17

ہماری لنکا کون ڈھائے گا!

آمنہ مفتی

کچھ برس قبل جب میں سری لنکا گئی تو کولمبو کی سڑکوں پر خشک پتوں کی جگہ، گل چین اور بوگن ویلیا کے پھول اڑ رہے تھے۔ سانولے چمکتے چہروں والے سنہالی بودھ، مسلمان اور ہندو کسی خاص تفریق کے بغیر خوش باش پھر رہے تھے۔
اسلم مارکیٹ میں دھڑادھڑ ساڑھیاں فروخت ہو رہی تھیں، جواہرات کی دکانوں پر سونے کے دانت والے خوش مزاج جوہری، مون سٹون اور نیلم آنک رہے تھے۔ نورایلیا کے جنگلوں میں سیتا اور راون کی کہانیاں سناتے سوامی پان چباتے، گھوم رہے تھے اور حضرت آدم کے نام سے منسوب چوٹی کے راستے میں سرمئی ہاتھی کھڑے جھول رہے تھے۔دار چینی کی خوشبو میں بسا یہ حسین جزیرہ یوں لگتا تھا خدا کے کارخانے سے ابھی ابھی بن کر نکلا ہے۔ ہر شے خوبصورت تھی اور ہوا میں ایک نشہ آور سا سکون تھا۔
یہ وہ دن تھے جب تامل بغاوت دبا دی گئی تھی اور ملک آہستہ آہستہ ترقی کی راہ پر چل رہا تھا۔ قوموں کی زندگی میں ایسے وقت بہت نازک ہوتے ہیں۔ سنہ 2019 کے ایسٹر پر ہونے والے حملوں کے بعد جیسے سری لنکا ایک ڈھلوان پر پھسلنا شروع ہوا اور پھر کہیں نہ رک سکا۔پاکشے خاندان، جس کے آدھے درجن کے قریب افراد حکومت میں موجود تھے، سوائے بڑھکیں مارنے، مقبول سیاسی فیصلے کرنے اور عوام میں نسلی مذہبی تقسیم کو ہوا دے کر اپنے اقتدار کو طول دینے کے کچھ نہ کر پایا۔
کورونا کے بعد کی دنیا کی معاشی حرکیات کورونا سے پہلے کی دنیا سے مختلف ہیں۔ یہ بات سمجھنے کے لیے جو دماغ چاہیے تھے بدقسمتی سے وہ راجا پاکشے خاندان میں نہ تھے اور نہ ہی وہ کسی اور کو موقع دینے کو تیار تھے۔تامل باغیوں کو آہنی ہاتھ سے کچلنے کے بعد یہ ہی ہاتھ انھوں نے عوام پر رکھا۔ مسلمان، ہندو اور تامل اقلیتیں زیادہ خوش نہ تھیں، رہی سہی کسر روس اور یوکرین کی جنگ نے پوری کر دی۔ یوں سری لنکا بد ترین معاشی بحران کا شکار ہوا۔آخری اطلاعات کے مطابق پاکشے خاندان کا ایک فرد ابھی تک اقتدار سے چمٹا بیٹھا ہے۔ جو ہوا ،برا ہوا، سری لنکا کے لوگوں کے حالات جان کر سوائے دکھ کے پاکستان جیسا اپنے حال میں گرفتار ملک کر بھی کیا سکتا ہے؟
حالات ہمارے بھی کچھ اچھے نہیں۔ تیل کی قیمت تو ہمارے لیے بھی بڑھے گی اور پھر ہر ایک شے کی قیمت بڑھے گی۔زراعت کے حالات ہمارے ہاں بھی دگر گوں ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث، بہار کا موسم ہی غائب ہو گیا، جس کی وجہ سے پھلوں کی پیداوار متاثر ہوئی اور شنید ہے کہ آٹے کا بحران بھی سر پر کھڑا ہے۔بجلی مہنگی ہے اور مزید مہنگی ہو گی اور معلوم نہیں کہ کب پھر سے لوڈ شیڈنگ شروع ہو جائے۔ پانی کی قلت ہے، دریا سوکھ رہے ہیں، گلیشیر پگھل رہے ہیں اور درجہ حرارت انسانی برداشت سے اوپر جا رہا ہے۔
ملک کے سیاسی حالات کے باعث، ڈالر کا ریٹ بھی مستحکم نہیں۔ بدحالی دروازے پر دستک دے رہی ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ یہ دستک سننے والے بجائے اس پر کان دھرنے کے حلق پھاڑ پھاڑ کر اپنا ہی راگ الاپے جا رہے ہیں۔ عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے جھنجھنے بجانے والوں کو آنے والا وقت بخوبی نظر آرہا ہے۔نئی حکومت کے پاس نہ تو جادو کا چراغ ہے اور نہ ہی یہ وہ دنیا ہے جس میں ہم آج سے تین برس قبل تک رہ رہے تھے۔ جنگ، قدرتی آفات اور وبائیں، یہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان کے آگے انسانی عقل اور سمجھ بوجھ ہیچ ہے۔
آج ہمارا خطہ ان تینوں کی زد میں ہے۔ یوکرین اور روس کی جنگ ایک نیا افغانستان ثابت ہو گی لیکن اس افغانستان سے ہمیں ڈالر نہیں ملنے والے۔ یہ صرف انسانی المیے کو جنم دے گی۔ افغان جنگ کے انسانی المیے سے ہمیں کچھ خاص دکھ اس لیے نہ پہنچا کہ ہماری جیب گرم تھی۔
ماحولیاتی تبدیلی کہتے کہتے سر پر آ پہنچی ہے۔ شاخوں پر بور جلنے کا تماشا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں، شمالی علاقوں میں گلیشیرز کے پھٹنے کی خبریں بھی سن چکے ہیں اور گرمی کی لہر میں روز بھنتے بھی ہیں۔
کورونا کی پھیلائی معاشی بدحالی رخصت ہوئی ہے نہ ہی کورونا کہیں گیا۔ روز کسی نئے ویرئنٹ کی خبر مل جاتی ہے۔ ایسے میں ملک میں پھیلی سیاسی ابتری کیا رنگ لائے گی، اس کی پیشگوئی بھی کرنے کو کس کا جی چاہتا ہے۔
یہ تو سب کو نظر آ رہا ہے کہ حالات اچھے نہیں مگر کس رخ جائیں گے یہ ابھی کسی کو بھی علم نہیں۔
یوں تو لنکا، گھر کا بھیدی ہی ڈھاتا ہے مگر ہماری لنکا کون ڈھائے گا؟ یہ جاننے والے بھی صرف آنے والے وقت کے منتظر ہیں۔ دیکھیے اس وقت کے دامن میں ہمارے لیے کیا ہوتا ہے۔۔۔ پھول، کانٹے یا فقط، دھول ہی دھول۔
(بی بی سی اردو ڈاٹ کام)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں