22

ڈپٹی کمشنر سائرہ عمر ،خیر کے کام کیے جائیں

عتیق انور راجا

شروع دن سے یہ طے کر لیا تھا کہ جب بھی کسی انتظامی افسر کے دفتر جایں گے تو ساتھ پھول لے کے نہیں جانا۔اور اگر کوی ہماری بزم میں آے تو ہماری پہچان بن چکی ہے کہ آنے والوں کی راہ میں پھول ایک طرف ہم پلکیں بچھا دیا کرتے ہیں۔ایک مدت سے لکھنے لکھانے کا سلسلہ چل رہا ہے ۔کبھی کبھی ریڈیو ٹی وی سے بھی بلاوہ آجاتا ہے ۔وزیر اعلی ہاوس میں کالمنگاروں کے ساتھ بہت سے سیشن اٹینڈ کر رکھے ہں ۔اس لیے بہت سے بیورکریٹس سے اچھی سلام دعا ہے ۔رابطہ رہتا ہے ۔لیکن ملنے انہی سے جاتا ہوں جو ادب دوست ہوں جو بات کریں تو احساس ہو کہ انہیں معاشرے میں علم و ادب کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔جو ہمارے صحافیوں،کالمنگاروں اور سماج سیوکوں کی چکنی چپڑی باتوں سے مرعوب نہ ہوتے ہوں بلکہ ایسے چہرہ شناس ہوں کہ انہیں خود پتہ چل جاے سامنے بیٹھا بندہ واقعی صحافی ،شاعر،دانشور اور کالمنگار ہے یا آفیسرز کے ساتھ فوٹو بنوا کے شو بازی کرنے کا شوقین ہے ۔آج سے چند ماہ پہلے سٹی پولیس آفیسر سید حماد رضا کی میڈیا ٹیم نے ہمیں ملاقات لیے مدعو کیا ۔ہم نے معزرت کر لی ۔تین چار بار فون کیا گیا تو کچھ احباب کے ساتھ صاحب کے دفتر جا پہنچے جو کالمنگارں سے بھرا پڑا تھا۔سوال و جواب کا دور شروع ہوا تو میں نے صرف ایک سوال کیا تھا کہ صاحب بہادر کیا آپ ہمار لکھے کالم پڑھیں گے ۔اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم یہ ہی کردیجیے کہ آپ کے میڈیا کوارڈینیٹر شہر کے اخبارات میں شاع ہونے والے مقامی مسال پہ لکھے کالم روزانہ کی بنیاد پر آپ کی میز پر رکھنا شروع کردیں۔آپ روز کوی ایک آدھ کالم پڑھ لیا کیجیے گا۔اس سے آپ کو لکھنے والوں سے اور شہر کے مسال سے آگاہی ملتی رہے گی۔عید سے چند روز بعدایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل جناب شبیر بٹ صاحب کو واس میسج کیا بٹ صاحب چاے پینی ہے ۔کب آوں ۔بٹ صاحب نے فوری جواب دیا راجہ صاحب گھر آپ کا ہے دفتر آپ کا ہے ۔جب جہاں دل کرے تشریف لایں۔اگلے ہی دن سجاد سردار بھای کے ساتھ شبیر
بٹ صاحب سے چاے پینے اورسلام دعا کرنے ان کے دفتر جاپہنچے۔یہ سلام دعا ذاتی فادے کے لیے بلکل بھی نہ تھی بلکہ شبیر بٹ صاحب سے ہر ملاقات میں ہم کوشش کرتے ہیں کہ ان کی محبتوں کا فادہ اٹھاتے ہوے شہر میں ادبی و ثقافتی تقریبات کے سلسلے موثر انداز میں آگے بڑھا سکیں ۔گرما گرم چاے پیتے ہوے بٹ صاحب اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سیعید کے دنوں سڑکوں پہ بہتر انتظامات کے حوالے سے گفتگو شروع ہوی ۔ہم نے خوشی اور حیرت سے پوچھا بٹ صاحب آپ عید کے تینوں
دن شہر کی صفای ستھرای اور دیگر امور دیکھتے رہے ہیں۔آپ عید گزارنے اپنے آبای علاقے نہیں گے ۔بٹ صاحب نے کہا میری عید ماں جی کے ساتھ ہی ہوتی ہے اور اب بیماری کے سبب میری ماں جی کے لیے سفر کرنا مشکل ہے ۔اس لیے میں یہیں ہوں۔گفتگو کے دوران شہر میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بہت سی باتیں ہوتی رہیں ۔شبیر بٹ صاحب نے ہمیں مشورہ دیا کہ طلبا کو ادب سے جوڑنے کے لیے ایک مشاعرہ کسی کالج میں بھی کروایں ۔ بٹ صاحب نے ہمیں یقین دلایا کہ نہ صرف وہ بلکہ پوری ضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں ہمارے ساتھ ہوگی۔شہر میں تعینات ہونے والی ڈپٹی کشمنر سارہ عمر کے بارے پوچھا تو بٹ صاحب نے بتایا میڈیم بہت باصلاحیت اور قابل آفیسر ہوں ۔ وہ شہریوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔وہ نہ صرف دفتر کو مناسب وقت دے رہی ہیں بلکہ ساتھ ساتھ شہر کے مختلف علاقوں کے دورے کرکے مسال حل کروانے کی بھی کوشش کررہی ہیں۔شبیر بٹ صاحب سے اجازت لے کے ان کے دفتر سے باہر نکلے تو بارش خوب جم کے برس رہی تھی ۔برآمدے میں کچھ پل رکنے کے بعد ہم حافظ وحید میڈیا پی آرو
ڈپٹی کمشنر کے دفتر جا بیٹھے ۔حافظ وحید کے ساتھ بہت دیر گفتگو کا سلسلہ چلتا رہا ۔انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ میڈیم ڈپٹی کمشنر سے ہمارا غابانہ تعارف کرواچکے ہیں۔اور میم نے کہہ رکھا ہے کہ مقامی و قومی اخبارات میں عوامی مسال اور اخلاقی قدروں پہ لکھنے والوں کو رابطے میں رکھیں ۔حافظ صاحب نے ہمیں دعوت دی کہ ہم اپنے ساتھ پاکستان کالمسٹ ایسوسی ایشن کے کالم نگاروں اور سابان کے سماج سیوکوں کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر صاحبہ سے ملاقات کے لیے تشریف لایں ۔لیکن ہماری مجبوری کہ ایسا ہونہ سکا۔اس دوران سوشل اور پرنٹ میڈیا پہ میڈیم سارہ عمر کے کارنامے نظروں کے سامنے سے گزرتے رہے ۔ہمارے دوست کہتے رہے کہ راجہ صاحب چلیں ہم بھی میم کو پھول پیش کرنے ان کے دفتر چلتے ہیں۔لیکن ہم باامر ِ مجبوری ایسا کرنے قاصر ہی رہے۔ہمارے ساتھی راجہ افضال نے بتایا کہ ایک مدت سے گوندلانوالہ گاوں میں سیوریج کے مسال نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کر رکھی تھیں ۔مجھ سے سمیت بہت سوں نے اس دوران گوندلانوالہ کے اس مسلہ کو حل کروانے کے لیے نہ صرف اخبارات میں لکھا بلکہ ساتھ واسا کے ذمہ داروں سے بھی ملتے رہے ۔اب ایک بار پھر افضال نے گوندلانوالہ کی گلیوں کی تصاویر شوسل میڈیا پہ شیر کیں اور ڈپٹی کمشنر صاحبہ کو واس بھی کردیا۔ میڈیم سارہ عمر نے نہ صرف ان کی خبر کا نوٹس لیا بلکہ اگلے ہی دن بھاری مشینری کے ساتھ واسا عملے نے صفای کا عمل مکمل کرنا شروع کردیا۔صاحبو میں سمجھتا ہوں کہ آفیسر دوران سروس مختلف اوقات میں مختلف شہروں میں خدمات سر انجام دیتے رہتے ہیں ۔کچھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ان کی تعیناتی کے دنوں بھی بہت کم لوگ جان پاتے ہیں اور کچھ اپنی فرض شناسی ،ذمہ داری،احساس،احسان اور حسن سلوک سے لوگوں کو تادیر یاد رہ جاتے ہیں ۔ہم تو امید پہ جینے والے لوگ ہیں اور اب یہ امید رکھتے ہیں کہ میڈیم سارہ عمر گوجرانوالہ شہر میں سروس کے دوران بہتر سے بہترین کام کرنے کی کوشش کریں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں