کہ وہ یہ تعذیہ قیمتاً نہیں بلکہ بلا معاوضہ بنا کر دے رہے ہیں ۔اس بات سے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ واقعہ کربلا ،امام حسین علیہالسلام اور ان کے رفقائے کار کی قربانیاں تا قیامت یاد رکھی جائیں گی اورچاہے کوئی جتنا مرضی کوشش کر لے اسے نہیں مٹا سکتا۔
چنیوٹ شہر جو اپنے تازیوں کی وجہ سے مشہور ہے اوروہاں زیادہ تر تعزیہ بنانے والے اور نکالنے والے شیعہ نہیں بلکہ اہلسنت بھائی ہیں –
اسی طرح لاہور میں اہلسنت بھائیوں کے تازیوں کے جلوس صدیوں پرانے ہیں۔اس کے علاوہ محرم کے مختلف رسوم جیسے سبیل لگانا ، تعزیہ نکالنا ، مجلس کا انعقاد نیاز و تبرک تیار کرنا اور بانٹنا – ان سے نا صرف معاشی فایدہ ہوتا ہے بلکہ اس سے شیعہ سنی مسلمانوں کے درمیان آپسی بھائی چارے کو بھی فروغ ملتا ہے۔ جو ملک کے استحکام کے لئے انتہائی ضروری ہے – یہ اتحاد یقینی طور پر اسلام دشمن عناصر کے لئے ایک بری خبر ہے ۔
ایک اندازے کے مطابق صرف پاکستان میں تقریباً 2 لاکھ تعزیے تیار کئے جاتے ہیں ۔جن کی قیمت کئی ہزار سے لے کر لاکھوں روپے تک ہوتی ہے۔اور اگر ہم ایک تعزیے کی قیمت کم از کم 5000 روپے بھی رکھ لیں تو ایک ارب سے زائد رقم صرف تعزیہ سازی کی صنعت سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔جو کہ نہ صرف ان کے بنانے والوں بلکہ اس سے واسطہ رکھنے والے دیگر افراد کی آمدنی اور رزق میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہے۔
روز عاشور کے دن نیاز اور متعدد قسم کے شربت تیار کئے جاتے ہیں ۔اگر ملک کی 50% آبادی کو نکال کر باقی 50% افراد میں پانچ افراد فی خاندان،انفرادی نیاز کے اندازے کے لئے فی گھر صرف 300 روپے فی گھر بھی حساب کیا جائے تو ساڑھے پانچ ارب روپے صرف
عاشورہ کے دن انفرادی نیاز کی مد میں خرچ کئے جاتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق محرم اور چالیسویں کے لئے امام بارگاہوں ،مزاروں ،محلوں ،گلیوں اور دیگر مقامات پر حلیم کی دیگیں بنائی جاتی ہیں۔ اکثرمقامات پر یہ دیگیں 100 تک کی تعداد مین بھی ہوتی ہیں۔اگر ان دیگوں کی مالیت کے اندازے کے لئے ملک کی 50% آبادی نکال کر باقی کی آبادی کے فی گھر پانچ افراد کی تعداد لی جائے تو یہ ایک کروڑ اسی لاکھ فیملیز نکلیں گی۔ ان فیملیز میں سے صرف10فیملیز کے ہاں صرف ایک دیگ کی حلیم بننے کا بھی حساب رکھ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ملک میں 10 ارب روپے کی تو صرف حلیم تیار کی جاتی ہے۔
پاکستان کی آبادی کے 12% محفوظ آبادی کی جانب دیکھا جائے جن کی جانب سے مجالس کے سلسلے کثرت سے جاری رہتے ہیں ۔ 12%آبادی جو تقریباً دو کروڑ بنتی ہے تو اگر پانچ افراد فی گھر کے حساب سے اندازہ لگایا جائے تو 40 لاکھ خاندان بنیں گے۔ اور 40 لاکھ خاندان ایسے ہیں جو اپنے گھروں میں کم از کم ایک مجلس کا اہتمام ضرور کرتے ہیں۔
اگر خواتین کی صرف ایک بڑی مجلس کا اندازہ صرف 25000 روپے بھی لگایا جائے تو ان چالیس لاکھ خاندانوں کی جانب سے مجالس پر کیا جانے والا کل خرچہ 100 ارب نکلے گا ۔
امام بارگاہوںکی تزئین،اور ان میں سونے چاندی کے استعمال، مجالس کے لئے لائیٹنگ اور قناعتوں کے اخراجات ،مجالس کے لئے اشتہارات اور بینر ز کے اخراجات،سبیلون کے اخراجات،یکم سے دس محرم تک شربت اور دودھ کی سبیلوں کے اخراجات،کالے لباس کی خرید اور سلائی کے اخراجات،اور مجالس میں آنے اور جانے کے لئے پٹرول اور سی این جی کے اخراجات کسی صورت کم از کم دسیوں ارب روپے ہی ہوں گے۔
لیکن اگر ا سے 10ارب روپے سمجھ کر بھی دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ محرم کے دوران 126 ارب روپے کی پیداوار ہوتی ہے۔تو گویا محرم الحرام میں 126 ارب روپے کے اخراجات مجموعی قومی شرح نمو کا کم از کم ایک چوتھائی حصہ ہے۔
یہ اعداد و شمار تو صرف پاکستان کے لئے ہیں اور کم سے کم رکھے گئے ہیں ابھی ذاکرین اور خطیب کو دئیے جانے والے ہدیوں کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا ہے اگر وہ بھی شامل کئے جائیں تو نامعلوم کتنے گنا زیادہ حساب بن جائے گا جس کا حساب کرنا بھی مشکل ہوگا۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ درحقیقت یہ ساری دنیا محمد ۖ و آلِ محمد ۖکے صدقے میں ہی کھا اور پی رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں