83

تبصرہ کتاب رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم

راجہ ارشد محمود ستی

محسن کائنات، رہبر انسانیت، نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں ہی دنیا کے تمام انسانوں کی حقیقی کامیا ی و کامرانی پوشیدہ ہے۔قرآن مجید میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کو اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی کی ایک ایک جھلک، ایک ایک کرن کو سیرت نگاروں نے خوش اسلوبی اور خوب صورت انداز میں مرتب کیا ہے۔سیرت لکھنے کا سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ہی شروع ہوگیا تھا سیرت مبارکہ لکھنے کا سہرا صحابہ کرام کی مقدس جماعت کو جاتا ہے روایات کی شکل میں امت محمدیہ تک اس خزانے کو منتقل کیا، اس وقت سے لیکر آج تک یہ سلسلہ بلا تعطل کے جاری و ساری ہے۔سیرت النبی ایسا شاداب و ترو تازہ موضوع ہے جس پر دنیا میں اب تک سیکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور یہ سلسلہ تا قیامت جاری و ساری رہے گا، سیرت ایسا موضوع ہے جس میں جدت بھی ہے، لطافت بھی اور حسن و دلکشی بھی جس نے سیرت نگاروں کو اپنا قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے شاہ عبدالعزیز دہلوی نے سیرت کی تعریف بیان کرتے ہوے فرماتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے پیغمبر ﷺ، حضرت صحابہ کرام اور آنحضرت کے مبارک وجود کے ساتھ متعلق ہو اور حضور ﷺ کی پیدائش سے وفات تک واقعات پر مشتمل ہو سیرت کہتے ہیں ۔ ہر زمانہ میں حالات کے رجحانات کے مطابق نئے نئے اسالیب اور مناہج کے مطابق سیرت پر کتب لکھی گئیں۔ سیرت رسول ﷺ پر بلا مذہب و ملت اہل علم و فن اور سیر نگاروں نے قلم اٹھایا اور ہر پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ آج تک اسلامی علوم و فنون پر جتنا لکھا گیا ہے اس میں زیادہ تر حصہ سیرت رسول مقبول ﷺ پر مشتمل ہے۔ اس تعلق سے اردو زبان مالا مال ہے اس زبان میں سیرت النبی ﷺ کی قابل تحسین اور محقق اور بے شمارکتب لکھی گئی ہیں۔ ایک
اندازے کے مطابق اردو زبان میں دس ہزار سے زائد کتب سیرت النبی کے موضوع پر لکھی جا چکی ہیں سیرت پر غالبا کسی اور زبان میں اب تک اتنی کتابیں نہیں لکھی گئی ہیں۔ یہ سلسلہ مولانا سید سلیمان ندوی کی رحمت عالم اور مولانا ابو الحسن علی ندوی کی رحمت عالم سے لے کر جلدوں پر مشتمل نقوش کے رسول نمبرتک خوبصوت گلدستہ پھیلا ہوا ہے ۔ اسی کی ایک کڑی زیر نظر کتاب رحمت دو عالم صلی اللہ
علیہ وسلم ملفہ نبیلہ اکبر کی عظیم کاوش ہے جو سیرت النبی ﷺکا خوبصورت گلدستہ ہے اس کتاب کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کتاب کا انتساب ملفہ نبیلہ اکبر نے اپنی ماں”جمیلہ بیگم” کے نام کیا ہے اپنی والدہ کے بارے میں وہ خود پیش لفظ میں لکھتی ہیں کہ”میری ماں میری سہیلی، میری کل کائنات، میری متاعِ حیات تھی، ماں بہت یاد آتی ہے، یوں لگتا ہے کہ جیسے ابھی ماں اٹھ کر مجھے کہے گی کہ”بیلا”نہ رو میں ہوں نا۔۔۔”نبیلہ اکبر صاحبہ 16 فروری 1976 کو پیدا ہوئیں، بہت سی تنظیموں کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام کر رہی ہیں اور مستقبل میں اپنی والدہ کے نام سے فانڈیشن بنانے کا عزم بھی رکھتی ہیں۔ان کی اس کتاب کی بابت ضماد گریوال صاحب لکھتے ہیں کہ”نبیلہ اکبر ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جن کا دل رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خاکِ طیبہ سے گہری وابستگی کی بدولت سرشار ہے، انہوں نے علم اور قلم جیسی عظیم دولت کا حق ادا کرتے ہوئے رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے اوصاف و کمالات کو نہ صرف پہلے اپنے دل میں
اتارا بلکہ قرطاس کی زینت بنا کر دوسروں کیلئے بھی اس پرخار زندگی میں راحت و عظمت کا گلشن کا سجا دیا ہے”یہ کتاب پہلی بار فروری 2019 میں چھپی اور پھر دوسری بار جنوری 2021 میں چھپی۔سیرت پر کتاب لکھنے کے ساتھ ساتھ ملفہ نبیلہ اکبر نے اس کتاب کو بطور ہدیہ اپنے حلقہ احباب میں تقسیم کیا میں سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب آخرت میں موصوفہ کی بخشش کا ذریعہ بنے گی۔زیرِ نظر کتاب 8 ابواب پر مشتمل ہے، جبکہ صفحات کی تعداد 112ہے جن میں پہلا باب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا باب میں عدل و انصاف کا ذکر ہے، تیسرے باب میں تعلیمات نبوی صل اللہ علیہ وسلم کو احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے، چوتھے باب میں اپنے ماتحت رعایا اور غیر مسلم کے حقوق کے متعلق بحث کی گئی ہے، پانچویں باب میں معاشیات کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو قلم بند کیا گیا ہے، چھٹے باب میں عہد نبوی صل اللہ علیہ وسلم کے نظام تعلیم کا ذکر ہے، ساتویں باب میں غزوہ بدر اور اسیران جنگ سے حسن سلوک اور فتوحات کا ذکر کیا گیا یے، آٹھویں باب میں منافقین کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ کس طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کا قلع قمع کیا… الغرض کتاب “رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم” ہر لحاظ سے جامع اور مانع کتاب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں