5

مسلم لیگ (ن)مشکل امتحان میں!

مبین سلطان

آصف علی زرداری نے بڑی چالاکی سے مسلم لیگ (ن) سے اپنے سارے سیاسی حساب ایک ہی بار میں چکتا کردیئے ہیں اور وہ بھی دشمن کو زہر نہیں گڑ کھلا کر مارنے کی ترکیب آزما کر۔بظاہر تو شہباز شریف کا وزیر اعظم کا شوق پورا کرایا ہے مگر در حقیقت شہباز شریف کی طرف سے پیٹ پھاڑ کر لوٹی دولت نکالنے کے دعوے کا انتقام لیا ہے۔ملک کے معاشی حالات جس نہج پر ہیں وہ کسی بھی جماعت کے لئے سود مند نہیں ۔عمران خان چونکہ گذشتہ ساڑھے تین برس میں کووڈ وغیرہ کی مشکلات سے ملک کو کامیابی سے نکال کر دنیا پر اپنی دھاک جما چکے تھے کہ وہ مشکل مراحل سے بخوبی نکلنا جانتے ہیں لیکن نئی حکومت کے لئے پیچیدہ حالات کو سمجھنا ہی کار دارد ہے کہ شہباز شریف کی ذہنی استعداد ایک اچھے ماتحت جتنی تو ہے مگر وہ آزادانہ طور پر مشکل فیصلے لینے کی پویشن میں نہیں اسی لئے وہ اس وقت ’’سر منڈاتے ہی اولے پڑے‘‘ والی صورت حال سے دوچار ہیں۔تبھی وہ مع اپنی کابینہ کے اہم ارکان کے اپنے سیاسی قائد کے پاس پہنچ گئے ہیں کہ وہی اسحق ڈار سے مل کر کوئی راستہ نکالیں کہ شہباز شریف کی اتحادی حکومت موجودہ گرداب سے نکل سکے مگر وہ بھی نواز شریف ہیں وہ تو چاہیں گے کہ پہلے اتحادی حکومت ان کی وطن واپسی کی راہ ہموار کرے تب وہ اپنی پٹاری سے وہ گیدڑ سنگھی نکالیں گے ۔ بے شک اسٹیبلشمنٹ
سیاست سے لاتعلقی کا اعلان کررہی ہے مگر وہ اتنی بھی لاتعلق نہیں کہ ایک سزایافتہ مجرم کی وطن واپسی کی راہ ہموار کرانے میں مدد کرکے اپنے لئے بدنامی مول لینے کا رسک لے۔ اسی لئے عمران خان کے جارحانہ حملوں کے باوجود وہ دفاعی پوزیشن لئے اتحادی حکومت کو عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی کی اجازت نہیں دے رہی جس پر حکومت بالخصوص مریم نواز شریف بہت تلملا رہی ہے کہ وہ بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئی ہے۔مسلم لیگ ن کے لئے انتخابی حالات بہت خراب ہیں۔ وہ کسی صورت الیکشن میں نہیں جانا چاہتے۔ عمران خان کا دبا ؤاتنا شدید ہے کہ تین صوبوں میں حکومت ہونے کے باوجود نواز شریف پاکستان واپس آنے کا رسک نہیں لے رہے۔ عمران خان کی عوامی طاقت میں روز بروز اضافہ مخالفین کے لئے تشویش ناک ہے۔ نواز شریف نے لندن اجلاس بلا کر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں انکی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ امپورٹڈ حکومت کا امپورٹڈ اجلاس سامراجی قوتوں کی “جی حضوری ” ہے۔ اس بات کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ‘ایبسلوٹلی ناٹ’ کہنے کے بعد عمران خان کی زندگی کو جو خطرات لاحق ہیں وہ بھی لمحہ فکریہ ہے۔ ہمارے ادارے بھی اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان تمام خطرات کے پیش نظر ایسی کونسی اہم گفتگو تھی جس کے لئے تمام لیگی وزرا کو لندن بلالیا گیا۔ اجلاس کی جو پریس ریلیز جاری کی گئی ہے وہ اندرونی گفتگو سے مختلف ہے۔ آنے والے دنوں میں بہت سی سیاسی تبدیلیوں کا امکان ہے، الیکشن کا فوری انعقاد کسی بڑے حادثے سے بچنے کے لئے ناگزیر ہیں۔ عوامی مقبولیت میں تحریک انصاف اول نمبر پر ہے اور عمران خان اسی طاقت کو استعمال کر کے دوبارہ اقتدار میں آنا چاہتے ہیں انہیں یہ لگتا ہے کہ اتنی عوامی سپورٹ کے ساتھ وہ دو تہائی اکثریت حاصل کر لیں گے۔ 95 لاکھ اوورسیز پاکستانی عمران خان کو ووٹ دینے کے لیے بے قرار ہیں اور اس مرتبہ وہ کسی بھی حالت میں عام انتخابات کا حصہ بن کر اپنی وطن سے محبت کا اظہار کریں گے۔
اوورسیز پاکستانیوں سے رابطہ برقرار رکھنے کے لیے عمران خان نے اپنے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز مخدوم سید طارق محمود الحسن کو اہم ٹاسک سونپ رکھا ہے جس کے تحت وہ تمام ممالک کے دورے کر کے وہاں کی پاکستانی کمیونٹی کو ووٹنگ رائٹس اور طریقہ کار بارے آگاہی دیتے رہیں گے۔ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے وائس چیئرپرسن اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب ڈاکٹر شاہد محمود نے بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ دن رات کام کیا اور مختصر عرصے میں ہی اربوں روپے کی جائیدادیں قبضہ گروپوں سے واگزار کروا کر اصل مالکان کے حوالے کیں۔ ان اقدامات سے بیرون ملک پاکستانیوں کا عمران خان پر اعتماد بڑھا اور انہوں نے سالانہ 31 ارب ڈالر پاکستان بھیجے۔ یہ پاکستان اور عمران خان سے انکی محبت کا ثبوت ہے۔ موجودہ حکومت نے اگر اوورسیز کو ووٹنگ کا حق نہ دیا تو یہ فیصلہ انکو سیاسی طور پر بہت گھاٹے میں لے جائے گا۔ حکومت کے لئے معاشی مشکلات اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ وہ آئی ایم ایف کی ہدایات پر عمل کرنے سے کترا رہے ہیں۔ بجلی تیل اور اشیا خورو نوش کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے غصے کو مزید بھڑکا دیگا جس سے وہ اپنے ووٹرز کا بھی سامنا نہیں کر پائیں گے اس وجہ سے نواز شریف آصف زرداری الیکشن کے فوری انعقاد کے لئے مشاورت کررہے ہیں لیکن وہ کسی صورت بھی موجودہ سیٹ اپ میں انتخابات نہیں چاہتے۔ آصف زرداری نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی اپنی گیم پلان میں انتخابی اور نیب اصلاحات کے بعد الیکشن کروانے کا عندیہ دیا ہے جبکہ عمران خان نے موجودہ الیکشن کمشنر پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہوا ہے۔ آنے والے وقت میں اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں کن کن TORs پر متفق ہو کر الیکشن میں جاتی ہیں۔بظاہرعمران خان کی مقبولیت سے خوف زدہ اتحادی حکومت فوری انتخابات میں جانے سے ڈرتی ہے اسی لئے وہ اتخابی اصلاحات کے بہانے انتخابات سے بھاگ رہی ہے کیونکہ جلد انتخابات کی صورت میں تو پھر شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ چھوڑنا پڑے گی مگر وہ اسمبلیوں کی باقی مدت پوری ہونے تک وزیر اعظم رہنا چاہتے ہیں جو کہ بڑی مشکل اور بڑی دیر کے بعد جا کے ان کے ہاتھ آئی ہے۔وہ پہلی اور آخری بار اس کرسی پر بیٹھے ہیں جو نئے انتخابات کے بعد انہیں اور ان کے خاندان کو پھر کبھی نہیں ملے گی کیونکہ عمران خان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے،نون لیگ اور مریم نواز شریف کی ’’کانپیں ٹانگ‘‘ رہی ہیں کہ دو تہائی اکثریت سے جیت کر آنے والا عمران خان اب کسی دباؤ میں نہیں آئے گا اور سازشی عناصر کو کیفرکردار تک پہنچا کر دم لے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں