dr mubarak ali 24

ثقافت اور شناخت!

ڈاکٹر مبارک علی

کلچر سے مراد رسم و رواج، ادب آداب، لباس، غذا، رہائش اور بولی جانے والی زبان ہوتی ہے جو اس ماحول میں پیدا ہوتا ہے کلچر کی یہ روایات اس کی ذات کا ایک حصہ ہو جاتی ہیں۔ اگرچہ کلچر وقت ماحول اورضرورت کے تحت بدلتا رہتا ہے مگر یہ لوگوں کے دل اور دماغ کو متاثر کرتا ہے۔ موجودہ زمانے میں تہذیب اور کلچر کے بارے میں عالموں نے تحقیق کی ہے اس کے نتیجے میں وہ دونوں کے درمیان فرق قائم کرتے ہیں۔
تہذیب اپنی وسعت میں کلچر کے کئی پہلوئوں کو سمو لیتی ہے جبکہ کلچر اپنی انفرادیت کو قائم رکھتا ہے۔ اس موضوع پر ٹیلر سنٹر نے قدیم کلچر کے عنوان سے کتاب میں پہلی مرتبہ کلچر کے بارے میں وضاحت کی ہے۔ اس کے مطابق کلچر کو معاشرے کے افراد اپناتے ہیں اور اس کی روایات کے تحت اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ روایات ان کی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہوتی ہے اور وہ ان کی پیروی کرتے ہوئے کلچر کے ذریعے معاشرے میں اتحاد کو قائم رکھتے ہیں۔
دوسرا سکالر جس نے ثقافت کے موضوع پر مزید تحقیق کی وہ لوئس ہنری مورگن ہیں۔ انہوں نے امریکا کے مقامی باشندوں کا مطالعہ کیا۔ ان رسم و رواج، عادات، روز مرہ کی زندگی دیکھنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ کلچر کئی مراحل سے گزرتا ہے۔ اس کے پہلے مرحلے کو وہ Savage معاشرہ کہتے ہیں۔ اس مرحلے پر معاشرے کے افراد میں جنسی تعلقات کی کوئی پابندی نہیں ہوتی ہے اور وہ ہر طرح سے خود کو آزاد سمجھتے ہیں۔ دوسرے مرحلے کو وہ بابیرنزم کہتا ہے۔ اس عہد میں لوگ کئی عورتوں سے جنسی تعلقات رکھتے ہیں۔ تیسرے مرحلے کو وہ تہذیب کا عہد کہتا ہے۔ اس میں ایک عورت سے شادی کی جاتی ہے اور جنسی تعلقات پر پابندی عائد ہو جاتی ہے۔ اینگلز نے اپنی کتاب ریاست، نجی جائیداد اور خاندان پر لکھتے وقت مورگن سے بہت کچھ لیا ہے۔ ٹیلر اور مورگن دونوں ابتدائی دور کے کلچر کو مادری نظام کے تحت سمجھتے تھے۔ جس میں ماں کی جانب سے خاندان کا سلسلہ چلتا تھا۔
یہ دونوں سکالرز کلچر کی ترقی کو اور اس کے ارتقائی عمل کو ایک جیسا سمجھتے تھے۔ یعنی تمام کلچر ان تین ہی مراحل سے گزر کر تہذیب بنتے ہیں۔ اگر اس کے قانون کو سمجھ لیا جائے تو یہ آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے کہ اگر آج کوئی معاشرہ کلچر کے پہلے مرحلے میں ہے تو وہ وقت کے ساتھ دوسرے مرحلے میں داخل ہو کر پھر تیسرے مرحلے میں داخل ہو کر تہذیب کی شکل اختیار کرے گا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جدید تہذیبیں بھی ان مراحل سے گزر کر یہاں تک پہنچی ہیں۔
اس سٹیج تھیوری کے برعکس ایک جرمن ماہر بشریات کورو ڈو بورس (1991) نے اسکیموز میں جاکر ان کے کلچر کا مطالعہ کیا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ہر کلچر کا ارتقا یکساں طور پر مرحلہ وار نہیں ہوتا ہے، بلکہ ہر ایک کا ارتقائی عمل جدا ہوتا ہے۔ اس نے کلچر کے مطالعے کے لیے یہ بھی ضروری قرار دیا کہ علم بشریات کے عالم اس کو اسی وقت پوری طرح سے سمجھ سکتے ہیں جب وہ قبائل برادریوں اور مختلف کلچر کے ماننے والوں کے درمیان جاکر رہیں۔ ان کی زبان سیکھیں۔ ان کے رسم و رواج کو اختیار کریں اور ان کی ذہنیت کو پوری طرح سے سمجھیں۔
سکالرز اس نتیجے پر بھی پہنچے کہ کلچر کی روایات بڑی گہری اور مضبوط ہوتی ہیں جس کی وجہ سے کلچر کے پیروکاروں میں اس کی مناسب سے شناخت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ لہذا کلچر ان کی ذات کا ایک حصہ بن جاتا ہے اور اس سے ان کا نفسیاتی تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لیے جب یورپی اقوام نے ایشیااور افریقہ کے ملکوں کو فتح کیا اور اسپین نے جنوبی امریکا میں اپنا اقتدار قائم کیا تو ان کی پہلی کوشش یہ تھی کہ مقامی کلچر کو ختم کر کے لوگوں کی شناخت کو مٹا دیا جائے۔ اس کی مثال قدیم چائنہ میں چن خاندان کی حکومت کی ہے جس نے سب سے پہلے چین کو متحد کیا تھا اور چھوٹی ریاستوں کو ختم کر دیا تھا۔ اس خاندان کے حکمران نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ دوسری ریاستوں میں جو تاریخ کلچر اور فلسفے پر کتابیں ہیں ان کو جلا دیا جائے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کی وفاداری صرف چن خاندان سے رہے اور وہ اپنی پرانی شناخت اور کلچر کو بھی بھول جائیں۔
اسی نظریے کے تحت آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکا میں یہ کوششیں ہوئیں کہ مقامی کلچر کو ختم کر دیا جائے، تاکہ لوگ مغربی کلچر میں ضم ہو جائیں اس مقصد کی تکمیل کے لیے ان ملکوں نے پہلا کام یہ کیا کہ مقامی باشندوں کے بچوں کو اغوا کر کے ان کو مغربی طرز کے
اسکولوں میں تعلیم کے لیے رکھا اور کوشش کی کہ وہ نہ صرف اپنی زبانیں بھول جائیں بلکہ اپنی کلچر کی شناخت کو بھی فراموش کر دیں، لیکن یہ تجربہ ناکام رہا اور بچوں کی اکثریت اسکولوں سے فرار ہو کر واپس اپنے علاقوں میں چلی گئی۔ حال ہی میں کینیڈا کے ایک مشنری اسکول سے جسے کیتھولک فرقے کے لوگ چلاتے تھے اس کے زیر زمین حصے سے تقریبا ڈیڑھ سو بچوں کی لاشیں دریافت ہوئی ہیں جنہیں زبردستی مہذب بنانے کے لیے ابتدائی دور کے مشزی یہاں لائے تھے۔ یہ تجربہ امریکا میں ہوا تھا مگر وہاں بھی ناکام رہا۔ جنوبی امریکا میں اسپین اور پرتگال کے حکمرانوں نے مقامی باشندوں کی زبانوں اور کلچر کی کوئی سرپرستی نہیں کی۔ اگرچہ انہوں نے ان کو عیسائی تو بنایا مگر ساتھ ہی ان کی کلچر روایات کو بھی باقی رہنے دیا۔ اس لیے ان کے حکمران طبقے میں خالص یورپین ہیں دوسرے طبقے میں دوغلی نسل کے لوگ ہیں اور تیسرے طبقے میں مقامی باشندے ہیں۔
یورپ کی سامراجی طاقتوں نے کلچر کی اہمیت کو محسوس کر لیا تھا۔ اس لیے جن ملکوں کو انہوں نے ایسی کالونیز بنایا وہاں آہستہ آہستہ باہمی کلچر کو کمزور کر کے یا مغربی کلچر کو ان پر مسلط کیا۔ مثلا ہندوستان میں جب ابتدائی دور میں انگریز آئے تو انہوں نے ہندوستانی کلچر کو اختیار کر کے خود کو یہاں کے معاشرے میں ضم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہندوستانی عورتوں سے شادیاں کیں اور ان کے طور طریق، عادات اور زبانوں کو اختیار کیا، لیکن جیسے جیسے ان کا اقتدار بڑھا انہوں نے ہندوستانی کلچر چھوڑ کر مغربی کلچر کو اختیار کیا، بلکہ اپنے اقتدار کے لیے یہ بھی ضروری سمجھا کہ ہندوستانی کلچر کو کمزور کیا جائے تاکہ اس سے لوگوں کی شناخت نہ رہے اور انہیں آسانی کے ساتھ انگریزی حکومت کو قبول کرنا پڑے۔ اس منصوبے کو انہوں نے تعلیمی اداروں کے ذریعے پیدا کیا۔ جہاں انگلستان کی تاریخ اور ادب کو پڑھایا جاتا تھا۔ انگریزی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے کر لوگوں کو ان کی اپنی بولی جانے والی زبانوں سے کاٹ دیا۔ یہاں تک کہ آہستہ آہستہ تعلیم یافتہ لوگ مغربی تہذیب کے قریب ہوتے چلے گئے۔
بنگال میں جو لوگ سرکاری دفتروں میں کام کرتے تھے۔ دفتری اوقات میں تو وہ مغربی لباس پہنتے تھے مگر گھر واپس آکر وہ فورا ہی لباس تبدیل کر کے اپنا روایتی لباس پہن لیتے تھے۔ مغربی کلچر کی یہ مخالفت آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی گئی اور ایک وقت وہ آیا کہ تعلیم یافتہ اور شہری لوگ تو مغربی کلچر میں ڈھل گئے مگر دیہات کے لوگ پرانے کلچر سے وابستہ رہے۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں قوم کی تشکیل نہ ہو سکی۔ موجودہ دور میں جسے عالمگیریت کیا جاتا ہے۔ یہ ایک لحاظ سے امریکی اور مغربی کلچر ہے جو دنیا کے دوسری کلچروں کو ختم کر کے ان کو گلوبل بنا رہا ہے۔ جب تک مقامی کلچر محفوظ رہے تھے اس کی وجہ سے دنیا میں رنگینی اور دلکشی تھی اگر ایک ہی کلچر کا غلبہ ہو جائے تو زندگی میں یکسانیت آجاتی ہے۔ اگر قوموں کی ثقافتی شناخت ختم ہو جائے تو اس کا دوسرا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں اپنے ملک اور قوم سے تعلق ختم ہو جاتا اور سرمایہ دارانہ منڈی میں ان کی حیثیت صارفین کی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی سرمایہ دار مقامی ثقافتوں کو ختم کر کے لوگوں کی شناخت کو بھی مٹا رہے ہیں۔(DW)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں