11

پنجابی یونین کے زیر اہتمام”مصورِ پاکستان علامہ اقبال”کے یوم وفات پر تقریب

لاہور(سٹاف رپورٹر)پنجابی یونین کے زیر اہتمام پنجاب ہائوس میں شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم وفات کے موقع پرپنجاب ہائوس میں ”مصورِ پاکستان علام اقبال ” کے عنوان سے خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پنجابی میڈیا گروپ مدثر اقبال بٹ نے کہا کہ پنجاب ہاؤس میںہم صوفی شعراء کی بات کرتے ہیں پنجابی کے شعراء کی بات کرتے ہیں گو علامہ اقبال نے پنجابی میں نہیں لکھا لیکن وہ کٹر پنجابی تھے، پنجابیت کا جذبہ ان میں بدرجہ اُتم موجود تھا۔علامہ اقبال برصغیرکے مسلم تشخص کے پاسبان بھی تھے ان کے کلام سے جگہ جگہ عشق مصطفیۖ جھلکتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو خالص مسلمان دیکھنا چاہتے تھے ان کا کلام آفاقی تھا اسی لیے آج تک لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ہمارے لئے خوشی کی بات ہے کہ ہم ان کی برسی کے موقع پر پنجاب ہاؤس میں اکٹھے ہوئے ہیں اور ان کے فلسفے پر بات کر رہے ہیں اور اس شاعر کا ذکر کر رہے ہیں جس نے پنجابی ہونے کا حق ادا کیا اور پاکستان کا تصور پیش کیا ۔
معروف دانشور ندیم رضا نے کہا کہ کسی بھی دھرتی کا مان اس کے بیٹے ہوتے ہیں جن کی تخلیقی صلاحتیں ان کے مقام کا تعین کرتی ہیں علامہ اقبال نے برصغیر میں تصوف کی شمع روشن کی انہوں نے عالمی تصوف کو مقامی سطح پر روشناس کرایا انہوں نے عالمی تصوف اور مقامی تصوف کے درمیان پل کا کردار ادا کیا علامہ اقبال کی عام زندگی میں بھی تصوف کی جھلک نظر آتی ہے ۔علامہ اقبال اُس دور میں تھے جب مقامی سطح پر سکھوں کے حوالے سے خالصہ قوم کے اکٹھے ہونے کا ہندوؤں کے اکٹھے ہونے کا تصور تھا اور تیسرا تصور خلافت عثمانیہ کے بعد مسلمانوں کو متحد کرنے کی ضرورت تھی۔ان کی سوچ امت مسلمہ کو اکٹھے کرنے کی تھی انہوں نے دنیا کے عظیم فلاسفروں جن میں لینن اور گوئٹے بھی شامل ہیں سے شعور لیکر مقامی لوگوں تک پہنچایا ۔اقبال کے شاہین کا تصور خودی اور خوداری کا آئینہ دار ہے امام خمینی کا دنیا کی بڑی طاقتوں کو چیلنج کرنے کا تصور اقبال کے شاہین کے تصور سے مستعار لیا ہوا ہے۔ ہم سب کو علامہ اقبال کے خوداری کے تصور کو آگے لیکر چلنا چاہیے ۔اقبال نے ہر طبقے کے لوگوں کی بات کی ہے انہوں نے مزدور اور بنیادی حقوق کی بات کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اقبال نے بچوں کے لئے اس وقت شاعری کی جب بچوں کے لئے بہت ہی کم لکھا جاتا تھا ۔ صحافی رہنما قاضی طارق عزیزنے کہا کہ مدثر اقبال بٹ نے پنجاب ہاؤس میں پنجاب کے بیٹے علامہ اقبال کے لئے تقریب کا انعقاد کر کے بہت بڑا کام کیا ہے علامہ اقبال نے پنجابی میں نہیں لکھا کیونکہ اس وقت ابلاغ کی دو ہی زبانیں تھیں فارسی اور اردو انہوں نے بھی انہیں زبانوں میں لکھا ہے انہوںنے پاکستان کا تصور ہی نہیں دیا بلکہ اسے تکمیل تک بھی پہنچایا ہے۔ قائد اعظم جب ناراض ہوکر لندن چلے گئے تو آپ نے لکھا تھا” تجھے اس قوم نے پالا ہے جس نے کچل ڈالا تھا تاج سردارا” ۔ایڈیٹر روزنامہ پنجابی زبان میاں آصف علی نے کہا کہ علامہ اقبال نے کسی ایک نظریے کی غلامی نہیں کی بلکہ اپنی فکر پیش کی ، انہوں نے مسلم امہ کا وہ تصور پیش کیا جس کو اس سے پہلے اتنے موثر انداز میں کسی نے بیان نہیں کیا ، علامہ اقبال نے ایک طرف عشق رسولۖ کی بات کی تو دوسری طرف ملا کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ پنجابی دانشور و شاعر آصف رضا نے کہا کہ پنجاب کی دھرتی نے ہمیشہ بڑی شخصیات کو جنم دیا جنہوں نے دنیامیں اپنا مقام بنایا علامہ اقبال بھی پنجاب کی دھرتی کا ایسا ہی بیٹا ہے۔ پنجابی کے سرگرم ورکر رضوان اصغر بٹ نے کہا کہ مصور پاکستان علامہ اقبال اپنے خواب کو حقیقت کرنے کے لیے اپنی شاعری کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں آزادی کا دیا جلایا جس کی روشنی میں برصغیر کے مسلمانوں نے آزادی حاصل کر کے ہی دم لیا، علامہ اقبال ہمارے قومی ہیرو ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ کچھ پنجابی قوم پرست علامہ اقبال، قائد اعظم حتیٰ کہ پاکستان کے نام سے بھی چِڑتے ہیں۔ ہمارے یہی منفی رویے پنجابی تحریک کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہے ہیں، ہمیں اپنی سمت درست کرنا پڑے گی ایسی حرکتوں سے باز رہنا ہو گا پھر ہی کامیابی ممکن ہے پھر ہی عام آدمی پنجابی تحریک کا دست و بازو بنے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں