15

اسرائیلی پولیس کا مقتول خاتون صحافی کے جنازے پر حملہ!

خصوصی تحریر

اسرائیلی پولیس افسران نے الجزیرہ کی صحافی شیریں ابوعاقلہ کی میت کو لے جانے والے فلسطینی سوگواروں پر حملہ کیا جبکہ ہزاروں افراد ان کے قتل پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کے پرانے شہر میں ان کی میت لے گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’کی خبر کے مطابق ابو عاقلہ کے جنازے کے ساتھ درجنوں فلسطینی جن میں سے کچھ نے فلسطینی پرچم بھی اٹھائے ہوئے تھے نعرے لگا رہے تھے کہ ہم اپنی جان اور خون سے شیریں ابوعاقلہ آپ کے خون کا بدلہ لے کر ر ہیں گے، انہوں نے سینٹ جوزف ہسپتال کے دروازوں کی جانب مارچ کیا۔
اسرائیلی پولیس افسران نے بظاہر گاڑی کے ذریعے ان کے جنازے کو لے جانے کے بجائے پیدل آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے ہجوم پر لاٹھی چارج کیا اور لاتیں ماریں۔اس دوران صرف چند منٹوں تک جاری رہنے والے پرتشدد مناظر نے شیریں ابوعاقلہ کے قتل پر فلسطینیوں کے غم و غصے میں اضافہ کیا ہے جس سے تشدد کے اضافے کا خطرہ بڑھ گیا جس میں مارچ کے مہینے میں کافی اضافہ ہوچکا ہے۔
واضح رہے کہ 3 روز قبل اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے قطر کے ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ کی خاتون صحافی جاں بحق ہوگئی تھیں۔
الجزیرہ میں کام کرنے والی خاتون صحافی شیریں ابوعاقلہ سرائیلی فورسز کی گولی کا نشانہ بنیں، واقعے کی وڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ خاتون صحافی کو سر میں گولی لگی ہے۔فلسطینی حکام نے ابو عاقلہ کے قتل کو اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں قتل قرار دیا، الجزیرہ نے اپنی خبروں میں یہ بھی کہا ہے کہ انہیں اسرائیلی فورسز نے گولی مار دی تھی۔اسرائیل کی حکومت نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ ان کے قتل کی وجہ فلسطینی فائرنگ ہو سکتی ہے لیکن حکام نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات کو مسترد نہیں کر سکتے کہ وہ اسرائیلی گولی سے جاں بحق ہوئیں۔
قطر اور الجزیرہ نے اسرائیلی پولیس کے طرز عمل کی مذمت کی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا کہ یہ مناظر انتہائی صدمہ دینے والے تھے، اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ کا کہنا تھا کہ وہ “تصاویر دیکھ کر بہت دکھی ہیں جب کہ یورپی یونین نے کہا کہ یہ خوفناک تھا۔
پولیس کی مداخلت کے چند منٹ بعد ابو عاقلہ کی میت کو ایک گاڑی میں رکھا گیا جو مقبوضہ بیت المقدس کے اولڈ سٹی میں واقع کیتھیڈرل آف دی اینونسیشن آف دی ورجن کی جانب جارہی تھی جہاں ان کی آخری رسومات کی تقریب پرامن طریقے سے جاری تھی۔
ان کی میت کو قریبی ماؤنٹ صہیون قبرستان لے جایا گیا، اس موقع پر فلسطینیوں شہریوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ان کی قبر کو چادروں سے ڈھانپ دیا گیا، قبر پر فلسطینی پرچم لپیٹا گیا جبکہ اس موقع پر بھی شیریں ابو عاقلہ کو خراج تحسین پیش بڑی تعداد میں فلسطینی شہری موجود تھے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ یہاں اس لیے ہیں کیونکہ ہم انصاف کے لیے چیخ رہے ہیں، ہم شیرین ابو عاقلہ کے لیے اور فلسطین کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں۔
چھاپے اور کارروائیاں:
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں وہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ گولی چلانے کے ذریعہ کا واضح طور پر تعین کرنا ممکن نہیں ہے جس نے شیریں ابوعاقلہ کو نشانہ بنایا اور ہلاک کیا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اسرائیلی فوجی گاڑیوں پر فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے فائر کی جانے والی گولیوں سے ماری گئی ہوں یا جوابی فائرنگ کرنے والے اسرائیلی فوجی کی جانب سے نادانستہ طور پر ان کو نشانہ بنایا گیا ہو۔
اسرائیلی فورسز نے جنین کے مضافات میں دوبارہ چھاپے مارے جہاں ابو عاقلہ ماری گئی تھیں جبکہ فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس دوران 13 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب فلسطینی اسلامی جہاد گروپ نے جنین میں فائرنگ کے تبادلے میں ایک اسرائیلی پولیس افسر کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اور جنین میں ہونے والے واقعات فریقین کو سنگین کشیدگی کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔
ابو عاقلہ کی موت کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے، گولی لگنے کے بعد کے لمحات کی ویڈیو فوٹیج میں 51 سالہ ابو عاقلہ کو نیلے رنگ کی جیکٹ پہنے ہوئے دکھایا گیا جس پر “پریس” کا نشان تھا۔
مقتولہ صحافی کے کم از کم دو ساتھیوں نے جو ان کے ساتھ تھے کہا کہ وہ اسرائیلی اسنائپر فائر کی زد میں آئے تھے جبکہ وہ عسکریت پسندوں کے قریب نہیں تھے۔اسرائیل نے ابو عاقلہ کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے،اس نے فلسطینیوں کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کی تجویز پیش کی ہے اور ان سے جانچ پڑتال کے لیے صحافی کو لگنے والی گولی فراہم کرنے کو کہا ہے۔فلسطینیوں نے اسرائیلی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں صحافیوں کو قتل کرنے کے واقعات آئے روز رپورٹ ہوتے ہیں۔آئی پی آئی گلوبل کی شائع کردہ سالانہ ڈیتھ واچ رپورٹ کے مطابق سال 2021 کے آغاز میں مجموعی طور پر 45 صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے قتل کیا گیا یا پھر انہوں نے اسائمنٹ کے دوران اپنی جانیں دیں۔رپورٹ کے مطابق 45 میں سے 40 مرد جبکہ 5 خواتین صحافی مقتولین میں شامل تھیں۔ مجموعی طور پر 28 صحافیوں کو ان کے کام کے باعث قتل کیا گیا جبکہ 3 صحافی تصادم کے واقعات، 2 شہر میں بد امنی کی کوریج کے دوران اور ایک صحافی کو اس کے اسائمنٹ پر قتل کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق کہ صحافیوں کے قتل کے 11 کیسز کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔
رپورٹ میں صحافیوں کے نام بھی درج کیے گئے ہیں جنہیں ان کے پیشے کے باعث بے دردی سے قتل کیا گیا، ان صحافیوں کے قتل کی وجہ ان کی رپورٹنگ یا صرف ان کا صحافی ہونا بھی ہوسکتا ہے۔علاوہ ازیں رپورٹ میں ان صحافیوں کے نام بھی شامل ہیں جو تصادم یا اپنے دیگر اسائمنٹ کی کوریج کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔
خیال رہے کہ بین الاقوامی پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے اعداد و شمار روازنہ کی نگرانی سے حاصل کیے ہیں۔
آئی پی آئی کی فہرست میں ایڈیٹرز، رپورٹرز سمیت دیگر میڈیا ورکرز بھی شامل ہیں جو براہِ راست خبر دینے سے منسلک ہیں، اس میں کیمرامین بھی شامل ہیں۔
ادارے کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ سال 2021 میں جن 45 صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران قتل کیا گیا ان میں میکسیکو 6،6 صحافیوں کو افغانستان اور بھارت جبکہ 3 کو عوامی جمہوری کانگو (ڈی آر سی) میں قتل کیا گیا۔
افسوس ناک اعداد وشمار صحافتی امور کی انجام دہی کے دوران خطرے کی عکاسی کرتے ہیں اور صحافیوں کی حفاظت کی عالمی چیلنج کے طور پر تصدیق کرتے ہیں۔آئی پی آئی نے اپنے بیان میں تمام ممالک کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کو ان جرائم سے چھٹکارا دلاتے ہوئے ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے، تاکہ محفوظ اور آزادانہ طور پر اپنا ذمہ داریاں سرانجام دے سکیں۔(ڈان)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں