7

باپ کے کندھے پر جوان بیٹے کاجنازہ

خواجہ آفتاب حسن

کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے بڑا بوجھ بوڑھے باپ کے کندھوں پر جوان بیٹے کا جنازہ ہوتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ باپ ہی وہ واحد ہستی ہے جو اپنی اولاد کو خود سے زیادہ کامیاب اورترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے اورساری زندگی اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر دوڑ دھوپ میں گزار دیتی ہے ۔باپ اپنے بچوںکی راہ کی مشکلات کو آسانی میں بدلنے کے لیے اپنی صحت اورجان تک کی پرواہ نہیں کرتا۔اور جب بچے بڑے ہوکر کامیاب زندگی گزار تے ہیں تو باپ کے لیے اس سے زیادہ اطمینان کی کوئی اوربات نہیں ہوتی ۔اوراگر کہیں کوئی بچہ کسی وجہ سے زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے تو باپ کی تکلیف کو کوئی محسوس نہیں کرسکتا۔جو باپ اپنی اولاد کی ذرا سی تکلیف برداشت نہیں کرسکتا ، زندگی میںجب اسے جوان اولادکی موت کا صدمہ سہنا پڑجائے تو اس کی حالت ناقابل بیان ہوتی ہے۔ایسی ہی حالت گئے روز علامہ صدیق اظہر صاحب کی تھی ۔جب گھر سے جوان بیٹے کاجنازہ اٹھا تو وہ علامہ صدیق اظہر جو اپنے جملوں سے محفل کو کشت زعفران بنادیتے تھے ،پھوٹ پھوٹ کر یوں رودیے کہ کیا کوئی بچہ اپنا سب سے قیمتی کھلونا ٹوٹنے یا گم ہونے پر روتا ہوگا۔بیٹے کی موت کے غم سے نڈھال علامہ صاحب کوقبرستان لاتے لاتے دلاسہ دینے والوں کا صبربھی جواب دے گیا۔
علامہ صدیق اظہرلاہور پریس کلب کے لائف ممبراور سینئرکالم نگار ہیں۔ادب سے گہرا لگائو رکھتے
ہیں اورکمال کی یادداشت پائی ہے۔پریس کلب میںان سے تقریباً روزانہ ملاقات ہوتی ہے ،چند لمحوں کے لیے رکتے ،ہنستے چہرے کے ساتھ سلام دعا کرتے اورچلے جاتے ہیں ۔کبھی کبھار ساتھ بیٹھ کر چائے بھی پی لیتے ہیں ،خاص طور پر جب اظہر غوری صاحب بیٹھے ہوں یا پھر خواجہ نصیر صاحب کے انتظار میں ہوں۔کیوں کہ خواجہ صاحب واپسی پر انہیں ساتھ صحافی کالونی لے کر جاتے ہیں جہاں علامہ صاحب کے تین صاحبزادے رہائش پذیر ہیں ۔مرحوم یاسر صدیق بھی اسی گھر میںاپنی بیوی اور چار معصوم بچوں کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔یاسرکے ایک بچے کی عمرابھی محض آٹھ ماہ ہے اوروہ ابھی اپنی ماں سے پاپا کہنا سیکھ رہاتھا ۔خواجہ نصیر بعض اوقات علامہ صاحب کو صدرکے علاقے میں ڈراپ کرتے ہیں جہاں علامہ صاحب کے آبائی گھر میںان کے صاحبزادے فوٹو جرنلسٹ محی الدین اپنے دو چچائوں کے ساتھ رہتے ہیں۔منگل کی شام پریس کلب میں عمران شیخ سمیت کچھ دوست بیٹھے تھے ،فوٹو جرنلسٹ امجد تشریف لائے اور بتایا کہ محی الدین کے چھوٹے بھائی کو برین ہیمرج ہوا ہے اوروہ فون پر بہت رورہا تھا۔گفتگو کا موضوع بدل گیا اورسب اس ناگہانی پریشانی سے پریشان ہوگئے ۔سب جانتے ہیں کہ محی الدین بہت جذباتی ہے،جس طرح وہ شرارتی ہے اسی طرح حساس بھی ہے ۔بھائی کی حالت دیکھ کر یقینا خود پر قابو رکھنا اس کے لیے مشکل تھا ۔
اگلے روزبدھ کی شام حسب معمول پریس کلب کے لان میں بیٹھے خواجہ نصیر صاحب نے علامہ صدیق اظہر کے بارے میں دریافت کیا ہی تھا کہ اسی دوران پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری محترم خاوربیگ آئے اوراطلاع دی کہ علامہ صاحب کے صاحبزادے دنیا فانی سے کوچ کرگئے ہیں۔چند لمحے پہلے گپ شپ اورقہقہوں والی نشست سوگ میں بدل گئی ۔صدمے میں ڈوبے خواجہ نصیر صاحب نے بتایاکہ علامہ صاحب کا یہ بیٹا بہت ہی قابل وکیل اوراپنے باپ کا نہایت ہی تابعدار تھا۔خاور بیگ نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے 48گھنٹے بہت اہم قراردیے تھے ۔بدقسمتی سے دماغ کی شریان میں جمع خون کا لوتھڑاجان لیوا ثابت ہوا۔گئے روز یاسر صدیق کاجنازہ اٹھنے کو تھا اورصحافی کالونی میں علامہ صدیق اظہر کا گھر جوان موت پر ماتم کناں تھا ،ہرآنکھ اشکبار تھی،اہل خانہ اورخواتین کی گریہ وزاری اوردھاڑیں سن کر دل دہل رہاتھا۔ اپنے چھوٹے بھائی کے جنازے پر محی الدین جس طرح دھاڑیں مارمار کر رورہا تھا ،بہت سے سخت دل بھی رودیے ۔علامہ صاحب تعزیت کے لیے آنے والوں کو ڈاکٹروں کی بے حسی سے متعلق رو رو کربتارہے تھے کہ جب انہوں نے ڈیوٹی پر موجود ایک ڈاکٹر کو بیٹے کی حالت کی طرف توجہ دلائی تو اس کا کہنا تھا ’’ کم مک گیا اے ،تسی بس لے جانڑ والی گل کرو‘‘۔علامہ صاحب کی یہ بتاتے ہوئے ہچکی بندھ گئی کہ ’’ اوس ظالم نوں پتا سی کہ میں مریض داپیو آں ،فیر وی مینوں کہہ رہیا اے کہ ۔۔۔۔۔‘‘۔
ہمارے ہاں سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں اوران کے لواحقین کے ساتھ ڈاکٹروں اورپیرا میڈیکل سٹاف کا غیرانسانی سلوک کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ڈیوٹی سٹاف کی جانب سے لواحقین سے ہاتھا پائی اورمارکٹائی معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔ہسپتالوں میں گنجائش سے زیادہ مریضوں کے باعث کارڈیالوجی جیسے ہسپتال میں بھی ایک بیڈ پر دو ، دومریض پڑے ہوتے ہیں ۔ہسپتالوں کی راہداریوں میں علاج کے منتظر نہ جانے کتنے اپنی باری کے انتظار اورڈاکٹروں کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ۔علامہ صدیق اظہرصاحب نے جب یہ بتا یا کہ یاسر کے بلڈ پریشر کوکم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی اوراس سے بھی بڑا ظلم یہ کیا گیا کہ مریض کے لیے تجویز کردہ جو ادویات ہسپتال کی ڈسپنسری میں دستیاب نہیں تھیں ،ان کے آگے NAیعنی Not Availabel(دستیاب نہیں)لکھ دیا گیا لیکن انہیں ان کی عدم فراہمی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا ۔ڈاکٹرزاورڈیوٹی سٹاف کی جانب سے یہ نہایت ہی افسوسناک اورغیر ذمہ دارانہ عمل ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے ۔لواحقین کو اگر ان ادویات کے بارے میں بتادیا جاتاتو وہ خود بازار سے لے آتے ۔ممکن ہے ان ادویات کے استعمال سے یاسر صدیق کی جان بچانے کی کوشش کامیاب ہوجاتی ۔مگر افسوس ہمارے ہاں انسانی زندگی کی اہمیت ہی نہیں ۔نہ جانے کتنے بیٹے ہرروز ڈاکٹروں کی اس بے حسی کاشکار ہوجاتے ہیں اورعلامہ صدیق اظہر جیسے کتنے ہی بوڑھے باپ جوان بیٹوں کے جنازوں کے بوجھ اٹھانے پر مجبورکردیے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں