31

عمران خان کا ملک دشمن بیانیہ

میاں شاویز معظم

کچھ دن سے بہت شور اٹھا ہوا تھا کہ عمران خان نے کرسی کی لالچ میں ملک دشمن بیان دیا ہے۔ بہت تشویش ہوئی کہ عمران خان آخر ایسا بیان کیونکر دے سکتا ہے ۔ فورا موبائل پکڑا اور کپتان کا بیان سننے لگ گیا ۔ پورا بیان سننے کے بعد تشویش مزید بڑھی کہ خان صاحب کے پورے بیان میں ملک دشمن بیانیہ کیوں نہیں مل رہا۔ بار بار بیان سننے کے باوجود میرے کان وہ ملک دشمن بیانیہ سننے سے قاصر رہے۔اب پہلے دیکھتے ہیں عمران خان نے کہا کیا،وہ کہتے ہیں ۔ پاکستان ڈیفالٹ کی جانب جا رہا ہے ۔ اگر ہم ڈیفالٹ کر جاتے ہیں تو سب سے بڑا ادارہ کون سا ہے جو متاثر ہو گا، پاکستانی فوج ۔ جب فوج متاثر ہو گی تو اس کے بعد ہمارے سامنے کیا شرط رکھی جائے گی جو انھوں نے یوکرین کے سامنے رکھی تھی کہ ڈی نیوکیرایز کریں (یعنی جوہری ہتھیار ختم کر دیں). واحد اسلامی ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ جب وہ چلا گیا تو پھر کیا ہو گا۔ میں آپ سے آج کہتا ہوں کہ پاکستان کے تین حصے ہونگے۔ یہ ہے وہ بیان جس کی بنا پر حکمرا ن عمران خان کے خلاف واویلا کر رہے ہیں اوراس پر غداری کے سنگین الزامات لگا رے ہیں ۔ کیا یہ وہ باتیں نہیں ہیں جو سارے سنجیدہ دانشور کہتے ہیں۔؟ مجھے اس بیان میں عمران خان کا ملکی سالمیت اور بقا کے لیے فکر مند ہونا نظر آ رہا ہے نہ کہ ملک دشمن بیانیہ۔ خان صاحب ملکی حالات کو لے کر کس قدر پریشان ہیں یہ ان کے بیان سے صاف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ معیشت اور ملکی سلامتی باہم منسلک ہیں۔ بحیثیت محب وطن پاکستانی میں بھی شدید پریشان ہوں کہ جس طرح ملک عزیز کی معیشت خطرناک طریقے سے برباد ہو رہی ہے اگر اسی طرح چلتا رہا اور ہوش کے ناخن نہ لئے گئے تو ملک ڈیفالٹ کر جائے گا اور خدا نخواستہ اگر ایسا ہوتا ہے تو معیشت سے باہم منسلک سالامتی خطرے میں پڑ جائے گی ۔ اگر تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو ایسی بیشمار ریاستوں کی مثالیں موجود ہیں جو معیشت کی تباہی کے باعث ٹکرے ٹکرے ہو گئیں ۔ اس کی سب سے بڑی مثال سوویت یونین ہے جس کے پاس نہ تو ہتھیار کم تھے اور نہ ہی فوج لیکن کمزور معیشت کے باعث اس کا شیرازہ بکھر گیا ۔ میری محدود عقل عمران خان کا بیان سننے اور سمجھنے کے بعد اس بات کی نفی کر رہی ہے کہ اس بیان میں کوئی ملک دشمن بیانیہ شامل نہیں ہے اور یہ حکومت کیوں عمران خان پر ملک کے لئے فکر مند ہونے کی وجہ سے غداری کے الزامات لگا رہی ہے ۔ چلیں اس کا فیصلہ آپ ہی کریں کہ کیا اس شخص کے خلاف غداری کے الزامات لگانے چاہیئں جس نے ملکی سالمیت کو لاحق خطرات کی نشاندھی کی اور خدشات کا اظہار کیا یا ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے ملک عزیز کا سودا کیا اور جن کے ورثا نے ملک کے ٹکڑے کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔حکمران بغض عمران میں عمران خان کے خدشات کو ملک دشمنی میں بدلنے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں ۔ ملک کی بقا کیلئے سب سے ضروری ہے کہ لیڈر قوم کی رہنمائی کرے کہ ملک کس خطرناک صورتحال سے دو چار ہے اور ہم کس طرح سے ملک کی بقا کو بحال کر سکتے ہیں ۔ بس عمران خان نے بھی یہی کیا لیکن عوام کو بیوقوف بنانے کی سر توڑ کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ اگر ملک عزیز کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے درست فیصلے نہ کیے ، درست سمت کا تعین نہ کیا اور خدا نخواستہ ملک کے معیشت اسی طرح بدحالی کی طرف بڑھتی رہی تو یہ کہنا بالکل غلط نہیں ہوگا کہ “اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے”اگر اس معاملے کو گہری نظر سے دیکھا جائے تو صرف یہ ملکی سالمیت کے لیے ہی خطرہ نہیں بلکہ عالم اسلام کی سالمیت ک لیے بھی خطرناک ہے ۔ دشمنان اسلام کوئی بھی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس سے مسلمانوں کو بدنام نہ کر سکیں، ان کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچا سکیں اور ان کو کمزور نہ کر سکیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ وطن عزیز کی معیشت کا جو حال ہو رہا ہے یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔اگر ہم بغض عمران، اندھی تقلید ، جذباتیات اور منفی پراپیگنڈا سے باہر نکل کر روشن خیالی سے سوچیں اور وسعت نظر سے دیکھیں تو جو خدشات عمران خان نے بتائے ہیں وہ ہماری بھی سمجھ میں آ جائیں گے۔دعا ہے کہ اللہ پاک کی ذات با برکات پاکستان کو رہتی دنیا تک آباد رکھے۔ آمین۔ پاکستان ذندہ باد!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں