fast-heartbeat 36

کیا تیز دھڑکنیں دماغی بیماریوں کی وجہ بن سکتی ہیں؟

اسٹاک ہومسویڈن میں کیے گئے ایک تفصیلی مطالعے میں دل کی تیز دھڑکنوں اور دماغی بیماریوں کے درمیان واضح اور مضبوط تعلق سامنے آیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال دھڑکنوں کی تیز رفتار کو دماغی امراض کی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی ڈاکٹر یومی ایماہوری کی قیادت میں یہ مطالعہ 60 سال یا زیادہ عمر کے 2,147 رضاکاروں پر کیا گیا جو اسٹاک ہوم کے رہائشی تھے۔

12 سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں خاص طور پر یہ جائزہ لیا گیا کہ بڑھاپے میں (آرام کرتے دوران) دھڑکنوں کی رفتار اور دماغی بیماریوں کے خطرات میں کوئی تعلق ہے یا نہیں؟

واضح رہے کہ بالغ اور عمر رسیدہ افراد کا دل، آرام کرتے دوران، اگر ایک منٹ میں 60 سے 100 مرتبہ دھڑک رہا ہو تو اسے معمول کے مطابق یعنی ’’نارمل‘‘ سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دھڑکنوں کی رفتار 60 سے 65 فی منٹ ہو تو یہ اچھی صحت کی علامت ہے۔

البتہ، اگر یہ رفتار 70 دھڑکن فی منٹ سے زیادہ ہوجائے تو بالخصوص ادھیڑ عمر اور بوڑھے افراد کو ہوشیار ہوجانا چاہیے کیونکہ دھڑکنوں کی یہی زیادہ رفتار، آنے والے برسوں میں دل اور شریانوں کی خطرناک بیماریوں کی وجہ بن سکتی ہیں؛ جو اپنی شدید صورت میں جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔

ریسرچ جرنل ’’الزائیمرز اینڈ ڈیمنشیا‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والے اس نئے مطالعے میں ماہرین کو معلوم ہوا کہ جن افراد میں دورانِ آرام دھڑکنوں کی رفتار 80 فی منٹ یا زیادہ تھی، ان میں بعد ازاں ڈیمنشیا کا خطرہ، 60 سے 69 دھڑکن فی منٹ والے افراد کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ تھا۔

بتاتے چلیں کہ ڈیمنشیا کوئی ایک دماغی بیماری نہیں بلکہ دماغ کو نقصان پہنچانے والی مختلف علامات کا مجموعی نام ہے جن میں یادداشت، توجہ اور ابلاغ (کمیونی کیشن) کی صلاحیتیں کم ہوجانے کے علاوہ تجزیئے، فیصلہ سازی اور مسائل حل کرنے میں مشکلات کا بڑھ جانا وغیرہ شامل ہیں۔

ڈیمنشیا کی سب سے عام قسم ’’الزائیمر کی بیماری‘‘ ہے جو 65 سال یا زیادہ عمر کے افراد کو لاحق ہوسکتی ہے۔ 2020 تک ڈیمنشیا کے مریضوں کا عالمی تخمینہ 5 کروڑ 50 لاکھ تھا جو 2050 تک 14 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

یہ خطرہ ان افراد کےلیے دل کی بیماریوں کے علاوہ تھا جو تیز دھڑکنوں کی وجہ سے انہیں ہوسکتی تھیں۔

ڈاکٹر یومی کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جو دھڑکن کی رفتار اور ڈیمنشیا میں واضح تعلق کو ثابت کرتی ہے۔

البتہ ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ تیز دھڑکنوں کو ڈیمنشیا کی وجہ قرار دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس کےلیے مزید تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہوگی۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں