31

”خدا کے ذہن کا فن پارہ عظیم ہوں میں”

آصف بھلی

یہ محض اتفاق ہے کہ جب بانگ درا فاؤنڈیشن نے مجھے احمد ندیم قاسمی کی شخصیت اور فن کے حوالے سے ایک تقریب میں گفتگو کی دعوت دی تو اس سے دو تین دن پہلے مجھے ”ماہِ نو”کا احمد ندیم قاسمی نمبر صائمہ بٹ کی مہربانی کے باعث دستیاب ہوگیا تھا۔ ”ماہ نو” نے 1948ء میں اپنی اشاعت کے سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس جریدے کی مجلس ادارت سے پاکستان کے نامور ادیب اور شاعر منسلک رہے۔ اب شبیہ عباس ، صائمہ بٹ اور مریم شاہین کی ادارت میں ”ماہِ نو ”شائع ہو رہا ہے اور حال ہی میں احمد ندیم قاسمی کی بے مثال ادبی شخصیت کے حوالے سے ایک خصوصی نمبر کی اشاعت کے بعد ” ماہِ نو ” کا ایک انتخاب نمبر بھی شائع کیا گیا ہے جو 1987ء سے لیکر 2015ء تک 28سالوں کی منتخب تحریروں پر مشتمل ہے ۔
فی الحال میں ذکر کر رہا ہوں احمد ندیم قاسمی کی فکری اور تخلیقی شخصیت کے حوالے سے سیالکوٹ میں منعقد ہونے والی ایک تقریب کا ۔ میری اس تقریب میں گزراشات یہ تھیں کہ احمد ندیم قاسمی زندگی آموز ادب کے علمبردار تھے۔ ان کے فن میں بے ساختہ پن اپنے اوج پر تھا۔۔ اگر کسی شخصیت کا فن بے ساختگی کے جوہر سے محروم ہو تو میرے نزدیک اس میں تخلیقی حسن پیدا ہی نہی ہو سکتا ۔ احمد ندیم قاسمی کے فن کی دوسری خوبی یہ تھی کہ وہ سماجی بصیرت اور اجتماعی احساس سے جڑا ہوا تھا۔ قاسمی صاحب کا ادب جذبے کے اظہار کا دوسرا نام تھا۔ ان کی شاعری میں فکر اور احساس کا ایک خوبصورت امتزاج تھا۔ احمد ندیم قاسمی کہتے ہیں کہ بڑی شاعری کے لیے فکر واحساس کی یکجائی ضروری ہے۔ قاسمی صاحب کے فن میں علم بھی تھا۔ فکری بھی تھی اور احساس کی گہرائی بھی ۔اور ان کی شاعری میں حسن و توازن کی اعلیٰ اقدار کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا ایک پیغام بھی ہے ۔ احمد ندیم قاسمی کی سوچ میں عالمگیر یت تھی لیکن انہیں اپنے پاکستانی ہونے پر بے پناہ فخر تھا۔ وہ کہتے تھے کہ میں دنیا بھرمیں امن و آشتی کے قیام کا علمبردار ہوں لیکن اگر مسئلہ میرے وطن پاکستان کے ناموس و تحفظ کا ہو تو پھر میں اس کے لیے لڑ بھی سکتا ہوںاور اس کی آن پر مر بھی سکتاہوں ۔وہ فرماتے تھے کہ مجھے اس بات کی پراوہ نہیں کہ کوئی مجھ پر تنگ نظری کا الزام عائد کر دے ۔ میں اس ماں کو ،اپنے وطن کو کیسے بھول سکتاہوں ۔ جس نے مجھے جنم دیا ، جس کی ہواؤں نے میری پرورش کی اور جس کے قدموں میں میری جنت
ہے۔
احمد ندیم قاسمی کہا کرتے تھے کہ حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں ۔ریاست اور مملکت کے امور کو چلانے والے بدلتے رہتے ہیں ۔ عوام کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکمرانوں کو ان کی غلطیوں پر ٹوک سکتے ہیں ،ان کا محاسبہ کر سکتے ہیں ۔ لیکن مملکت اور ریاست ایک مستقل حقیقت ہے۔ وطن کی سلامتی اور استحکام ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے اور ایمان کو تبدیل نہیں کیا جاتا ۔ احمد ندیم قاسمی کے نزدیک پاکستان ایک نظریاتی مملکت تھی اور ہے ۔ ان کا ارشاد تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ یہ ایک تاریخ ساز شاعر اور مفکر کا خواب ہے۔ جو ایک تاریخ ساز قائد اور ایک تاریخ ساز تحریک کی بدولت قائم ہُوا ۔
میںنے ”ماہ ِنو” کے احمد
ندیم قاسمی نمبر ہی میں قاسمی صاحب کی ایک تقریر پڑھی ہے ۔ جس میں وہ فرماتے ہیں کہ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ پہلے نظریۂ پاکستان سے راہنمائی اور توانائی حاصل کی اور پھر پاکستان کاقیام عمل میں آیا ۔ احمد ندیم قاسمی کو خود بھی تحریک پاکستان میں عملی طورپر حصہ لینے کا اعزاز حاصل تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ جس طرح ہر صورت اور ہر حال میں ہمیں مملکت پاکستان کا وفادار رہنا چاہیے ۔ اسی طرح نظریۂ پاکستان سے ہماری وفاداری غیر مشروط اور مستحکم رہنی چاہیے ۔احمد ندیم قاسمی نے کہا کہ نظریۂ پاکستان وہی ہے جو ہم نے قائد اعظم اور علامہ اقبال سے سیکھا تھا۔ قائداعظم اور علامہ اقبال عظیم مسلمان تھے۔ ان کا قرآن پاک کے فرمان اور حضور نبی پاک ۖ کے ارشادات پر پختہ اور غیر متزلزل ایمان تھا۔ یہی نظریۂ پاکستان ہے احمد ندیم قاسمی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مملکت پاکستان اور نظریہ پاکستان کو ہم سب کی مشترکہ وفاداری نے جنم دیا اور اس کو قائم رکھنے کے بھی ہم مشترکہ طور پر ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ پاکستان کے شاعر ، ادیب ،اور مصّور پاکستان کی تہذیبی اور روحانی اقدار کے محافظ ہیں۔
ادیب اور مملکت کے رشتے کی وضاحت کرتے ہوئے احمد ندیم قاسمی نے کہا کہ ہمارا نقطۂ نظریہ ہے کہ قومی اور مملکتی مفادات کو ہر صورت اور ہر حال میں ذاتی مفادات پر فوقیت دی جائے اور اس کی عملی صورت یہ ہونی چاہیے کہ ملک میں استحصال کی بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی ہر شکل کو یک قلم ختم کر دیا جائے۔ یہاں کا ہر فرد خود کو خوشحال اور خود کفیل محسوس کرے۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر علاقائی اور صوبائی تعصبات کی گنجائش ختم ہو جائے گی۔ اور مملکت کے روشن مستقبل پر سب کا اعتقاد مضبوط ہو جائے گا۔ احمد ندیم قاسمی فرماتے تھے کہ ہمارے حکمرانوں کو مملکت اور حکمران کے فرق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ اور یہ بھی جان لینا چاہیے کہ ہم اہل قلم کی وفاداری غیر مشروط طورپر صرف اورصرف اپنی مملکت کے ساتھ ہے ۔ ہم حریت فکر اور آزادی ٔ اظہار کے اپنے حق سے کسی حکمران
کی خاطر دستبردار نہیں ہو سکتے۔ ادیب اگر سوچنا اور اظہار کرنا چھوڑ دے تو پھر معاشرہ ، جمود اور انحطاط کا شکار ہو جاتاہے جو ہر گز مملکت کے مفاد میں نہیں ہے۔احمد ندیم قاسمی کا زندگی بھر یہ نقطۂ نظر رہا کہ ہم ادیب اور شاعر اپنے فن کا اجر کسی سے نہیں مانگتے ۔ ہم صرف اظہار رائے کی آزادی کا حق مانگتے ہیں اور وہ بھی انسانوں کی بھلائی کیلئے اورا پنی مملکت کے استحکام و ترقی کیلئے ۔ پاکستان فکرو اظہار کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر اور ووٹ کی طاقت کے ذریعے حاصل کیا گیا تھااور حق بات کے اظہار سے ملک مضبوط ہو تے ہیں مگر ہر دور کے حکمران اظہار رائے کی آزادی سے خوفزادہ رہتے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی نے اپنی ایک تحریر میں حکومت کیلئے ریل گاڑی کھینچنے والے انجن کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ انجن میں اگر خرابی آجائے اور یہ خرابی دور کرنا ممکن نہ ہو تو پھر انجن تبدیل کر دینا ضروری ہو جاتاہے ۔ کیوں کہ ریل گاڑی کاسفر جاری رہنا ضروری ہے ۔ادیب اور شاعر ہر حال میں اپنے ملک کو سر بلند اور باوقار دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اگر حکمرانوں کی بھی یہی سوچ اور عمل ہو تو پھر انہیں اہل ِ قلم سے خوفزدہ نہیں ہو نا چاہیے۔تقریب کے اختتام پر احمد ندیم قاسمی کے منتخب اشعار کی مجھ سے فرمائش کی گئی۔ آپ بھی قاسمی صاحب کا کمالِ فن دیکھیں ۔
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیراۖ
اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیراۖ

پورے قد سے میںَ کھڑا ہوں تو یہ تیراۖ ہے کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیراۖ

قطرہ مانگے جو کوئی ، تو اسے دریا دے دے
مجھ کو کچھ اور نہ دے ، اپنی تمنا دے دے

خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اُترے
وہ فضلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کیلئے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو

اگر گِروں تو کچھ اس طرح سر بلند گِروں
کہ مارکر، مرا دشمن مجھے سلامی دے

وہ اعتماد ہے مجھ کو سر شتِ انساں پر
کسی بھی شہر میںجاؤں ،غریب شہر نہیں

یہ فقط میرا تخلص ہی نہیں ہے کہ ندیم
میرا کردار کا کردار ہے اور نام کا نام

دشمن بھی جو چاہے تو مری چھاؤں میں بیٹھے
میَں ایک گھنا پیڑ سرِ راہ گزر ہُوں

کچھ نہیں مانگتے ہم لوگ بجز اذنِ کلام
ہم تو انسان کا بے ساختہ پن مانگتے ہیں

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن
یہ الگ بات کہ دفنا ئیں گے اعزاز کے ساتھ

میَں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں
مرے ہمراہ دریا جار ہاہے

مجھ کو نفرت سے نہیں پیار سے مطلوب کرو
مَیں تو شامل ہُوں محبت کے گنہگار وں میں

زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں