17

ویڈیو آ گئی کیا؟ ان باکس کر دے یار!

فرنود عالم

کیا کریں، لوگوں کے پاس انٹرٹینمنٹ بھی تو نہیں ہے۔ سکواش روشن خان، جہانگیر خان اور جان شیر خان کے ساتھ آیا انہی کے ساتھ رخصت ہو گیا۔ فٹ بال کراچی کے علاقے لیاری سے شروع ہوا، وہیں ختم ہو گیا۔اس کھیل کے نگہبان بھی کسمپرسی میں گزر گئے۔ ہاکی بھی اچھا خاصا ٹائی ٹینک تھا، دھیرے دھیرے ریت میں دھنس گیا۔ سنوکر میں کبھی محمد یوسف تھے، اب آصف ہیں۔ جنگل کے مور ہیں، جنگل میں ناچے جنگل میں سو گئے۔ کبڈی اپنی طبعی عمر پوری کر چکی ہے۔ جتنی رہ گئی ہے، اس میں بھی خاصے کی چیز صرف پنجابی کمنٹری ہے۔ لے دے کر ایک کرکٹ رہ گئی ہے، وہ بھی حق اور باطل کا معرکہ بن گئی ہے۔ دھرتی کے سچے سپوت دو ہی ہیں۔ ایک جو بارڈر پر کھڑا ہے، دوسرا جو کریز پر کھڑا ہے۔
ثقافتی میلے ٹھیلے بھی تو نہیں رہے۔ ہر قوم قبیلے میں فصل کی کٹائی اور بہار کی آمد پر بیساکھی اور بسنت جیسے تہوار ہوتے تھے، کہاں گئے؟ کہتے ہیں اب زمانہ بدل گیا ہے۔ اچھا؟ تو سرحد پار والے پنجاب میں کیلینڈر پر کس نے پاؤں رکھ دیا ہے کہ زمانہ ہی نہیں بدل رہا۔ سینٹرل ایشیا میں دیکھیں، جتنا زمانہ بدلتا جا رہا ہے، اتنا ہی نوروز کے رنگ نکھرتے جا رہے ہیں۔شہروں میں سنیما گھروں کی بہار تھی مگر مکڑیوں نے جالے تن دیے۔ جدید سنیما بننا شروع ہوئے تو قلم غیرت کھا گئے۔ عدالتوں نے ہندوستانی فلموں پر ہی پابندی لگا دی۔ اب بھی ہمارے سنیما گھروں میں کچھ رونق بڑھتی ہے تو ہندوستانی فلموں پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ لوگ اکتالیس انچ کی سکرین کے سامنے ہی پڑے پڑے خرچ ہو گئے۔
ریموٹ اٹھاؤ تو ڈراموں میں ساس بہو کے لانجے ہیں۔ ڈرامہ نویسوں نے انٹرٹین کرنے کی بجائے اصلاح کرنے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ آدھے سے زیادہ ڈرامے تو میں بڑا ہوکر فوجی بنوں گا والے شوق اجاگر کرنے میں مصروف ہیں۔ کچھ اچھا آ جائے تو اچھا ہونے کی وجہ سے متنازع ہو جاتا ہے۔ زیادہ اچھے کے لیے یوٹیوب کا سہارا ہے۔ فلم کے بیڑے اس سے بھی زیادہ غرق ہیں، جو نہیں آنی چاہیے، وہ فلم آئے روز آ رہی ہے۔ جو آنی چاہیے اس پر پابندی لگ جاتی ہے۔کلاسیکی موسیقی ایڑیاں رگڑ رگڑ کے گزر گئی۔ کچھ خاندان ہیں اور خاندان بھی کیا؟ جس موسیقار کے گلے میں دم تھا وہ انڈیا چلا گیا۔ جو نہیں گیا اسے بھی نمود انڈیا سے ہی ملی۔ ہمارے اداکاروں کو بھی انڈیا نے بساط بھر کام اور نام دیا مگر کیا حاصل؟ لوٹ کر تو انہیں پاکستان ہی آنا تھا اور آ گئے۔ ڈھاک کے وہی تین پات ہیں۔جہاں جہاں انڈیا نے ہاتھ نہیں رکھا، وہاں وہاں شوربے آج بھی بہت پتلے ہیں۔ شان کو دیکھیں ذرا۔ آبِ حیات پیے ہوئے اِس انسان نے فلم انڈسٹری کو آگے لے جانا تھا، یہ گندی لائٹیں لگا کر انٹرویو کر رہا ہے۔ہمارے سٹیج
کامیڈین پردے کے پیچھے غروب ہو گئے۔ ان میں بھی جو دو چار دانے زندہ ہیں، ان کے جرمِ خانہ خراب کو بھی ہندوستان میں ہی امان ملی۔ انڈیا میں نوٹ چھاپ کر ان کے حالات تو بدل گئے پر طبیعت نہ بدلی۔ واپس آ کر کہتے ہیں انڈیا کو کیا پتہ کہ کامیڈی کیا ہوتی ہے۔ ہمارا احسان مانیں کہ ہم نے وہاں جاکر ان کی الف بے سیدھی کر دی۔اپنے حالات یہ ہیں کہ سب سے اچھی کامیڈی اب منبر ومحراب سے پروڈیوس ہو رہی ہے۔ خاص طور سے مادری زبانوں میں خطبے دینے والے مولوی تو حد کر رہے ہیں۔ اس کے بعد باری آتی ہے ٹِک ٹاکرز کی اور پھر آتے ہیں وہ ٹاک شوز، جو آٹھ بجے برپا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تھیٹر سے وابستہ اداکار انہی تین چڑھتی ہوئی مارکیٹوں کی طرف نکل گئے۔ کچھ تبلیغی جماعت کو پیارے ہو گئے، کچھ تھیٹر سمیٹ کر ٹاک شوز میں چلے گئے۔ جو رہ گئے انہوں نے ٹِک ٹاک پر تمبو گاڑ دیے ہیں۔
جاپان سے آئے ہوئے ایک وفد نے ہماری میڈیا انڈسٹری کے حالات دیکھے تو ہریان دریان رہ گئے۔ کہنے لگے، دنیا بھر میں ٹی وی چینل انٹرٹینمنٹ
سے کماکر کرنٹ افئیرز پر لگا رہے ہیں۔ پاکستان میں کرنٹ افئیرز سے کما کر انٹرٹینمنٹ پر لگایا جا رہا ہے۔ تو کیا کریں بھائی؟ جن کے پاس کھیلن کو چاند تارے نہ ہوں تو وہ سیاست سے ہی کھیلیں گے۔ اس سے بھی جی نہیں بھرے گا تو کسی کی عزت سے کھیلیں گے۔ ہمارے ایک مہذب دوست کو پریشانی رہی کہ پوری قوم نے رمضان کا مہینہ اس انتظار میں کیوں گزار دیا کہ سابق وزیرا عظم کی ویڈیوز آنے والی ہیں۔ ان کے مطابق آخری عشرے میں ویڈیو آ گئی؟، لنک ان باکس کر دے پلیز، ہمیں بھی دکھا دے یار! جیسے کمنٹ سب سے زیادہ کیے گئے ہیں۔ اور عید کے بعد سوشل میڈیا پر جس شخص کو سب سے زیادہ سرچ کیا گیا ہے، وہ عامر لیاقت حسین نامی کوئی پاکستانی شہری ہے۔ اب اس کی توند وغیرہ کے سائز پر بات کر کے باڈی شیمنگ جیسی بداخلاقی کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں۔ دوست کی یہ فکر انگیز باتیں سن کر میں اتنا ہی کہہ پاتا ہوں، کیا کریں باس! ہمارے پاس کوئی انٹرٹینمنٹ بھی تو نہیں ہے۔(DW)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں