Women rebot 53

یہ خاتون روبوٹ شاعری اور مصوری کرسکتی ہے

آکسفورڈ: تصویر میں انسانی خدوخال سے قریب ایک خاتون روبوٹ دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ دنیا کی پہلی روبوٹ ہے جو مصوری کے علاوہ شاعری بھی کرسکتی ہے۔

آکسفورڈ کے انجینئر ایڈین میلر نے اسے ڈیزائن کیا ہے۔ اسی ہفتے ایڈا نے اطالوی شاعر دانتے کی زمین پر ایک نظم لکھی ہے جو ’ڈیوائن کامیڈی‘ جیسی ہے۔ اس کے سافٹ ویئر اور الگورتھم نے پہلے دانتے کی تقاریر اور تحریر کو پڑھا اور اپنے ڈیٹا سے مناسب الفاظ کو استعمال کرتے ہوئےاشعار کہے ہیں۔ ایڈن میلر کے مطابق دانتے کی زمین پر لکھی گئی یہ نظم بہت گہری اور احساس سے بھرپور ہے۔

“We looked up from our verses like blindfolded captives,

Sent out to seek the light; but it never came

A needle and thread would be necessary

For the completion of the picture.

To view the poor creatures, who were in misery,

That of a hawk, eyes sewn shut.”

میلر نے اخباری نمائیندوں کو بتایا کہ روبوٹ میں لکھنے کی صلاحیت غیرمعمولی ہے اور پڑھنے والوں کو جب تک نہ بتایا جائے تووہ یہ سمجھے گا کہ اسے انسان نے لکھا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسان نما روبوٹ جلد ہمارے گھروں میں ہوں گے اور اس ٹیکنالوجی سے ہم ان کے برتاؤ، روبوٹ ضوابط اور اخلاقیات کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ روبوٹ انسانوں کے سامنے ان کی نقل کرتا ہے اور انسان سے سیکھتا رہتا ہے۔

آئی ڈا شاعری کے علاوہ مصوری بھی کرسکتی ہے۔ جب وہ قاہرہ میں اہرامِ مصر کی حدود میں داخل ہوئی تو سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے روکا اور اس کی آنکھوں میں لگے کیمرے نکالنے کے عجیب کوشش بھی کی ہے۔ روبوٹ نے اسی واقعے سے متاثر ہوکر ’آئیز وائڈ شٹ‘ نامی ایک نظم لکھی۔

اس موقع پر انجینیئر ایڈن نے بتایا کہ اس دنیا میں ٹٰیکنالوجی کا خوف اور اس سے اضطراب موجود ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی ڈی مصوری کی نقل کرنے کی ماہر ہے اور شاعری کی نقالی بھی خوب کرتی ہے۔ اسے دس نظمیں پڑھادیںیا پانچ تصاویر دکھائیں تو یہ خود اپنی تخلیق کرنے لگتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں