Zulagar Ahmed Cheema 26

ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کا خط

ڈاکٹر آمنہ اقبال گوجرنوالہ کی رہائشی اور لاہور کے ایک بڑے تعلیمی ادارے میں پروفیسر ہیں۔ ان کی ای میل موصول ہوئی ہے جس کے چند اقتباسات شیئر کر رہا ہوں۔ لکھتی ہیں،’’میری آٹھ سالہ بیٹی ڈنگی بخار میں مبتلا تھی، میں اسے گوجرنوالہ سے لاہور لے جا رہی تھی تاکہ کسی بڑے اسپتال میں اس کا علاج ہوسکے ۔

میں کامونکی کے قریب پہنچی تو ٹول پلازہ کے ملازمین نے مجھے آگے جانے سے روکا ۔ میں نے پوچھا کیا بات ہے؟ انھوں نے کہاکہ ’’آگے تحریک لبیّک والوں کا جلوس ہے۔‘‘ میں نے کہا،’’رسول اﷲ کے چاہنے والوں کا جلوس ہے تو پھر مجھے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیںہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی ایک مسلم بہن کو یعنی مجھے ہر طرح سے Facilitate کریں گے‘‘۔تھوڑا سا آگے گئی تو پھر ایک پولیس افسر نے روکا اور آگے جانے سے منع کیا ۔ میں نے اسے بتایا کہ میری بیٹی بیمار ہے، اس لیے میں اسے ہر صورت لاہور لے جانا چاہتی ہوں۔

اُس نے کہا  ’’آگے جلوس ہے، آپ کو پریشانی ہوگی۔ ‘‘ میں نے کہا ’’بھائی ، میرا سارا خاندان، میں اور میرا شوہر ہم سب ختمِ نبّوت کے پروانے ہیں، اگر جلوس والے اسی کاز کے لیے نکلے ہیں تو پھر وہ سب میرے بھائی اور بیٹے ہیں، وہ میری کار کے لیے خود راستہ بنوادیں گے۔‘‘ میں نے ان کی بات نہ مانی مگرجونہی میری کار جلوس کے قریب پہنچی تو کچھ ڈنڈا بردار نوجوان میری کار کے آگے اور کچھ سائیڈوں پر آگئے اور کار کو آگے جانے سے روکنے لگے۔

میں نے شیشہ اتار کر کہا، ’’دیکھو بھائیو! میری بیٹی بیمار ہے، میں اسے لاہور لے جا رہی ہوں ، مجھے راستہ دے دیں۔ ‘‘ میرا خیال تھا کہ وہ آقائے دو جہاں رحمت اللعالمینﷺ کی ناموس کے لیے جلوس نکال رہے ہیں، اس لیے وہ نبی کریمؐ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی ایک دینی بہن کو پورے احترام کے ساتھ راستہ دے دیں گے مگر ایسا نہیں ہوا ۔

پورے اہتمام کے ساتھ نماز اور  زکوۃ ادا کرنے والی باحجاب معلمّہ کے لیے گندے لفظ بھی استعمال کیے گئے۔ مجھے زندگی میں پہلی بار ایسے  فقرے سننا پڑے ۔ میرا دماغ ماؤف ہونے لگا۔ ابھی میں اسی صدمے میں تھی کہ چند افراد نے ڈنڈے مار کر میری کار کی ونڈ اسکرین توڑدی ۔ کئی گھنٹوں تک خجل اور خراب ہونے کے بعد میں واپس گوجرانوالہ پہنچی۔ مجھے یقین ہے کہ میری طرح اور بھی سیکڑوںاور ہزاروں مسافر اور مریض پریشان اور در بدر ہوئے ہوںگے ۔

مجھے اِن نِیم خواندہ اور غربت اور بیروزگاری کے مارے ہوئے اور جوشیلے نوجوانوں سے کوئی گلہ نہیں، مجھے تو گلہ اس ملک کے ان علمائے کرام سے ہے جو جلوس کے کچھ شرکاء کو راستے بند کرتے ہوئے، مسافروں کی کاریں تباہ کرتے ہوئے ، بے گناہ لوگوں کی دکانوں کو آگ لگاتے ہوئے اور ہاتھوں میں ناموسِ رسالت کے بینر اٹھاکر گالیاں بکتے ہوئے اورپولیس ملازمین کو گولیاں اور ڈنڈے مارتے ہوئے دیکھتے رہے مگر انھوں نے انھیں روکا تک نہیں اور نہ ہی اس فعل کی مذمت کی ہے۔

میرا سوال ہے، کیا ایک سیاسی مقصد کے لیے یا ایک پارٹی پر لگی پابندی ہٹوانے یا اپنے لیڈر کو رہا کرانے کے لیے ناموسِ رسالتؐ کا نام استعمال کرنا جائز ہے؟کیا راستے بند کر کے لاکھوں شہریوں کو تکلیف میں مبتلا کرنا اسلام میں جائز ہے؟

اپنے ذاتی صدمے کے بعد میں نے کچھ ریسرچ کی اور کچھ اسکالرز سے بھی رہنمائی حاصل کی۔تاریخی حقیقت تو یہ ہے کہ حضور نبی کریمؐ جب مکہ کے حاکم و مختار بن گئے تو آپ کے بارے میں بکواس کرنے والے اور آپؐ کو تکالیف پہنچانے والے زندہ تھے۔ مگر آپؐ نے ان کی گردن اتارنے کا حکم نہیں دیا بلکہ معاف فرمادیا۔ ابوسفیان کی بیوی ہندہ نے حضورؐ کے محترم ترین چچا حضرت حمزہ ؓ کی میت کی بے حرمتی کی اور کلیجہ نکال کر چبایا یعنی وہ ہمارے نبی کریم ؐ کو جسمانی کے علاوہ ذہنی اذیت پہنچانے میں تمام حدیں پار کرگئی،مگر رحمت للعالمینؐ نے اسے بھی معاف فرمادیا۔

بر صغیر میںسید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ختم نبوت اور ناموسِ رسالتؐ کے سپہ سالاروں میں سے تھے مگر بخاری صاحب نے کبھی اپنے پیروکاروں کو شاہراہیں بند کرکے لوگوں کو تکلیف پہنچانے کے ہدایات نہیں دیں۔ 1953میں قادیانی مسئلہ کے نام سے ایک کتابچہ لکھنے پر سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو سزائے موت سنا دی گئی۔

اس پر حکومتِ وقت کے کہنے پر کچھ لوگ مولانا مودودی کو جیل کی کال کوٹھری میں ملے اور رحم کی اپیل کرنے کی درخواست کی مگر سید صاحب نے جواب دیا،’’زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں، میں دنیا کے حکمرانوں سے کبھی رحم کی بھیک نہیں مانگوں گا۔‘‘ مودودی صاحب نے کبھی اپنی اس بے مثال جرأت کا تذکرہ نہیں کیا، نہ ہی کبھی اپنے آپ کو ختم نبوت کا محافظ قرار دے کر اس سے سیاسی فائدہ اٹھایا۔

اسی طرح ختم نبوت کے ایشو پر ہی مولانا عبدالستار خان نیازیؒ کو بھی سزائے موت سنائی گئی مگر انھوں نے بھی کبھی اپنے آپ کو ختم نبوت کا ’’سالار‘‘یا سپاہی قرار دیکر اس سے دنیاوی یا سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔

چند روز پہلے سوشل میڈیا پر مولانا نیازی کی تقریر سننے کا موقع ملا جس میں انھوں نے نبی کریمؐ کی تعلیمات کی خلاف ورزی کو، بددیانتی کو، حرام خوری کو اور عورتوں کی عریانی اور بے حجابی کو ختم نبوت کی توہین قرار دیا اور بالکل درست قرار دیا۔ برصغیر کے تعلیم یافتہ لوگوں میں سب سے بڑے عاشقِ رسولؐ تو علامہ اقبالؒ تھے کہ حضورؐ کا مقدس نام سُنتے ہی جن کے آنسو رواں ہوجاتے تھے۔ علامہ صاحب نے تو کبھی اس کا چرچا نہیں کیا ۔ ناموسِ رسالتؐ کا محافظ تو خود خالقِ کائنات ہے۔

چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے

رفعتِ شانِ ورفَعنا لَک ذِکرک دیکھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں