10

یاداں جنید اکرم دِیاں کے عنوان سے تقریب کا انعقاد

ظ عباس

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہمارے ہاں مادری زبانوں میں کام کرنے والے اکثر گمنام رہتے ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مادری زبانوں میں لکھنے والے عموما درویش منش ہوتے ہیں۔ پروفیسر جنید اکرم بھی انہی میں سے ایک تھے۔ پنجابی سے انہیں عشق تھا جس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ وہ تمام تر نقصان کے باوجود سہ ماہی رسالہ پنجابی شائع کرتے رہے اور اردو میں لکھنے والے پنجابی ادیبوں کو بھی پنجابی میںلکھنے پر قائل کرتے رہے۔جنید اکرم معروف پنجابی شاعر فقیر محمد فقیر کے نواسے تھے جنہیں بابائے پنجابی بھی کہا جاتاہے۔
جنید اکرم کو پنجابی کے نامور شاعر فقیر محمد فقیر کا نواسہ ہونے کا شرف تو حاصل تھا ہی، اس کے ساتھ ساتھ وہ معروف اداکار سہیل احمد عرف عزیزی اور پروفیسر اورنگزیب کے بھائی بھی تھے۔ جنید اکرم کی پنجابی کے ساتھ محبت لازوال تھی۔ احباب کئی دفعہ انہیں مذاق میں کہا کرتے تھے کہ آپ کے اختیار میں ہو تو آپ پنجابی کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دے دیں۔ جواب میں جنید اکرم قہقہہ لگاتے ہوئے کہتے کہ میرے اختیار میں ہو تو پنجابی کو عالمی زبان قرار دے دوں۔ جنید اکرم نے متعدد کتابیں تالیف اور تحریر کیں جن کی تعداد 70سے زیادہ ہے۔ اسی سے اندازہ لگا لیں کہ ان کے اندر تخلیقی جوہر کس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ جنید اکرم نے شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی کچھ پنجابی نظموں کا بھی ترجمہ بھی کیا۔انہوں نے اپنی زندگی ایک عجیب سی سرشاری کے عالم میں بسر کی۔ شعر کہے، کتابیں لکھیں، رسالہ نکالا، درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیے اور خلقِ خدا کی آسانی کے لئے راہیں تلاش کیں۔پنجابی زبان و ادب کے لیے کام کرنے والوں کے لیے ان کی وفات ایک ایسا صدمہ تھا جسے وہ آج بھی بھلا نہیں پائے جیسا کہ مدثر اقبال بٹ کی سرپرستی میں پنجابی یونین کے زیر اہتمام گزشتہ روز پنجاب ہاوس میں جنید اکرم کی پہلی برسی کے موقع پر ان کی پنجابی زبان و ادب کے لئے غیرمعمولی خدمات پر انہیں خراج عقیدت کرنے کے لیے یاداں جنید اکرم دِیاں کے عنوان سے ا یک پر وقارمگر سادہ تقریب منعقد کی گئی۔
تقریب کی صدارت مجید منہاس نے کی۔ مہمانان خصوصی میں الیاس گھمن،فنکار سہیل احمد المعروف عزیزی،اتفاق بٹ ،بابا نجمی،اکمل شہزاد گھمن،نورالحسن ،خرم شہزاد اور میاں رشید شامل تھے۔
تقریب کی میزبانی کا فرض پنجابی یونین کے چیئرمین مدثر اقبال بٹ اور وائس چیئرمین بلال مدثر بٹ نے ادا کیا۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا۔ تلاوت حافظ ممتاز ملک نے کی۔ نعت رسول اللہ ﷺپڑھنے کااعزاز اکرم قلندری نے جنید اکرم کی پنجابی نعت ہوائیں مدینے پاک جائیں..میرے آقا نوں دکھ میرا سنائیں سنا کر حاصل کیا ۔
پنجابی یونین کے چیئرمین مدثر اقبال بٹ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر جنید اکرم کی پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لئے کام کی اتنی جہتیں ہیں کہ ان پر ایک نشست میں بات نہیں ہوسکتی ،اس کے لئے کئی نشستوں کی ضرورت ہے۔ پنجابی زبان و ادب کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔یہ ان کی محبتوں کا اثر ہے کہ آج کی تقریب میں شرکت کیلئے لوگ دور دور سے آئے ہیں۔ تقریب کے دوران ڈاکٹر فقیر محمد فقیر اور جنید اکرم کے ذکر پرمدثر اقبال بٹ اور حاضرینِ محفل بار بار آبدیدہ ہوتے رہے۔
پنجابی میڈیا گروپ کے صدر ندیم رضا نے کہا،
جنید اکرم کے حوالے سے پنجاب ہاوس میں آج دوسری تقریب منعقد کی گئی ہے۔ پہلی تقریب ایک سال قبل منعقد کی گئی تھی ۔اس دوران پنجاب ہاوس میں ایک سو سے زیادہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ پنجاب ہاوس کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ اس نے اس قدر بڑی تعداد میں تقریبات کی میزبانی کی ہے۔ پنجاب ہاوس مدثر اقبال کا جنون ہے، یہ ان کا وہ خواب ہے جو انہوں نے اپنی آنکھوں سے شرمندہ تعبیر ہوتے ہوئے دیکھاہے ہمارے لئے یہ خوشی کی بات ہے کہ پنجاب ہاوس کے تقریبا تمام منصوبے ہی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں، ہمارا اسٹوڈیو فنکشنل ہوگیا ہے اور پنجابی کے لیے کام کرنے والوںکو یہاں پر ہر سہولت بلامعاوضہ فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا،
یہ کام اگرچہ حکومت کے کرنے کا ہے لیکن حکومت کی جانب سے اس باب میں کوئی کام نہیں کیا جا رہا۔ پنجاب ہاوس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اتنا بڑا کام کر رہا ہے جو مدثر اقبال بٹ کی لگن، محنت اورجنون کے باعث ہی ممکن ہو سکا ہے۔
ندیم رضا نے کہا کہ میں ہمیشہ شکایت کناں رہا کہ بابا نجمی کے علاوہ پنجابی کے کسی شاعر نے وہ آسان لفظ استعمال نہیں کئے جو ہماری نئی نسل کی سمجھ میں آسکیں لیکن جب جنید اکرم کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے یہ کمی پوری کر دی ہے ۔
نعت خواں عنایت عابدنے جنید اکرم کی ہی لکھی حمد سب توں سوہنا میرا اللہ ،ذات اپنی وچ کلم کلا سنا کر حاضرین سے خوب داد حاصل کی۔
پنجابی کے ناول نگار و کہانی نویس زاہد حسن نے کہا،
جنید اکرم کمال کے آدمی تھے جنہیں اپنی بیماری کی سنگینی کے بارے میں بہت پہلے سے معلوم تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے اتنا کام کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ جنید اکرم کی کوششوں کے باعث پنجابی ادبی بورڈ میں پنجابی کے ایک سو سے زیادہ شعرا کا کلام جمع ہو سکا۔انہوں نے جس طرح سے بابائے پنجابی فقیر محمد فقیر کے کام کی تنظیم نو کی۔ اب کوئی تحقیق بھی کرنا چاہے تو اسے ان کی ابتدائی تحریریں مل جائیں گی۔سہیل احمد بھی اپنی جگہ پر پنجابی زبان و ادب کی ترویج کے لئے بہت کام کر رہے ہیں۔
سہیل اشرف نے جنید اکرم کی زندگی کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ،
انہوں نے ماہنامہ پکھیرو کی اشاعت کو جاری رکھنے میں میری غیرمعمولی مالی معاونت کی جس کا وہ ذکر تک بھی نہیں کرتے تھے ،وہ بہت محبت کرنے والی شخصیت کے مالک تھے ۔میری بیماری کے دنوں میں انہوں نے خود بیمار ہوتے ہوئینہ صرف تیمارداری کی بلکہ مالی معاونت بھی فراہم کی۔
شریف انجم نے کہا ،
میری مرحوم جنید اکرم سے اولین ملاقات 2000میں ہوئی تھی یہ ملاقات ایسے گہرے تعلق میں بدلی جو ان کی زندگی کے آخری لمحے تک قائم رہا۔
ویر سپاہی نے کہا،
جنید اکرم گو اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں لیکن وہ آج بھی ہم میں موجود ہیں ۔
انہوں نے مزیدکہا،
یہ مدثر اقبال بٹ کا کمال ہے کہ وہ پنجابی زبان میں ادب تخلیق کرنے والوں کی حوصلہ افزائی میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے۔
انہوں نے اس موقع پر جنید اکرم پر لکھی ہوئی اپنی نظم بھی سنائی ۔
ستارہ امتیاز ایم آر شاہد نے کہا ،
جنید اکرم بہت محبت کرنے والے انسان تھے بیمار ہوا تو عیادت کے لئے گھر آئے تو میری محبت میں بدپرہیزی سے بھی گریز نہیں کیا۔
پنجابی کے معروف شاعر بابا نجمی نے کہا،
جنید اکرم اور سہیل احمد بہت خوش نصیب ہیں کیوں کہ جس گھر میں ان کی پرورش ہوئی، اس گھر میںفقیر محمد فقیر بوڑھ کے درخت کی طرح موجود تھے جس کے سائے میں ان کی پرورش ہوئی۔
انہوں نے کہا ،
یہ مدثراقبال بٹ کی محبت ہے کہ پنجابی کے لکھاری جنہیں کوئی شائع کرنے کے لئے تیار نہیںہو رہا، ان کا پورا پورا صفحہ شائع کر دیتے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے اپنی نظم مینوں وی توں اک وار دیدار کرامدینے دا،میرے آیاں ہو نئیں جا ناتنگ بازار مدینے دا سامعین کی سماعتوں کی نذر کی۔
اکمل شہزاد گھمن نے کہا،
جنید اکرم انتہائی زندہ دل اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ میری ان سے پہلی ملاقات 1999میں ہوئی تھی۔ پنجابی کے رہنما الیاس گھمن نے مجھے انگلی پکڑ کر پنجابی میں آگے بڑھنا سکھایا اور جنید اکرم نے سینے سے لگا کر آگے بڑھایا۔ قیام پاکستان کے بعد پنجابی کی بات کرنا بہت زیادہ مشکل ہو گیا تھا لیکن فقیر محمد فقیر نے دانش مندی سے یہ کارنامہ انجام دیا کہ جو لوگ پنجابی کی بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے انہی سے پنجابی کے حق میں لکھوایا۔ میں نے باصلاحیت لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا جنید اکرم سے ہی سیکھا ہے ۔میںجب کبھی اپنی زندگی پر کتاب لکھوںگا تو جنید اکرم پر پورا ایک باب لکھوں گا۔
پنجابی تحریک کے رہنما الیاس گھمن نے کہا ،
میں جو خواب دیکھتا ہوں مدثر اقبال بٹ اسے شرمندہ تعبیر کر کے دکھا دیتے ہیں، میں 9سال کی عمر سے ہی پنجابی کے فروغ کی تحریک میں شامل ہوگیا تھا ،جس کے باعث میں اس حقیقت سے آگاہ ہوں کہ بابائے پنجابی فقیر محمد فقیر کا پنجابی کے فروغ میں جو کردار ہے اسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔مشتاق بٹ کوجب ایم اے پنجابی کرانے کا مطالبہ کرنے پر نظر بند کیا گیا تو فقیر محمد فقیر نے صاف صاف اعلان کر دیا تھا کہ میں مال روڈ پر اس وقت تک بیٹھا رہوں گا جب تک مشتاق بٹ کی نظر بندی ختم نہیں کی جاتی ۔1951میں انہوں نے جو اخبار نکالا وہ تحریکی پرچہ تھا ،اس میں انہوں نے ہر شعبہ کو اتنی مناسب جگہ دی کہ پنجابی کی تحریک کو متوازن کر دیا۔
انہوں نے کہا،
اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جس طرح جنید اکرم نے فقیر محمد فقیر کے مشن کو اگلی نسل تک منتقل کیا ،ہم بھی ان کے کام کو اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھائیں۔
معروف اداکار و اینکر نورالحسن نے کہا ،
مجھے سہیل بھائی نے جنید اکرم کے لئے کچھ لکھنے کو کہا تو جب بھی قلم اٹھایا، جنید اکرم کی ذات پیچھے رہ گئی اور آنسوئوں کی جھڑی آگے آگئی۔میںجنید اکرم کو ہمیشہ بھائی جان کہا کرتا تھا، وہ 12سال سے ہفتے میں تین مرتبہ ڈائلسز کی تکلیف سے گزرتے تھے ۔مجھے جب مدین المبارک جانے کا موقع ملا تو انہوں نے مجھ سے دعا کے لیے کہا کہ میں تھک گیا ہوں ،میرے لئے کیا حکم ہے، میں جب اپنے والد کی قبر بنانے والے اور اس کی دیکھ بھال کرنے والے گورکن کو گھر لے کر آیا تو جنید بھائی کے قدموں میں بیٹھ کر اسے یہ بتایا کہ یہ وہ ہیں جنہوں نے میرے والد کی قبر بنائی تھی تو کہنے لگے کہ میری قبر بھی آپ ہی بنانا اور ایسی ہی بنانا ۔میں نے ٹوکا تو بڑے پیار سے اپنی بات جاری رکھی اور حیرت کی بات یہ ہے کہ بعد میں سب کچھ ایسا ہی ہوا۔وہ اپنی زندگی کی آخری سانسوں میںجھولے لعل کے نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے زندگی بھر کبھی یہ نعرہ نہیں لگایا تھا۔ غور کیا تو یہ معلوم ہوا کہ وہ دن حضرت لعل شہباز قلندر کے عرس کا دن تھا۔میرے لئے فخر کی بات ہے کہ میں جنید اکرم کے گھٹنوں کے ساتھ گھٹنے جوڑ کر بیٹھتارہا ہوں ،وہ ایک غیرمعمولی انسان تھے، انہوں نے کام بھی غیرمعمولی کیے ۔
صاحب صدر مجید منہاس نے اپنے خطاب کی ابتدا اس شعر سے کی۔
یہ تو سوچا بھی نہ تھا کہ وہ مر جائے گا
چاند اک قبر کے پہلومیں اتر جائے گا
انہوں نے کہا ،
جنید اکرم کی شاعری پر فقیر محمد فقیر کی فکر کا گہرا رنگ ہے۔ جنید اکرم کے بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، انہوں نے جاوید اکرم کی لکھی نظم نکا ویر سنائی جس پر حاضرینِ محفل آبدیدہ ہو گئے۔
عبقری اداکار سہیل احمد نے کہا ،
مجھے لاہور آئے اور اداکاری کرتے ہوئے 42سال ہوگئے ہیں۔ مجھے بابوں کے ساتھ بیٹھنے کا بہت شوق رہاہے، مجھے طفیل نیازی ،مہدی حسن اور سلامت علی کے پاس بیٹھنے کا بھی موقع ملا ،میں نے کبھی کسی بابے کو کسی کی برائی کرتے نہیں سنا۔ میں نے سلامت علی خان، جو سنگیت کی کائنات ہیں، کو گود میں بھی اٹھایا ہواہے، یہ موقع مجھیروزنامہ جنگ کے ایک پروگرام میںملا تھا۔قوی خان میرے بہت گہرے دوست ہیں، میں اکثر ان سے پیسے لیتا رہا ہوں وہ جب آتے تو اپنی آدھی جیب میری جیب میں ڈال دیتے تھے اور میری ذمہ داری لگاتے تھے کہ فلاں فلاںکو پہنچا دوں ۔میں اپنے کام کی تعریف نہیں کرتا، میرے کام کو بہتر اللہ بناتا ہے۔ میرا کوئی شاگرد نہیں ہے بلکہ میں سب سے سیکھتا ہوں۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے چھوٹے بھائی جنید اکرم کے حوالے سے اپنی تحریر پڑھی تو سب ہی آبدیدہ ہو گئے۔یوں اس سادہ مگر باوقار تقریب کا اختتام ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں