5

اگر آج صدر مملکت کے پاس 58-2B کا اختیار ہوتا تو؟

ابراہیم کنبھر

ملک کے سب سے بڑے صوبے میں سیاسی بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ بظاہر اس بحران کے پیچھے مکمل سیاسی ہاتھ ہے اور اس کا ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کو اس لیے قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ انہوں نے وفاقی حکومت کو بچانے کے لیے عثمان بزدار کی قربانی دی اور چوہدری پرویز الہی کو وزیرِ اعلی کے عہدے پر نامزد کردیا۔لیکن اس سیاسی بحران کا دوسرا بڑا محرک مسلم لیگ (ق)کے رہنما پرویز الہی کو مانا جاتا ہے، در حقیقت یہ بحرانی کیفیت اس دن پیدا ہوئی جس دن پرویز الہی نے سابق اپوزیشن اتحاد کی طرف سے وزیرِ اعلی پنجاب کی نامزدگی کی پیشکش ٹھکرا کر عمران خان سے وفاداری نبھانے کا فیصلہ کیا۔
ایک لمحے کے لیے فرض کرلیتے ہیں کہ اگر پرویز الہی اس وقت کی حزبِ اختلاف کی بات مان لیتے اور عمران خان صاحب کو حمایت دینے اور لینے کا وعدہ نہ کرتے تو اس وقت وہ سب سے بڑے صوبے پر بطور وزیرِ اعلی راج کر رہے ہوتے، اور ان کے بیٹے مونس الہی بھی شاید وفاق میں وزارت کے مزے لے رہے ہوتے۔ صرف یہی نہیں بلکہ سب سے اہم یہ کہ ان کی 5 ممبران کی پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے بچ جاتی اور گجرات کا چوہدری خاندان اس طرح کے اختلافات کا شکار نہ ہوتا۔
پرویز الہی کے ایک فیصلے نے ناصرف ان کی جماعت کو نقصان پہنچایا بلکہ پنجاب کو ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا جس سے جان نہیں چھوٹ رہی۔ اب تو پنجاب کے اسی بحران سے صدرِ مملکت بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک طرف صدرِ مملکت پر آئین شکنی کے الزامات لگ رہے ہیں تو دوسری طرف وہ چکی کے دو پاٹوں میں پس رہے ہیں، یعنی ایک طرف سے ان پر یہ دبا ؤہے کہ آئین کا ساتھ دیں اور دوسری طرف اپنی جماعت کا دبا ؤہے کہ وہ آئین کو چھوڑیں اور بنی گالا کی ہدایات کا خیال کریں۔اب صورتحال یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں پہلی مرتبہ صدرِ مملکت عارف علوی کے غیر آئینی اقدامات کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی ہے۔
اگر مرحلہ وار دیکھا جائے تو پنجاب کی صورتحال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتی جارہی ہے اور آخری وار ایوانِ صدر سے اس وقت ہوا جب وزیرِاعظم کی جانب سے گورنر پنجاب کو ہٹانے کے لیے بھیجی گئی سمری کو ایوانِ صدر نے مسترد کردیا۔
جہاں تک آئین کا تعلق ہے تو آئین کی شق 101 اور 48 کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس پر گورنر کے حامی قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 101 میں واضح لکھا ہے کہ صدر کی رضامندی تک گورنر اپنے عہدے پر کام کرسکتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وزیرِاعظم کی ایڈوائس بے معنی ہے۔ جبکہ آئین کے آرٹیکل 48 میں واضح لکھا ہے کہ صدرِ مملکت وزیرِاعظم کی ایڈوائس پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔
ملک کو اس بحرانی کیفیت سے عدالت ہی نکال سکتی ہے مگر حیران کن طور پر عدالت میں ابھی تک ایسی کوئی درخواست نہیں گئی۔
گورنر کے تقرر اور اس کو ہٹانے یا صدر کے اختیارات کے حوالے سے اٹارنی جنرل اشتر علی اوصاف نے پارلیمنٹ میں اہم پالیسی بیان دیا اور کہا کہ صدر کے اختیارات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 3 فیصلے موجود ہیں جس میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام میں صدر کے پاس اختیارات علامتی ہیں جیسے برطانوی جمہوری نظام میں ملکہ کے پاس ہیں۔ دوسرے فیصلے کے مطابق گورنر اور اٹارنی جنرل کے تقرر کا طریقہ ایک ہی ہے، یعنی دونوں کے تقرر اور ہٹانے کا اختیار وزیرِاعظم کے پاس ہے، جبکہ وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا خیال ہے کہ ہمارا نظامِ حکومت پارلیمانی نظام پر مشتمل ہے جس میں حکومتی سربراہ وزیرِاعظم ہوتا ہے۔ چوہدری سرور کو ہٹانے کے لیے بھیجی گئی سمری کو تو صدرِ مملکت نے 2 منٹ میں منظور کرلیا لیکن عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانے سے متعلق سمری پر کئی انتظار کرنے کے بعد اسے مسترد کردیا۔
ایوانِ صدر اور گورنر ہاؤسز ہمیشہ غیر سیاسی ما نے جاتے رہے لیکن اب ان ایوانوں کو پارٹی پالیسی اور پارٹی سربراہ کی ہدایات پر چلتے دیکھا گیا۔ شہباز شریف سے صدر نے وزیرِاعظم کا حلف لینے سے انکار کردیا، کابینہ ممبران سے حلف لینے کا وقت آیا تو اس وقت بھی صدر بیمار تھے جبکہ یہ کام ان کی آئینی ذمہ داری ہے ۔صدرِ مملکت بظاہر ریاست کے سربراہ اور فوج کے سپریم کمانڈر ہیں، لیکن ان کے اختیارات میں کمی کا ایک پس منظر ہے۔ 1977 میں جنرل ضیاالحق نے 8ویں ترمیم کے ذریعے ملک میں پارلیمانی نظام کو کمزور کرکے تمام اختیارات کا مرکز ایوانِ صدر کو بنا دیا اور پارلیمنٹ کو ختم کرنے کا اختیار صدر اور صوبوں میں وفاق کے مقرر کردہ نمائندوں یعنی گورنرز کو دے دیا گیا۔
صدر جنرل ضیاالحق نے اپنے منتخب وزیرِاعظم محمد خان جونیجو کی حکومت کو گھر بھیج کر قومی اسمبلی کو تحلیل کردیا اور صوبوں میں گورنرز نے بھی اپنے باس کے کہنے پر وہی کام کیا۔ ایوانِ صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے آئین کی شق 58 (2) بی میں دیے گئے اختیارات کو اس کے بعد آنے والی حکومتوں کے خلاف بھی استعمال کیا جاتا رہا۔ صدر غلام اسحق خان نے اسے اختیار کے تحت 6 اگست 1990 کو پیپلز پارٹی کی حکومت کو گھر کا راستہ دکھایا جو 3 دسمبر 1988 کے انتخابات میں کامیاب ہوکر قائم ہوئی تھی۔
پھر 60 دن بعد جب عام انتخابات ہوئے تو مسلم لیگ (ن) جیت گئی اور میاں نواز شریف ملک کے وزیرِاعظم بنے لیکن صدر غلام اسحق خان ہی رہے۔ انہوں نے ایک بار پھر 58 (2) بی کا اختیار استعمال کیا اور 16 اپریل 1993 کو اسمبلی کو توڑ دی۔معاملہ سپریم کورٹ پہنچا اور عدالتِ عظمی نے قومی اسمبلی کو بحال کردیا۔ مگر صدر وزیر اعظم کے مابین تنازع برقرار رہا حالات بگڑنے پر کاکڑ فارمولا کے تحت صر اور وزیر اعظم دونوں کو گھر جانا پڑا۔ 18 جولائی 1993 کو وزیرِاعظم کی ایڈوائس پر پارلیمنٹ تحلیل کردی گئی۔
1993 کے انتخابات کے بعد بینظیر بھٹو کو دوبارہ وزیرِاعظم بنیں تو اب کی بار پیپلز پارٹی نے اپنی پارٹی کے پرانے جیالے فاروق لغاری کو ایوانِ صدر میں بٹھا کر یہ سمجھا کہ ایوانِ صدر کے ذریعے منتخب اسمبلی کو توڑنے والی سازشوں کا سدِباب کیا جاسکتا ہے لیکن پیپلز پارٹی کا یہ خیال اس وقت چکنا چور ہوگیا جب ان کے اپنے صدر نے اپنی قائد سے سیاسی بے وفائی کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی حکومت کو کرپشن کے الزامات کے تحت 5 نومبر 1996 کو واپس پویلین کا راستہ دکھا دیا۔
ایوانِ صدر میں ہونے والی ایسی منصوبہ بندی کا راستہ روکنے کے لیے مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے اپریل 1997 کو 13ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر سے اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیارات چھین لیے۔ پیپلز پارٹی نے اپوزیشن میں ہونے کے باوجود اس ترمیم کی حمایت کی کہ وہ خود 2 مرتبہ اس شق کا شکار ہوچکی تھی۔
مگر محض 2 سال بعد جنرل پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو آئین معطل کرکے وہی کچھ کیا جو جنرل ضیاالحق نے 1977 میں کیا تھا۔ اس بار منتخب وزیرِاعظم پھانسی کی سزا سے تو بچ گئے لیکن عمر قید اور اس کے بعد جلاوطن کردیے گئے۔ پھر اس کے بعد پرویز مشرف نے اپنی پسند کے آئینی ماہرین شریف الدین پیرزادہ اور جنرل ایوب کے دیرینہ ساتھی ایس ایم ظفر کو ساتھ بٹھا کر ایل ایف او بنوایا اور اسے 17ویں ترمیم کی شکل دے کر 2003 میں منظور کروا لیا اس کے ساتھ ہی اختیارات کا مرکز ایک بار پھر ایوانِ صدر بن گیا۔
ایوانِ صدر کو اپنے مقاصد کے لیے یا تو فوجی آمروں نے استعمال کیا یا ان کی باقیات اور چاہنے والوں نے اس پر عمل کیا، لیکن پھر 18ویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے سمیت تمام تر اختیارات محدود کرکے صدر کو وزیرِاعظم کی ایڈوائس منظور کرنے کا پابند بنا دیا گیا۔اب ایک لمحے کے لیے فرض کریں کہ اگر 18ویں ترمیم منظور نہیں ہوتی، اور صدر اور گورنرز کے اختیارات وہی ہوتے جو جنرل ضیاالحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں تھے تو اس وقت سیاسی طور پر ہم کہاں کھڑے ہوتے؟ آنے والے دنوں میں صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی، اس بارے میں کوئی بھی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں