Zulfiqar Ali shah 21

ایسا کب تک چل گا

ذوالفقار علی شاہ

یہ 1990کی پہلی سہ ماہی کے دن تھے ۔ پی ایس ایف کراچی ڈویژن کے صدر نجیب احمد کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا اور پی ایس ایف جو پاکستان پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم ہے اس کے کارکنوں کا خیال تھا کہ یہ کام کراچی کی ایک لسانی تنظیم نے کیا ہے ۔سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی مضبوط ہے اور اس وقت بے شک کراچی میں مہاجر قومی موومنٹ واضح اکثریت سے جیتتی تھی لیکن پاکستان پیپلز پارٹی بھی ایک طاقتور فریق کی حیثیت سے میدان میں موجود تھی اور سب سے بڑی بات کہ اس وقت حکومت بھی اسی جماعت کی تھی ۔نجیب پر قاتلانہ حملے کے بعد وہ کئی دن تک کراچی کے ایک بڑے ہسپتال میں زیر علاج رہے لیکن جانبر نہ ہو سکے ان کی موت کی خبر کے ساتھ ہی کراچی میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور یہ بھی یاد رہے کہ اس سال کے شروع سے ہی کراچی کے حالات کافی کشیدہ تھے اور ایک دن میں پچیس پچیس اموات ہونا معمول کی بات بن گیا تھا ۔اس صورت حال میں یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں کسی وقت خاص طور پر رات کے اندھیرے میں الطاف حسین کے گھر پر حملہ نہ ہو جائے اور اس کا حل یہ نکالا گیا کہ الطاف حسین نے اپنے گھر کے اندر بھوک ہڑتال شروع کر دی ۔ آج کی نوجوان نسل کو شاید اس بات کا اندازہ نہ ہو لیکن حالت یہ تھی کہ الطاف حسین اپنے گھر میں بیڈ روم میں لیٹے ہوئے تھے اور ان کے گھر کے باہر چاروں اطراف میں چوبیس گھنٹے لاکھوں کا مجمع موجود رہتا تھا ۔ ہوتا کیا تھا کہ الطاف حسین کے بیڈ کے ساتھ مائیک لگے ہوئے تھے ۔ڈاکٹر انھیں کہتا کہ الطاف بھائی آپ گردے کے مریض ہیں اگر آپ نے پانی نہ پیا تو آپ کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے ۔ اس کے جواب میں الطاف حسین انتہائی نقاہت زدہ آواز میں جواب دیتے کہ ’’نہیں ڈاکٹر میں پانی نہیں پیوں گا میں اپنی قوم پر قربان ہو جائوں گا ‘‘ الطاف حسین کا یہ جواب مائیک سے ہوتا ہوا جب باہر لگے اسپیکروں کے ذریعے مجمع تک پہنچتا تو یقین کریں کہ باہر بیٹھے مجمع میں سے دو ڈھائی سو افراد شدت غم سے بیہوش ہو جاتے ۔
ہمیں بتیس سال پہلے کی یہ کہانی اور اس کے مناظر اس لئے یاد آئے کہ تین روز پہلے عمران خان نے جب سیالکوٹ کے جلسہ میں کہا کہ بند کمروں کے پیچھے لندن اور پاکستان میں ان کی موت کی سازش تیار ہو چکی ہے تو جلسے میں موجود دو خواتین کے رونے کے مناظر ٹی وی اسکرینوں پر دکھائے گئے ۔اس سے پہلے کچھ لوگ عمران خان کو الطاف حسین سے اور تحریک انصاف کو مہاجر قومی موومنٹ سے تشبیہ دیتے تھے لیکن ہم حسن ظن سے کام لیتے ہوئے اس بات پر یقین نہیں کرتے تھے اور صدق دل سے سمجھتے تھے کہ ایسا نہیں ہے ۔یقینا عمران خان کی سوچ اور سیاست میں بہت کچھ فاشسٹ ہو سکتا ہے لیکن ہم اس حد تک نہیں سوچ سکتے تھے لیکن تحریک عدم اعتماد کے بعد ان کی انتہا پسند سیاست اور سوچ کے نئے نئے زاویے جیسے جیسے سامنے آتے جا رہے ہیں تو اس کے بعد ان کی ذات کا دفاع کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے ۔ ہمارے بہت ہی پیارے دوست ہیں بڑے کٹر قسم کے تحریک انصاف کے حامی ہیں ۔ ہفتہ والے دن ان کا واٹس ایپ پیغام آیا کہ آپ نے دیکھا حکومت نے سیالکوٹ میں کیا کیا ۔ ہم رات کو سوتے وقت موبائل کو آف تو نہیں کرتے لیکن اس کا گلہ گھونٹ کر تمام گھنٹیاں آف کر دیتے ہیں اور پھر آفس آ کر ہی آن کرتے ہیں اس دوران کیا ہوتا ہے اس کی خبر دفتر آ کر ہی ہوتی ہے ۔ ہم نے ان سے معذرت کی اور اپنی لا علمی پر اظہار ندامت کیا اور استفسار کیا کہ مہربانی فرما کر آپ بتا دیں کہ کیا ہوا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ سیالکوٹ میں کس طرح حکومت نے پولیس گردی کر کے تحریک انصاف کا اسٹیج اکھاڑ دیا ہے اور عثمان ڈارر سمیت کئی کارکنوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے ۔ ہمیں اس پر حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی کہ حکومت نے ایسا کیوں کیا ہے ۔ ٹھیک ہے ہمارا اپنا موقف یہی ہے کہ عمران خان اس طرح جلسے کر کے ملک میں ایک انتشار کی فضا بنا رہے ہیں اور ملک کی جو معاشی حالت ہے اس میں سیاسی استحکام کے بغیر بہتری نہیں آ سکتی لیکن یہ ہمارا موقف ضرور ہے اس کے باوجود بھی اس بات سے انکار تو ممکن نہیں کہ پر امن جلسے و جلوس اور احتجاج کرنا ہر کسی کا آئینی ، قانونی اور جمہوری حق ہے ۔ ہم نے ان سے وعدہ کیا کہ ہم اس پر ضرور لکھیں گے اور حکومت نے جو غیر جمہوری حرکت کی ہے ہم اپنی تحریر میں اس کی مذمت بھی کریں گے ۔
جس وقت تحریک انصاف کی حکومت تھی اور اس میں سیاسی مخالفین اور تحریک انصاف سے اختلاف کرنے والوں کے ساتھ یا ان کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف جو طرز عمل اپنایا جاتا تھا کہ جس میں کئی نامی گرامی اینکرز کو گھر بھیجنا اور پیکا ایسے غیر جمہوری قوانین بنانا ۔ انھیں دیکھ کر ہم نے کئی مرتبہ تحریک انصاف کے دوستوں سے پوچھا کہ سدا بادشاہت تو خدائے بزرگ و برتر کی ہے اور ظاہر ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی ایک دن ختم ہونا ہے اور خان صاحب نے بھی گھر جانا ہی ہے تو ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ کل کو اگر عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ کسی حکومت نے یہی سب کچھ کیا کہ جو وہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ کر رہی ہے تو اپنے دور حکومت میں تحریک انصاف ایسی کون سی اعلیٰ و ارفع جمہوری روایات قائم کر رہی ہے کہ جن کا حوالہ دے کر ہم اس کے خلاف ہونے والی کسی زیادتی کے خلاف آواز بلند کریں گے اس لئے کہ ہماری تو سمجھ لیں کہ مجبوری ہے کہ ہم نے ساری عمر جمہوریت اور تحریر و تقریر کی آزادی اور انسانی حقوق
کے لئے جدوجہد کی ہے ۔اب بھی سیالکوٹ میں جو ہوا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو بہتر تھا اور حکومت کی جانب سے جو گرفتاریاں اور تشدد ہوا اس کی ہم مذمت کرتے ہیں لیکن ساتھ میں تحریک انصاف کی قیادت پر بھی زور دیتے ہیں کہ وہ بھی اگر کسی جگہ حکومتی مجبوری بن جائے تو اسے سمجھنے کی کوشش کرے ۔جس جگہ تحریک انصاف جلسہ کرنا چاہ رہی تھی اگر تو ماضی میں اس سے پہلے اس جگہ کسی نے جلسہ یا کوئی سیاسی تقریب کی تھی اور اب حکومت نے تحریک انصاف کو وہاں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی تو پھر حکومت مجرم ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو تحریک انصاف کو بھی اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک اقلیتی برادری کی جگہ تھی اور اگر وہاں جلسہ کرنا ہی تھا تو پھر ان سے اجازت لے لیتے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں تھا لیکن ایک بات اس سارے عمل سے واضح ہو گئی کہ اگر اس شدید گرمی کے موسم میں تحریک انصاف میں احتجاج کی طاقت ہوتی تو جس طرح گرفتاریوں کی خبر آئی تھی تو پورے ملک کو جام ہو جانا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا تو حکومت اور مقتدر حلقے تسلی رکھیں کہ لانگ مارچ اور دھرنوں میں بھی کچھ نہیں ہو گا اس لئے کہ سیالکوٹ واقعہ سے کچھ اور ہوا کہ نہیں ہوا لیکن تحریک انصاف کا احتجاج کی مارکیٹ میںبھرم ضرور کھل کر سامنے آ گیا ہے اور پتا چل گیا ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر قیامت برپا کرنا اور بات ہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہونے والا لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کب تک چلے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں